Secular Democratic Pakistan Movement
working to prevail tolerance, inter-religious harmony and scientific thoughts amongst the people.
04/11/2025
"Bullah, who knows who I am?"
"I am not in the mosque, nor in the temple."
13/02/2024
'ہندوستانی معاشرے میں فرقہ واریت اور بنیاد پرستی کا تاریخی ارتقاء۔'
انگریزوں کے 1757 میں ہندوستان پر قبضہ کرلینے کے بعد برصغیر کے سماجی،ثقافتی، مذہبی اور سیاسی ڈھانچے کے طرز فکر میں کافی تبدیلیاں رونماہوئیں۔ انگریز کے دور میں ہماری ثقافتی اقدار تیزی سے تبدیل ہوئیں، ہزاروں سال پرانا (کامیاب) دیہاتی سماج بھی تبدیل ہوا اور شہریت یا شہر میں رہنے کو تہذیب سے جوڑ دیا گیا۔ یہ دو الگ الگ سماجوں کا ملاپ تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے سے بہت کچھ مستعار لیا۔ مگر وہیں کولونئیل سامراج نے ہمیں غلام بنائے رکھنے کے لیے ہمارے اندر ہی گروہی اختلافات پیدا کرنے کی بھرپور کوششں کی۔ ہماری سماجی و مذہبی اقدار میں فرقہ واریت اور شدت پسندی کا زہر اسی دور کی یادیں ہیں.
یاد رکھیں مذہب کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا. مذہب کی اخلاقی تعلیمات، دعا و مناجات، روحانیت و تصوف یہ سب ہمارے سماج اور کلچر کا ماضی سے حصہ رہا ہے. درگاہوں، مزارات پر عرسیہ تقریبات، لنگر اور کھانے کی فراہمی، اہم یادگاری دنوں میں میلے ٹھیلے، ختم شریف کے اہتمام اور محلےداروں، اقربا اور غریبوں مسکینوں میں کھانا، کپڑے اور نیاز کی تقسیم یہ سب ہمارے سماج کی سینکڑوں سال پرانی صوفی روایات کا خوبصورت حصہ ہیں اور رہنا بھی چاہیے. اسی طرح عیدین، رمضان، ہولی اور دیوالی، میلے ٹھیلے، بیساکھی، لوڑی کے ثقافتی اور علاقائی تہوار اسی طرح جمعے کے اجتمعات ہمارے برصغیر کے صدیوں سے چلی آرہی باہمی یگانگت، بھائی چارے اور رواداری و سانجھ کی شاندار روایات کا اظہار رہا ہے۔
خصوصاً پنجاب میں ہم جانتے ہیں کہ پہلے ایک ہی گاؤں میں مسلم، ہندو، سکھ سب مل جل کر بھائی ویروں کی طرح رہتے تھے. میں دعوے سے چیلنج کرتا ہوں انگریز کے برصغیر (خصوصا پنجاب) پر قابض ہونے 1848 سے پہلے پنجاب کے کسی گاؤں، شہر میں ایک بھی ہندو، مسلم یا سکھ فساد کی کوئی مثال نکال کر دکھادیں۔ ہزار سال میں ایک بھی واقع نہیں ملے گا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ 1947 تک بھی ایسا کوئی واقع نہیں ملتا۔
"تقسیم کرکے راج کرو" عالمی استعماری طاقتوں کی پرانی ترکیب ہے۔ انگریز نے بھی یہی کیا۔ انگریز کے آنے کے بعد یہاں پہلی دفعہ نا صرف یہ کہ سید احمد خان جیسے انگریزی ملازم سامنے آئے جنھوں نے پہلی دفعہ ہندوستانی تاریخ میں مذہبی تقسیم کو فروغ دیا۔ اور ہند میں بسنے والے محمڈن لوگوں کو پہلی بار قوم کے طور پر پیش کیا۔ یوپی سے تعلق رکھنے والے انگریزی وفاداری کا حلف اٹھا نے اور غلامی کا دم بھرنے والے اس سرکاری ملازم نے ملازمت میں حیران کن ترقی حاصل کی. محض ایک کلرک بھرتی ہونے والا سید احمد چند سالوں میں سرکار کا ایسا منظور نظر ہوا کہ ڈپٹی کلکٹر اور جج تک بن گیا۔
یہ سید احمد خان ہی تھا جس نے ہندوستانی تاریخ میں پہلی بار محمڈنز کو اپنے ہم وطن ہندوؤں سے نفرت جبکہ اپنے ملک پر قابض سات سمندر پار سے آئے بدیشی انگریز سے وفاداری کا درس دیا۔ انکے لکھے گئے اس زمانے کے کتابچے جیسے "اسباب بغاوت ہند" اور دیگر رسائل و پمفلٹ ہندو مسلم علیحدگی اور مسلم انگریز دوستی کے فلسفے کے سبق سے بھرے ہوتے تھے۔ سہی معنوں میں نام نہاد دوقومی نظریے کا خالق یہی انگریزی ملازم تھا۔ اسنے برطانوی سرکار کے تقسیم کرکے راج کرو کے عمومی نظریے اور فلسفہ کو عملی طور پر معاشرے میں پھیلایا. بظاہر اس سونپے گئے مشن میں یہ شخص اکیلا نہیں تھا بلکہ کچھ دیگر لوگ بھی اسی سرکاری بیانئے کی ترویج اور سرکار کی خدمت میں پیش پیش تھے۔
ایسا ہی ایک کردار ہندو لیڈر دیوانند سوامی تھا۔ اس نے آریا سماج نامی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ انسویں صدی کی آخری چوتھائی میں ہی ایک اور ہندو قوم پرست تحریک برہمو سماج تھی۔ اسکی بنیاد ہندو مفکر رام موہن رائے نے رکھی تھی۔ پھر مشہور زمانہ ہندوتوا نام کی نئی ہندو قومیت پرستی کے نظرئیے کا اجرا بھی پہلی جنگ عظیم کے بعد اسی انگریز دور میں ہوا۔ ہندوتوا کے نئے تنگ نظر اور خالص ہندو برتری کے حامل نظرئے کا بانی مشہور انگریز نواز ہندو لیڈر دھمودر سوارکر تھا۔ مشہور دائیں بازو کی انتہا پسند اور مسلم دشمن جماعت آر ایس ایس کی بنیاد بھی اسی نے رکھی تھی.
یاد رہے 1861 کی پہلی مردمشماری کے وقت جب اندراج کرنے والے پنجاب کے دیہاتوں میں لوگوں کے گھروں میں پہنچے تو وہ یہ دیکھ کر حیران ہوگئے تھے کہ عام دیہاتی مذہب کی تفریق سے ناواقف تھے۔ شاید اس کے بعد ہی انگریز نے تفریق پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا کیونکہ یہ وہی وقت تھا جب مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں میں پہلی بار فرقہ واریت متعارف کروائی گئی۔حیرت انگیز طور پر تقسیم اور مسلکی نفرت کو پروان چڑھانے والی ایسی تمام سرگرمیوں کا مرکز ہندوی یا ہندوستانی زبان بولنے والے شمالی ہندوستان کے علاقے تھے (سوائے برہمو سماج کے جو بنگال میں شروع ہوئی اور قادیانیت پنجاب میں) یعنی موجودہ یوپی، ہریانہ، بیحار وغیرہ۔
اسی زمانے میں مسلمانوں میں بھی مذہبی اصلاح کی بہت سی نئی تحریکوں نے جنم لیا. ایک طرف یوپی کے دیوبند نامی چھوٹے سے قصبے میں مسلمانوں کا ایک مدرسہ قائم کیا گیا جسکا مقصد مسلمانوں کے اندر ایک نیا فرقہ تیار کرنا تھا جہاں اصلاح دین اور شریعت کے خالصے کے نام پر نئی مذہبی کلاس پیدا ہوئی جو خود کو علمائے اسلام کہلانے لگے اسی گروہ نے بعدازاں بے شمار مسلم قوم پرست تحاریک کی بنیادیں رکھیں جیسا کہ تحریک لااحرار، جمیعت علماء ہند، جماعت اسلامی، خاکسار تحریک وغیرہ. ان سب جماعتوں میں ایک بات مشترک تھی اور وہ تھی سرکار سے وفاداری۔
نیز عام بھولے بھالے دیہاتی مسلمانوں کو عقائد، شریعت، عبادات، دعوت و تبلیغ اور شرک و بدعت کے خاتمے کے نام پر مذہبیت کی طرف لے کر آئیں تاکہ انکی توجہ سرکاری مظالم کی طرف نہ جائے اور یوں آئیندہ 1857 جیسی بغاوت پیدا ہی نہ ہونے پائے اور یوں سات سمندر پار سے آئے ہوئے مٹھی بھرانگریز اس عظیم ملک پر غیر قانونی قابض رہیں اور ہندوستان انکی وفادار غلام کالونی بنا رہے۔ اور وہ اسکی دولت لوٹنے میں آرام سے بے فکر ہو کر مصروف رہیں۔
حتی کہ1906 میں وائسرائے ہند لارڈ کرزن کی تجویز پر قائم ہونے والی مسلم لیگ کے ابتدائی منشور کے مطابق بھی اس نئی جماعت کا مقصد انگریز اور مسلمانانِ ہند کے درمیان اچھے تعلقات پیدا کرنا تھا۔ مسلم لیگ کے بانی قائدین مسلم اشرافیہ کے سرکردہ اور سر سید کے علی گڑھ مسلم کالج کے فارغ التحصیل نواب اور امام تھے۔
انگریزی سرکار کی حکمت عملی بہت گہری تھی انھوں نےصرف برصغیر کے لوگوں کی سماجیات اور طرز معاشرت کو ہی نہیں بدلا بلکہ انکی معتدل سوچ میں شدت پسندی، عدم برداشت اور عسکریت پسندی بھی انڈیلی۔ 1830 کی دہائی میں پنجاب کی سکھ سلطنت میں سید احمد بریلوی کی شروع کردہ وہابی جہادی تحریک نے خصوصاً ہزارہ اور ملحقہ پختونخوا و پنجاب کے لوگوں میں پہلی مرتبہ عسکری رجحان پیدا کیا۔ حیرت انگیز طور پر یہ جہادی تحریک انگریز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف ہر گز نہیں تھی بلکہ یوپی کے سید احمد بریلوی کی تمام تر جہادی توجہ مقامی پشتون مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف تھی۔ اس جہاد نے بھی پنجابی-پشتون مسلمانوں کے بیچ اور مسلمانوں-سکھوں کے بیچ نفرت کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جسکا نتیجہ ہم نے سینتالیس کی پنجاب کی تقسیم کے دوران ہونے والے خون خرابے اور فسادات کی صورت اور بلا آخر طالبانائزیشن کی شکل میں دیکھا اور بھگتا بھی۔۔۔!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Website
Address
Infantry Road Near Fortress Stadium Lahore Cantt
Lahore