Robin News
🏆✨ پشاور کی شان — ہماری پہچان ✨🏆
ہم صرف سپورٹر نہیں… ہم خود پشاور زلمی ہیں! 💛
ہمیں فخر ہے کہ ہم پشاور سے تعلق رکھتے ہیں، اور آج ہماری ٹیم نے پورے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا 🇵🇰
دل کی گہرائیوں سے شکریہ Babar Azam ❤️
آپ نے اپنی محنت، لیڈرشپ اور شاندار پرفارمنس سے PSL ٹرافی جیت کر دکھائی — یہ جیت صرف ٹیم کی نہیں بلکہ پورے پشاور اور پاکستان کی ہے!
تمام پشاور زلمی کے فینز اور سپورٹرز کو دل سے مبارکباد 🎉
یہ خوشی ہم سب کی مشترکہ خوشی ہے، اور یہ جشن پورے پاکستان کا ہے! 🇵🇰💫
💥 زلمی ہے تو یقین ہے 💥
(کرک کے لوگوں کے لیے)
“آج ہم آپ کو کوئی کرپشن نہیں سکھا رہے… نہیں نہیں، ہم تو صرف ‘بزنس’ سکھا رہے ہیں!
ایسا بزنس جس میں عوام کے نام پر کروڑوں کے فنڈ آتے ہیں… اور زمین پر صرف مٹی کا ڈھیر نظر آتا ہے۔
آج ہم نے صرف تین منٹ میں آپ کو ایک ڈیم بنا کر دکھایا…
کاغذوں میں مکمل، فائلوں میں منظور، اور تصویروں میں شاندار!
لیکن حقیقت؟ حقیقت میں صرف پچاس ہزار کا کام… اور باقی پیسہ ‘بزنس’ میں چلا گیا۔
یہ کوئی کہانی نہیں، یہ ایک سسٹم ہے…
جہاں غریب کے نام پر فنڈ آتا ہے، لیکن غریب تک نہیں پہنچتا۔
کرک کے عوام!
یہ ویڈیو کسی کو سکھانے کے لیے نہیں، بلکہ جگانے کے لیے ہے۔
تاکہ آپ پہچان سکیں کہ اصل ترقی کیا ہے اور کاغذی ترقی کیا ہے۔
اگر آپ خاموش رہے تو یہی ‘بزنس’ چلتا رہے گا…
اور اگر آپ جاگ گئے تو یہی نظام بدل بھی سکتا ہے۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔”
عنوان: فالا ڈیم – کروڑوں کا بل، ہزاروں کا کام
دوستو، میں آج پھر بہادر خیل، تحصیل بی ڈی شاہ، ضلع کرک کے فالا ڈیم پر کھڑا ہوں۔
یہ میرا تیسرا وزٹ ہے اور تینوں ڈیموں کی کہانی ایک جیسی ہے۔ سنو:
پہلا ڈیم: بل بنا چالیس لاکھ کا، زمین پر کام ہوا زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ کا۔
دوسرا ڈیم: بل بنا دو کروڑ کا، زمین پر لگے مشکل سے 15 لاکھ روپے۔
تیسرا یعنی یہ فالا ڈیم: بل بنا 50 سے 60 لاکھ کا، اور یہاں کام ہوا صرف 10 سے 12 ہزار کا۔ جی ہاں، صرف ایک ٹریکٹر چلا اور بس۔
یہ ڈیم نہیں ہے۔ یہ تو برسات میں بننے والا وہی نالہ ہے جہاں پانی خود رُک جاتا ہے۔ 12 ہزار کا گڑھا کھود کر 60 لاکھ کا بل؟
**عنایت اللہ شاہد خٹک صاحب**، یہ پیسہ کس کا تھا؟ یہ عوام کی خون پسینے کی کمائی تھی۔ ہمارے گاؤں کا ایک بزرگ، اللہ ان کو جنت دے، اپنی جیب سے جانوروں کے لیے اس سے بہتر تالاب بنا گیا تھا۔ آپ لاکھوں لے کر کیا بنا گئے؟
یہ کرپشن نہیں، کھلی لوٹ مار ہے۔ کرک کے بہادر خیل بانڈہ کے لوگ خود آ کر دیکھ لیں۔ یہاں ڈیم کے نام پر مذاق ہوا ہے۔
میں صرف اتنا کہتا ہوں: جو بھی یہ ویڈیو دیکھ رہا ہے، اس کو آگے شئیر کرے۔ کرک کا ہر بندہ یہ سچ جان لے۔ جب تک ہم چپ رہیں گے، یہ 12 ہزار کا کام اور 60 لاکھ کا بل چلتا رہے گا۔
عنایت اللہ شاہد خٹک صاحب، حساب دو!
#بہادرخیل
📢 اگر آپ کا تعلق کرک سے ہے تو یہ ویڈیو آپ ہی کے لیے ہے — اسے ضرور دیکھیں!
آج اسمبلی میں ایک بہن نے جو آواز اٹھائی، وہ صرف ایک بیان نہیں بلکہ کرک کے ہر شہری کی ترجمانی ہے۔
کرک میں مسئلہ صرف پانی کا نہیں ہے…
یہ پانی، گیس اور بجلی—تینوں کا بحران ہے۔
ہماری زمین سے گیس نکلتی ہے،
لیکن ہمارے گھروں تک نہیں پہنچتی۔
آخر کیوں؟
ہمارا حق ہمیں کیوں نہیں ملتا؟
جو فنڈز غریب عوام کے لیے آتے ہیں،
وہ راستے میں ہی کہاں غائب ہو جاتے ہیں؟
کیوں ہر بار حق دار محروم رہ جاتا ہے؟
یہ سوال صرف ایک شخص کا نہیں،
یہ پورے کرک کی آواز ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں—
اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں۔
✊ کرک کے عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے—پانی، گیس، اور بجلی ہر شہری کا بنیادی حق ہے!
- “کرک کا حق دو”
- “پانی گیس بحران”
- “حق کیوں نہیں؟”
- “کرک کی آواز”
- “فنڈز کہاں گئے؟”
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Address
Karak
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |
| Sunday | 09:00 - 17:00 |