Atiqa Digital

Atiqa Digital

Share

03/08/2025

ماشاءاللّٰہ! اقصیٰ کا سوال بہت معصومانہ مگر دلچسپ ہے، اور ایسی باتیں اکثر بچپن سے ہمیں سنائی جاتی ہیں.
سوال:44
"کیا نیا چاند نکلنے پر بال کاٹنے سے بال لمبے ہوتے ہیں؟
کیا یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟"
محبت بھرے انداز میں اس سوال کا علمی، دینی اور عقلی جواب :
❌ قرآن و حدیث میں ایسی کوئی بات موجود نہیں کہ:
"نیا چاند دیکھ کر یا چاند کی کسی تاریخ پر بال کاٹنے سے بال لمبے ہوتے ہیں"
🔹 یہ ایک ثقافتی یا روایتی بات ہے،
جو بزرگوں یا دیسی اندازِ تجربے پر مبنی ہو سکتی ہے —
مگر یہ شریعت کا حصہ نہیں۔
📖 شریعت کا اصول:
"مَن أحدثَ في أمرِنا هذا ما ليسَ منه فهُو ردٌّ"
(صحیح بخاری و مسلم)
"جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات نکالی جو اس کا حصہ نہیں، وہ مردود ہے (نامنظور ہے)"
📌 یعنی ایسی باتیں جو قرآن و سنت سے ثابت نہ ہوں،
انہیں دین یا روحانی فائدہ سمجھنا درست نہیں۔
🧠 عقلی جواب بھی دیکھیں:
بال کا لمبا ہونا:
✓جسمانی صحت، غذائیت، ہارمونز، جینیات (genes) اور
✓بالوں کی صفائی، مالش، دھوپ، پانی وغیرہ پر ہوتا ہے۔
چاند کی روشنی یا وقت کا بالوں کی لمبائی سے براہ راست کوئی سائنسی تعلق ثابت نہیں۔
✅ البتہ چاند دیکھ کر کچھ سنتیں ہیں:
🍂جب نیا چاند دیکھیں تو نبی ﷺ یہ دعا پڑھتے:
"اللّٰهم أهلَّه علينا بالأمن والإيمان، والسلامة والإسلام، والتوفيق لما تحب وترضى..."(ترمذی: 3451)
📌 چاند کو نیکی، دعا، ہجری مہینے کے آغاز، اور عبادت کا وقت سمجھا گیا ہے — نہ کہ روحانی اثرات کے لیے بال کاٹنے کا وقت۔
خلاصۂ:
| سوال | جواب |
نیا چاند نکلنے پر بال بال کاٹنے سے بال لمبے ہوتے ہیں؟ | ❌ قرآن و حدیث میں ایسی بات نہیں
| یہ بات کہاں سے آئی؟ | عوامی روایت یا ذاتی مشاہدہ |
| دین میں ایسی بات کا درجہ؟ | ❌ بدعت یا ضعیف وہمات میں شمار ہوتا ہے |
| نیا چاند دیکھنے کی سنت؟ | ✅ دعا مانگنا، نیت کی تجدید کرنا
💡 محبت بھرا مشورہ:
ہمیں بچوں اور بچیوں کو دین کا ایسا فہم دینا چاہیے جو
قرآن و سنت کی بنیاد پر ہو — اور توہمات سے پاک ہو۔
🖊️:عتیقہ بشیر

28/07/2025

خدیجہ بہت اہم سوال ہے:
سوال42:
اگر عورت حمل (پریگنینٹ)میں ہو تو کیا وہ خلع لے سکتی ہے؟
قرآن و حدیث اور فقہ کی روشنی میں مکمل اور واضح :
✅ جواب:
جی ہاں! عورت اگر حاملہ ہو تو وہ خلع لے سکتی ہے۔
اسلام میں حالتِ حمل خلع لینے سے رکاوٹ نہیں بنتی۔
📖 دلائل اور شرعی رہنمائی:
1. قرآن مجید:
"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ"
(البقرہ: 229)
"اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں اللہ کی حدود قائم نہیں رکھ سکیں گے، تو عورت جو کچھ دے کر چھٹکارا حاصل کرے، اس میں کوئی گناہ نہیں۔"
📌 اس آیت میں خلع کی اجازت عمومی طور پر دی گئی ہے، حمل یا غیر حمل کی قید نہیں لگائی گئی۔
2. احادیث کی روشنی میں:
خلع کا مشہور واقعہ:
حضرت ثابت بن قیس کی بیوی نے نبی ﷺ سے خلع کی درخواست کی۔
نبی ﷺ نے فرمایا: "کیا تم اس کا باغ واپس کرو گی؟"
اس نے کہا: جی ہاں۔
نبی ﷺ نے خلع کروا دی۔
(صحیح بخاری: 5273)
📌 اس حدیث میں حمل کا ذکر نہیں، لیکن فقہاء نے اس سے یہ اصول اخذ کیا ہے کہ خلع ہر وقت ممکن ہے— بشرطیکہ شوہر یا قاضی راضی ہوں۔
اگر عورت حاملہ ہو اور خلع لے لے تو عدت کیا ہوگی؟
جیسا کہ سورہ طلاق میں فرمایا:
"وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ"
(الطلاق: 4)
"حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضعِ حمل (بچے کی پیدائش) تک ہے۔"
🔹 اس لیے خلع کے بعد عدت بچے کی پیدائش تک ہو گی، چاہے ایک دن ہو یا 9 مہینے۔
✅ خلاصہ:
سوال جواب
کیا حاملہ عورت خلع لے سکتی ہے؟
جی ہاں، خلع لے سکتی ہے
کیا شریعت میں اس کی ممانعت ہے؟
نہیں، کوئی ممانعت نہیں
عدت کیا ہو گی؟
بچے کی پیدائش تک
🖊️:عتیقہ بشیر

Want your business to be the top-listed Realtor/realty Service in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Lahore