History explorers
اس جھلسا دینے گرمی میں ایک سعودی شہری اپنی گاڑی میں حائل سے حفر الباطن جارہا تھا۔
جب وہ سڑک کے کنارے رکا تو خود کو گرمی سے بچاتے ہوئے ایک پرندہ تیزی سے اس کی گاڑی کے ٹائر کے سائے میں آ کر بیٹھ گیا۔ سعودی شہری نے پرندے پر پانی پھینکا اور کار کے اندر ائر کنڈیشنگ میں لے گیا جہاں پرندہ بغیر کسی مزاحمت کے سکون سے بیٹھ کر سو گیا۔
دیکھیں اس شخص نے اس پرندے کی جان کیسے بچائی، اللہ تبارک وتعالی اسے اس کا بہترین بدلہ دے۔ آمین
#اسلام #تعلیم
24/07/2021
غلاف کعبہ کی تبدیلی اور تیاری🕋
۔🕋غلاف کعبہ کی تبدیلی کی روح پرور تقریب 9 ذی الحج کو عازمین کے عرفات پہنچنے پر منعقد کی جاتی ہے۔ غلاف کعبہ خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے تحفتاً پیش کیا جاتا ہے۔
۔ 🕋 سونے، چاندی اور خالص ریشم سے بنے غلاف کعبہ کی لاگت 2 کروڑ 20 لاکھ ریال ہے ( تقریباً 60 لاکھ ڈالر )۔ غلاف کعبہ کی تبدیلی کا کام نماز فجر کے بعد شروع ہوا، نئے غلاف میں 670 کلوگرام خالص ریشم سے تیار کیا گیا ہے۔
۔ 🕋 غلاف کعبہ جسے کسوہ بھی کہتے ہیں کی تیاری میں ایک سال کا عرصہ لگتا ہے، جس کے لئے 670کلو گرام خالص ریشم اور سونے چاندی کے ایک سو پچاس کلو گرام دھاگے استعمال کئے جاتے ہیں۔
اور اس پر بیت اللہ کی حرمت اور حج کی فرضیت اور فضیلت کے بارے میں قرآنی آیات کشیدہ کی گئی ہیں-
۔ 🕋 غلاف کا سائز 658 مربع میٹر ہے اور یہ 47 حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، ہر حصہ 14میٹر طویل اور 95 سینٹی میٹر چوڑا ہوتا ہے۔ زمین سے تین میٹر کی بلندی پر نصب کعبہ کے دروازے کی لمبائی چھ میٹر اور چوڑائی تین میٹر ہے۔ غلاف کعبہ چار دیواروں کے علاوہ دروازے پر بھی آویزاں کیا جاتا ہے۔
۔ 🕋 غلاف کعبہ کی تیاری کیلئے ریشم اٹلی سے جبکہ سونے اور چاندی کی تاریں جرمنی سے منگوائی جاتی ہیں ۔ اس روح پرور تقریب میں گورنر مکہ ، سعودی حکام کے علاوہ مسلم ممالک کے سفرا اور خصوصی نمائندے شرکت کرتے ہیں ۔ پرانے غلاف کو اتارنے کے بعد چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے جو اہم شخصیات اور مذہبی تنظیموں میں تبرک کے طور پر تقسیم کر دیئے جاتے ہیں۔
۔ 🕋 کسوہ مجموعی طور پر سینتالیس حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، ہر حصہ چودہ میٹر طویل اور پچانوے سینی میٹر چوڑا ہوتا ہے۔ غلاف کعبہ کی تبدیلی میں چھ گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ حج یا عمرے کی ادائیگی کے لئے مکہ پہنچنے والے ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ خانہ کعبہ کو اندر سے دیکھے اور وہاں عبادت بھی کرے لیکن یہ سعادت کسی کسی کے حصے میں ہی آتی ہے۔ کعبہ میں داخل ہونے کے لئے صرف ایک دروازہ ہے جسے ملتزم یا باب کعبہ کے نام سے پکارا جاتا ہے، باب کعبہ حرم کے فرش سے دو اعشاریہ ایک تین میٹر بلند ہے۔ ملتزم کعبہ کے شمال مشرقی دیوار پر نصب ہے اور اس کے قریب ترین حجر اسود بھی نصب ہے ، طواف کا آغاز بھی یہیں سے کیا جاتا ہے۔
۔ 🕋 خلیجی اخبار”العربیہ“ کے مطابق ماضی میں ملتزم ہر ماہ دو سے تین مرتبہ کھولا جاتا تھا تاکہ تمام لوگوں کو داخلے کا موقع مل سکے تاہم آج یہ پورے سال میں صرف دو مرتبہ کھولا جاتا ہے۔ایک مرتبہ یکم شعبان کو غسل کعبہ کے موقع پر اور دوسری مرتبہ یکم ذوالحجہ کو۔ علاوہ ازیں یہ خادم حرمین شریفین کی اجازت سے مملکت کے مہمانوں کے لیے بھی کھولا جاتا ہے ۔
۔🕋 کرونا کی وجہ سے اس بار غلاف کعبہ کی تبدیلی کی تقریب میں مخصوص لوگوں نے شرکت کی۔
۔🕋 "یااللہ 🕋 اس وبا کو مکمل ختم فرما مکہ مدینہ کی رونقیں بحال فرما اور ہمیں بھی حج سعادت نصیب فرما۔
🤲 اَمـــِين يَارَبَّ الْعَالَمِيْن 🤲
#حج #۹ذوالحج #کسوٰہ #اسلام #مسلم #مسلمان
17/07/2021
منٹو لکھتا ھے کہ میں شدید گرمی کے مہینے میں ایک__ گھر میں چلا گیا وھاں کی نائیکہ 2 عدد ونڈو ائیر کنڈیشنڈ چلا کر اپنے اوپر رضائی اوڑھ کر سردی سے کپکپا رھی تھی.
میں نے کہا کہ میڈم دو A/C چل رھے ھیں آپ کو سردی بھی لگ رھی ھے آپ ایک بند کر دیں تا کہ آپ کا بل بھی کم آئے
گا،
تو وہ مسکرا کر بولی کہ، "اساں کیہڑا اے بل اپنی جیب وچوں دینا اے".
منٹو کہتے کہ کافی سال گزر گئے اور مجھے گوجرانوالہ اسسٹنٹ کمشنر کے پاس کسی کام کے لیے جانا پڑ گیا. شدید گرمی کا موسم تھا،
صاحب جی شدید گرمی میں بھی پینٹ کوٹ پہنے بیٹھے ھوئے تھے اور 2 ونڈو ائیر کنڈیشنر فل آب تاب کے ساتھ چل رھے تھے اور صاحب کو سردی بھی محسوس ھو رھی تھی.
میں نے کہا کہ جناب ایک A/C بند کر دیں تا کہ بل کم آئے گا تو صاب بہادر بولے،
"اساں کیہڑا اے بل اپنی جیب وچوں دینا اے".
منٹو کہتا کہ میرا ذھن فوراً اسی محلہ کی نائیکہ کی طرف چلا گیا کہ دونوں کے مکالمے اور سوچ ایک ھی جیسے تھی،
تب میں پورا معاملہ سمجھ گیا۔
یعنی اس ملک کے تمام ادارے ایسی ہی نائیکہ سوچ رکھنے والے افراد کے ہاتھوں میں ہیں۔۔
"قائدِ اعظم محمد علی جناح کی یہ عادت تھی کہ کمرے سے نکلتے وقت بجلی کے سارے بٹن بند کر دیا کرتے تھے۔
اپنے گھر میں ہوں، میرے یہاں ہوں یا کسی میزبان کے گھر میں، ہر جگہ ان کا یہی معمول ہوتا تھا ۔۔۔۔
اور جب میں ان سے پوچھتا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟؟؟
تو وہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں ایک وولٹ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیئے۔
میں ان سے آخری بار 31 اگست 1947ء کو گورنر جنرل ہاؤس میں ملا تھا۔
ہم کمرے سے نکلے تو وہ مجھے سیڑھیوں تک چھوڑنے آئے اور کمرے سے نکلتے وقت انہوں نے حسبِ عادت خود ہی تمام سوئچ آف کئے۔
میں نے ان سے کہا جناب آپ گورنر جنرل ہیں اور یہ سرکاری قیام گاہ ہے۔
اس میں روشنیاں جلتی رہنی چاہئیں۔
قائد نے جواب دیا کہ یہ سرکاری قیام گاہ ہے اس لئے تو میں اور بھی محتاط ہوں۔ یہ میرا اور تمھارا پیسہ نہیں ہے۔ یہ سرکاری خزانے کا پیسہ ہے اور میں اس پیسے کا امین ہوں۔
اپنے گھر میں تو مجھے اس بات کا پورا اختیار تھا کہ اپنے گھر کی بتیاں ساری رات جلائے رکھوں لیکن یہاں میری حیثیت مختلف ہے۔
تم زینے سے اُتر جاؤ تو یہ بٹن بھی بند کر دوں گا"
مرزا ابوالحسن اصفہانی کا مضمون
"بے مثال لیڈر"
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Shad Bagh
Lahore