Competitive Exams

Competitive Exams

Share

12/10/2020

*سی ایس ایس2021 کے امتحانات کے لیے ملک بھر میں رجسٹریشن کا آغاز آج سے شروع ہوگیا۔*

اسلام آباد سرکاری ذرائع کے مطابق ملک بھر سے تمام تر امیدوار جو سی ایس ایس

2021 کے امتحانات میں شرکت کرنا چاہتے ہیں وہ 5 اکتوبر 2020 سے

آن لائن رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق طلبہ سی ایس ایس 2021 کے امتحانات میں شرکت کے لیے فیڈرل

پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) پورٹل پر درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔

جب کہ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 3 نومبر ہے۔

یاد رہے کہ درخواست دہندگان کو لازمی دستاویزات کے ساتھ اپنی درخواست کی

ہارڈ کاپی فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے

ہیڈ کوارٹر میں 13 نومبر 2020 سے پہلے جمع کروانا ہوگی۔

سی ایس ایس کے امتحانات 18 فروری 2021 سے ملک کے 19 شہروں میں ہوں گے۔

جن میں سکر، ایبٹ آباد، بہاولپور، ڈی جی خان، ڈی آئی خان، فیصل آباد، گلگت، گوجرانوالہ،

حیدرآباد، اسلام آباد، کراچی، لاہور، لاڑکانہ، ملتان، مظفر آباد، پشاور،

کوئٹہ، راولپنڈی اور دیگر شامل ہیں۔

گریجویشن میں سیکنڈ ڈویژن رکھنے والے 21 سے 30 سال کے بعد مرد و خواتین

بشمول خصوصی افراد امتحانات دینے کے اہل ہوں گے جب کہ

خصوصی افراد کے لیے عمر میں 2 سال کی رعایت ہوگی۔

سی ایس ایس امتحان کی تیاری کے لیئے کن باتوں کو مدنظر رکھنا چاہیئے ؟

یہ ذہن میں رہے کہ سی ایس ایس میں سلیکشن ننانوے فیصد میرٹ پر ہوتی ہے،

ایسے بھی طالب علم تھے جن کے پاس پہننے کو جوتے نہیں تھے

انہوں نے بھی سی ایس ایس پاس کیا .

ایسے طالب علم بھی تھے جو ٹیویشن پڑھاتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ

سی ایس ایس کی تیاری بھی کرتے تھے.

ایسے بھی تھے جنہوں نے مشکلات کے باجود بھی سی ایس ایس کیا

ایسے لوگوں کی مشکلات ہی ان کی طاقت بنتی ہے ۔

یہ ممکن ہے کہ کسی کا تعلق کھاتے پیتے گھرانے سے ہو اس کے پاس ہر طرح اسائشیں ہوں

لیکن وہ امتحان میں رہ جائے ۔

سی ایس ایس ایک مزاج ہے جس میں بندہ پڑھتا ہے ، لکھتا ہے اور سیکھتا ہے۔

اس امتحان میں کامیابی اسی کو ملتی ہے جو آخر تک تیاری کرتا رہتا ہے

اگر کوئی یہ کہے کہ میں نے چارماہ دل لگا کر تیار ی کی ہے اب کچھ ریسٹ کر لیاجائے.

پھر نئے جذبےکے تحت تیاری کروں گا ایسے شخص کےلیے امتحان پاس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اگر سی ایس ایس کے امتحان میں بیس ہزار لوگ اپلائی کرتےہیں

توتین چار ہزار لوگ امتحان میں بیٹھتے ہی نہیں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ

وہ پریشر کو مینج نہیں کر پاتے۔

جو امتحان دینا چاہتا ہے اسے سمجھنا چاہیے کہ اس امتحان کے تین چانس ہیں

اگر نہ دیا یہ تب بھی ضائع ہو جائیں گے اگر دیا اور پاس نہ ہوسکا تب بھی ضائع ہو جائیں گے.

بہتر یہ ہے کہ امتحان دیا جائے جس شخص کے ذہن میں یہ بیٹھ جائے اگر پاس نہ ہوسکا

تو کیا ہوگا ؟

اس سے دماغ میں پریشر آجاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی آدھی توانائی ضائع ہو جاتی ہے۔

کیو نکہ جلدی ،گھبراہٹ اور غصہ ان تین حالتوں میں بندہ غلطی کرتا ہے

اگران تینوں کو مینج کیا جائے تو تیاری میں آسانی ہو جاتی ہے ۔

گروپ سٹڈی کرنی چاہیے اس سے یہ آسانی ہو تی ہے کہ گروپ میں کسی

کو ایک مضمون کے بارے میں کچھ بھی پتا نہیں ہے دوسرے کے بتانے سے اس کےعلم میں بھی اضافہ ہو جائے گا ۔

اور پھر نفسیات یہ کہتی ہے کہ بندہ جب دوسرے کو بتاتا ہے

تو وہ انسان کی میموری میں محفوظ ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔

پھر وہ چیز بھولتی نہیں ہے اچھی تیاری کے لیے بہتر یہ ہے کہ جو کچھ پڑھا ہے۔

اس کا بار بار ٹیسٹ دیا جائے اس سے تیار ی میں آسانی ہو گی۔

روز کسی ایک انگلش اخبار کو ضرور پڑھنا چاہیے لیکن اس کو ذہن پر سوار نہ کیا جائے کہ

مجھے روز اخبار پڑھنا ہے بلکہ اس کو انجوائے کریں۔

جو شخص امتحان دینا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ خود سے تیاری کرنے کی بجائے

کسی اچھے استاد سے پڑھے اور تیاری کرے اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ

ایک روٹین بن جائے گی لیکن کسی ایسی جگہ نہ جائیں جو سبز باغ بیچ رہے ہوں ۔

لیکن اگر کسی سے تیاری نہیں کرنا چاہتے تو کم ازکم انگلش کی تیاری کسی اچھے استاد سے

ضرروکریں کیو نکہ نوے فیصد ایسے طالب علم ہوتے ہیں جن کو انگلش کی تیاری ضرورت ہوتی ہے ۔

آپشنل مضمون ریوائز ہو گئے ہیں اور جو لازمی ہیں وہ اسی طرح ہیں۔

برصغیر کی تاریخ کے پہلے دوسو نمبر ہوتے تھے اب سو کر دیئے گئے ہیں ۔

انٹرنیشنل ریلیشن کے بارے میں سب سے زیادہ معلوم ہونا چاہیے ۔

پاکستان افیئر کے سونمبر ہیں اس میں بھی ستر سے اسی نمبر کا تعلق انٹرنیشنل ریلیشن سے ہے ۔

جبکہ انٹرنیشنل ریلیشن کے خود دوسو نمبر ہیں پھر انٹرنیشنل لاء آجاتاہے ۔

نئے مضامین میں جنڈر سٹدیز نیا مضمون آیا ہے یہ خواتین کے حقوق کے بارے میں ہے یہ مضمون قدرے آسان ہے ۔

اسی طرح سوشیالوجی بھی آسان مضمون ہے ،پہلے لوگ عربی اور فارسی رکھتے تھے ۔

ان کے دوسو نمبر ہوتے تھے اب ان دونوں مضامین کو سایئڈ پر کر دیا گیا ہے۔

اب ان کے سو نمبر کر دیئے ہیں علاقائی زبان کوضرور رکھیں اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ

جو پروفیسرز صاحبان ہوتےہیں۔

ان کی اپنی اس زبان سے وابستگی ہوتی ہے اور وہ اپنے مضمون کو پرموٹ کرتے ہیں۔

اگر کسی طالب علم کا سائنس کا بیک گراؤنڈ ہے تو اس کو چاہیے

کہ انوائرمینٹل سائنسز نیا مضمون ہے

اس کو رکھیں اس کے ساتھ ٹاؤن پلاننگ رکھیں اس میں یہ ہوگا کہ

ایک مضمون کا پڑھا ہوا دوسرے مضمون میں کام آتا ہے۔

12/10/2020

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
اجتماع راۓونڈ 8,7,6 نومبر 2020 میں آنے کے لحاظ سے مزید تفصیلات وقیودات۔

8 علاقوں سے آنے والے افراد کی تعداد،
کراچی» 9600
پشاور» 9600
لاھور» 6000
سوات» 6000
ملتان» 6000
ڈیرہ اسماعیل خان»6000
بلوچستان» 6000
فیصل آباد» 4800

،راۓونڈ سے ایک خاص پرچہ مذکورہ علاقوں والوں کو ملیگا اس پر 12 پرانے ساتھیوں کے نام بمع شناختی کارڈ نمبر لکھ کر اجتماع میں آئیں گے۔
، اور ہر ساتھی کے پاس اوریجنل شناختی کارڈ پاس ہوگا اور ماسک لگایا ہوگا تو اجتماع گاہ میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی ورنہ نہیں۔

اور جماعت کے بغیر انفرادی طور پر کسی کو اجتماع گاہ میں داخلہ کی اجازت نہیں ہوگی۔
،اور اجتماع گاہ کی چار دیواری کے اندر ہی تمام ضروریات کا انتظام ہوگا۔
،لھذا ایک دفع اندر جانے کے بعد دعاء سے پہلے باہر آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
،اور اجتماع گاہ میں ٹہرنے اور سونے کی ترتیب یہ ہوگی کہ دو بستر کی بیچ میں ایک بستر کے بقدر فاصلہ رکھیں گے۔
،بیانات میں بھی مناسب فاصلہ سے بیٹھیں گے۔
،چونکہ جماعتوں کا خروج محدود یے یعنی ایک ساتھ نکلنا منع ہے۔
اسلۓ اجتماع سے جماعتوں کا خروج نہیں ہوگا بلکہ حسب ترتیب اپنے اپنے علاقوں اور مراکز سے جماعتیں نکلیں گی۔
،البتہ اندرون سال کیلۓ اجتماع سے نقد نکلنے والے حضرات کو اجتماع میں آنے کی اجازت یے۔
اندرون سال والی جماعتیں مرکزی تشکیل کی جگہ مذکورہ شرائط کے ساتھ ٹہریں گی۔
جو احباب پارکنگ،پہرہ وغیرہ کی خدمت کے عنوان سے آئنگے انکا قیام پنڈال سے باہر ہوگا۔
،بیرون ملک سے مہمان اجتماع میں نہیں آئنگے۔
،اور جو اسٹوڈنٹ باہر ملکوں کے پاکستان میں پڑھ رہے ہیں انکو بھی اجتماع میں نہیں بلایا۔
، مطلب یہ کہ بیرون والوں کیلۓ پنڈال میں جگہ ہی نہیں بنائی۔
،اجتماع گاہ کے اندر کھانے کی چار کنٹینیں ہونگی اس سے کھانہ لیکر وہاں بیٹھ کر نہیں کھائیں گے بلکہ اپنی جگہ جاکر کھائیں گے۔

یہ اس سال موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر اجتماع کی تھوڑی سی محتاط تفصیل یے۔

تحریر شدہ،
12 اکتوبر 2020 بروز پیر۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Lahore