PMS CSS Preparation
17/09/2024
✨کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے ایک رفوگر رکھا ہوا تھا🙂
وہ کپڑا نہیں باتیں رفو کرنے کا ماہر تھا🤗
وہ بادشاہ سلامت کی ہر بات کی کچھ ایسی وضاحت کردیتا کہ سننے والے سر دھننے لگتے کہ واقعی بادشاہ سلامت نے صحیح فرمایا🤪
ایک دن بادشاہ سلامت دربار لگا کر اپنی جوانی کے شکار کی کہانیاں سنا کر رعایا کو مرعوب کر رہے تھے😍
جوش میں آکر کہنے لگے کہ ایک بار تو ایسا ہوا کہ میں نے آدھے کلومیٹر سے نشانہ لگا کر جو ایک ہرن کو تیر مارا تو تیر سنسناتا ہوا گیا اور ہرن کی بائیں آنکھ میں لگ کر دائیں کان سے ہوتا ہوا پچھلی دائیں ٹانگ کے کھر میں جا لگا😱
بادشاہ کو توقع تھی کہ عوام داد دے گی لیکن عوام نے کوئی داد نہیں دی🤔
وہ بادشاہ کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے😔
بادشاہ بھی سمجھ گیا کہ ضرورت سے زیادہ لمبی چھوڑ دی🤣
اپنے رفوگر کی طرف دیکھا🥳
رفوگر اٹھا اور کہنے لگا
حضرات میں چشم دید گواہ ہوں اس واقعے کا
دراصل بادشاہ سلامت ایک پہاڑی کے اوپر کھڑے تھے اور ہرن بہت نیچے تھا🤗
ہوا بھی موافق چل رہی تھی ورنہ تیر آدھا کلومیٹرکہاں جاتا ہے🤔
جہاں تک تعلق ہے آنکھ کان اور کھر کا تو عرض کردوں کہ جس وقت تیر لگا ہرن دائیں کھر سے دایاں کان کھجا رہا تھا😍
عوام نے زور زور سے تالیاں بجا کر داد دی👋
اگلے دن رفوگر بوریا بستر اٹھا کر جانے لگا😯
بادشاہ پریشان ہوگیا😳
پوچھا کہاں چلے؟🤔
رفوگر بولا
بادشاہ سلامت میں چھوٹے موٹے تروپے ( ٹانکے) لگا لیتا ہوں شامیانے نہیں سیتا..🪶🤨🤣😜
منقول
قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں کہ جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا ۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا "بیت المال کس طرف ہے؟"
میں نے پوچھا بیت المال میں تمہارا کیا کام ؟
بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا ؛ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں، اب انہیں اس "کھوتی" پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں ۔
ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں ۔
آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا ۔ مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں
17/04/2024
𝗧𝗵𝗲 𝗚𝗿𝗮𝗻𝗱 𝗧𝗿𝘂𝗻𝗸 (𝗚𝗧) 𝗥𝗼𝗮𝗱
The Grand Trunk (GT) Road is a significant transportation route. Sher Shah Suri constructed it, and it served as the primary commerce route connecting Kolkata and Kabul.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Lahore