Dynamic Legal Solution
عزیزو!
انکم ٹیکس کا ترمیمی بل پاس ہوچکا ہے، ایسے مسودے کے اندر صرف وہ مین پوانٹس ہوتے ہیں جن کی اجازت مانگی گئی ہو پھر منظوری ملنے کے بعد ہر سیکشن کے رُولز مرتب ہوتے ہیں کہ کونسے پوائنٹ پر کس طرح سے عملدرآمد ہوگا۔
آئندہ چند روز میں جب یہ چیزیں قانون کا حصہ بن جائیں گے تب میں آپ کو تفصیلی آگاہی بھی دے دوں گا فی الحال وہ چند پوائنٹس بتا رہا ہوں جن کی منظوری دی گئی ہے۔
1۔ نان فائلرز اب موٹرسائیکل، رکشہ اور ٹریکٹر کے علاوہ کوئی گاڑی نہیں خرید سکیں گے۔
2۔ نان فائلرز کسی کار کمپنی یا ڈیلر سے نئی گاڑی نہیں بک کرا سکیں گے۔
3۔ نان فائلرز اگر اوپن مارکیٹ سے گاڑی لے لیں گے تو اپنے نام پر رجسٹر یا ٹرانسفر نہیں کرا سکیں گے۔
4۔ ٹرانسپورٹ کمپنیز اپنے لئے بس یا ٹرک خریدنا چاہیں تو اس کیلئے اجازت لینی پڑے گی۔
5۔ ٹیکس ریٹرن میں اپنی مالی حیثیت ظاہر کئے بغیر جائیداد لیں گے تو اس کی رجسٹری نہیں ہو سکے گی، مالی حیثیت ظاہر کی ہے لیکن جائیداد خریدنے کیلئے بینک ٹو بینک پیمنٹ نہیں کریں گے تو اس جائیداد کی کل مالیت پر جرمانہ عائد ہو جائے گا، جائیداد ضبط بھی ہو سکتی ہے۔
6۔ اب ٹیکس ڈیپارٹمنٹ آپ کے بینک اکاؤنٹس کو ڈائریکٹ دیکھ سکے گا کہ اس میں کتنی رقم آئی گئی ہے اور آپ نے ریٹرن میں کتنی انکم دکھائی ہے اور کتنی ٹرانزیکشن چھپائی ہے۔
7۔ نان فائلرز اب بیسک بینک اکاؤنٹ یا آسان اکاؤنٹ کے علاوہ کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں کھلوا سکیں گے، بیسک یا آسان اکاؤنٹ میں آپ سال بھر کے اندر تقریباً پانچ لاکھ سے زیادہ رقم کریڈٹ نہیں کر سکتے۔
8۔ نان فائلرز کے موجودہ سیلریڈ اینڈ بزنس اکاؤنٹس جن میں ٹیکس ایبل سطح کا کریڈٹ آتا ہے یہ فائلر نہیں ہوں گے تو ان کے اکاؤنٹس فریز ہو سکتے ہیں۔
9۔ اب ہر قسم کے بینک اکاؤنٹ سے رقم جمع کرانے اور نکالنے پر ایک لمٹ نافذ ہوگی، اس کی وجہ یہ کہ لاکھوں لوگ انکم ٹیکس میں مائینر سی انکم دکھاتے ہیں جبکہ ان کے اکاؤنٹ میں کئی گنا زیادہ رقم آئی گئی ہوتی ہے لہذا کسی فارمولے سے اس کو لمیٹائز کیا جائے گا تاکہ لوگ صحیح انکم بتائیں اور اس سے سوا گنا یا ڈیڑھ گنا تک کریڈٹ کی لمٹ لے لیں۔
10۔ سیلزٹیکس ایبل دکاندار، ٹریڈرز اینڈ ریٹیلرز، جو سیلزٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں ان کے بینک اکاؤنٹس اور پراپرٹیز فریز یا سِیل کی جا سکتی ہیں۔
اب کونسا کام کیسے ہوگا ان سب باتوں کی تفصیلات قانون کی کتاب اپڈیٹ ہونے کے بعد پتا چلیں گی۔
FBR_NEW_UPDATES
پراپرٹی خریدتے وقت کیش میں ادائیگی -زیادہ انکم ٹیکس کےلئے تیاری🤔
جولائی 2024 سے پہلے، پراپرٹی پر کیپٹل گین ٹیکس (CGT) مختلف سلیبز میں لاگو تھا اور اگر کوئی شخص پراپرٹی کو چھے سال تک ہولڈ کرتا تھا تو CGT کی چھوٹ دی جاتی تھی۔ تاہم، جولائی 2024 کے بعد خریدی گئی پراپرٹی پر آپ کو 15 فیصد CGT دینا ہوگا، چاہے آپ پراپرٹی اگلے ہی دن بیچیں یا دس سال بعد۔
انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 75-A کے مطابق، اگر آپ 5 ملین (پچاس لاکھ) یا اس سے کم قیمت کی پراپرٹی خرید رہے ہیں تو آپ اس کی قیمت کیش میں ادا کر سکتے ہیں۔ پراپرٹی کی قیمت 50 لاکھ سے زیادہ ہے تو خریدار کو بینک کے ذریعے ادائیگی کرنا ہوگی، چاہے چیک ہو یا پے آرڈر۔
اگر آپ نے 70 لاکھ میں پراپرٹی خریدی اور کیش میں ادائیگی کی۔ کچھ وقت بعد اسے 90 لاکھ میں بیچ دیا اور 20 لاکھ کے کیپٹل گین پر 15 فیصد ٹیکس بھی ادا کر دیا۔ چونکہ آپ نے 70 لاکھ کی پراپرٹی کیش میں خریدی تھی اس لیے ایف بی آر آپ کو نوٹس بھیج کر اس پراپرٹی کی فروخت پر 70 لاکھ کا کیپٹل گین تصور کرے گا اور آپ کو اس پوری رقم پر ٹیکس دینا پڑے گا۔
اگر آپ نے پچاس لاکھ کی پراپرٹی کیش میں خریدی، تو مزید 5 فیصد جرمانہ بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لہٰذا، اپنی ٹیکس ریٹرنز اور مالی امور ہمیشہ احتیاط سے مکمل کریں تاکہ بڑی مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔
15/10/2024
*ایف بی آر*
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں 31 اکتوبر تک توسیع کردی گئی۔
Dynamic Legal Solution
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the practice
Telephone
Website
Address
2nd Floor, Akram Mansion, Nila Gumbad
Lahore
54000