Busymummy7
07/06/2025
Eid ul Adha 2025
14/08/2024
۔ بہنوں کے کمرے اور زنان خانہ میں بلاوجہ اور دیر تک نہیں بیٹھنا چاہیے۔
7۔ لڑکیو۔۔۔ اب آپ بڑی ہو گئی ہیں، اپنے میلے کپڑے خود دھونا سیکھیں۔ انھیں واش روم میں لٹکا چھوڑ کر مت آئیں۔
8۔ اپنی ضرورت کی پرسنل چیزیں اپنی الماری میں رکھیں۔
9۔ بچے جب ٹین ایج میں داخل ہوں تو والدین بازار سے ریزر اور بلیڈز لا کر دیں اور اپنے بازو پر بال صاف کر کے سمجھائیں کہ کس طرح اپنے جسم کے اندرونی حصوں کے بال ہر ہفتے صاف کرنے ہیں؟
10۔ اپنی اور دوسروں کی پرسنل اسپیس کا بہت خیال رکھیں۔ پرسنل اسپیس ناپنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ
اپنا ہاتھ اور پورا بازو کھول لیں، یہ اندازاً ڈھائی سے تین فٹ بنتا ہے۔ نہ کبھی کسی کی پرسنل اسپیس میں جائیں۔۔۔
یعنی تین فٹ دور رہ کر بات کریں۔۔۔ نہ کسی کو زیادہ قریب آنے دیں۔ یقیناً سفر میں، کار، بس یا جہاز کی سیٹ کا معاملہ ذرا مختلف ہے لیکن اس کے بھی آداب ہیں اور سفر کے سب آداب سیکھنے چاہییں۔
11۔ بچوں کو سمجھایا جائے کہ کسی کو فون کریں یا
کسی کے پاس جائیں تو سب سے پہلے ایک سانس میں
یہ چار باتیں بتا دیں۔۔۔
سلام، نام، مقام، کام
یعنی پہلے سلام کریں، پھر اپنا اور اپنے علاقے یا ادارے کا نام بتائیں، پھر آنے کا مقصد بتا کر اجازت لیں کہ
آپ سے بات ہوسکتی ہے؟ میں اندر آسکتا ہوں؟ یا کرسی پر بیٹھ سکتا ہوں؟
اجازت ملے تو ٹھیک ورنہ پھر کبھی سہی۔۔۔!
12۔ بغیر اجازت کسی کی میز سے ایک بال پین یا ٹشو تک نہیں اٹھانا، کیونکہ
"یہ جرم کے زینے کا پہلا قدم ہے۔"
13۔ ایک بات جو اکثر بتائیں کہ بیٹا کسی سے فون پر بات کریں یا کسی کے پاس جائیں تو اپنے چہرے پر ہلکی سی حقیقی مسکراہٹ ضرور رکھیں۔ یہ مسکراہٹ آپ کے لیے کامیابی کے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے۔
14۔ لڑکے کسی سے ہاتھ ملائیں تو پورا ہاتھ ملائیں، گرم جوشی سے اس کے ساتھ نظریں بھی ملائیں۔ یہ نہیں کہ منہ اِدھر، ہاتھ اُدھر بات کسی اور سے۔۔۔!
15۔ جب دسترخوان پر بیٹھیں تو ایک دوسرے کا لحاظ کر کے تمیز سے کھائیں۔۔۔ ایسا نہ سمجھیں کہ آج کے بعد کھانا نہیں ملنا۔
مزید آپ نے کون سے اصول بنائے اور اپنائے ہوئے ہیں؟
بچوں کی اچھی تربیت، ان کے لیے ہمارا سب سے اچھا تحفہ ہے۔
مزید معلومات کے لیے فالو ضرور کر لیں شکریہ
17/05/2024
پاکستان میں اردو کی ایک کتاب KG میں بچوں کو پڑھائی جاتی ہے، جس میں “ڈ” سے ڈاکٹر بتایا گیا ہے ۔
حیرت اس بات پہ ہے کہ نصاب تیار کرنے والوں کو حرف “ڈ” سے اردو کا کوئی ایک لفظ بھی نہ مل سکا اور “ڈ” سے ڈاکٹر (جو کہ سرے سے اردو زبان کا لفظ ہے ہی نہیں ) پر گزارہ کر لیا گیا جبکہ ڈاکو بھی لکھ دیتے تو لوگوں نے خود ہی سمجھ جانا تھا کہ مطلب کیا ہے۔
اب سوشل میڈیا پر “ڈھول” پیٹ کراس بات کا “ڈھنڈورا” کرنا پڑ رہا ہے کہ “ڈ” کے الفاظ “ڈالنا” کوئی اتنا مشکل امر بھی نہیں ہے ۔
اگر آپ کی ناراضی کا “ڈر” نہ ہو تو “ڈ” کو ذرا “ڈھونڈنا” شروع کریں ۔
“ڈانٹ ڈپٹ” سے کام نہ چلے تو “ڈنڈا” بھی قدرت کا ایک تحفہ ہے ۔ “ڈ” سے “ڈھول” نہ پیٹیں ، “ڈگڈگی” نہ بجائیں، الفاظ کا “ڈھیر”
اکٹھا نہ کریں تو بھی اردو کے کنویں سے ایک آدھ “ڈول” ہی کافی ہوگا ۔
“ڈبہ” سے “ڈبیا” تک ، “ڈراؤنے” قوانین سے لے کر تعلیم کے “ڈاکوؤں” تک ، امیروں کے “ڈیروں” سے لے کر غریب کی “ڈیوڑھی” تک اور پھولوں کی “ڈالی” سے لے کر سانپ کے “ڈسنے” تک “ڈ” ہر جگہ دستیاب ہے ۔
سوچا “ڈبڈباتی” آنکھوں سے یہ “ڈاک”، بغیر کسی “ڈاکیہ” اور “ڈاک خانے” کے آپ تک پہنچا دوں کہ لفظوں کی مالا شاید نصاب کی کوتاہیوں کی “ڈھال” ثابت ہو “
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Lahore