Karachi Rishta Service
26 سال کا تعلق ختم ہوا.
میرے ایک دوست ہیں، پیشے کے لحاظ سے حکیم ہیں. ایک دن میں نے ان سے پوچھا رفیق اپنی حکمت کی روشنی میں بتا ایسا کون سا نشہ ہے جو بندہ چھوڑ نہیں سکتا.
بولے نشوں میں سب سے خطرناک نشہ ہیروئین کا ہے. سب کچھ چھوٹ جاتا ہے لیکن ہیروئین نہیں چھوٹتا. پھر بولے بھائی ہیروئین بھی چھوٹ جاتا ہے لیکن مشت زنی کبھی نہیں چھوٹے گی. اللہ جانے سچ یا جھوٹ.
میں نے اسے کہا چل پھر میرے پر اپنی حکمت آزما اور دے دوائی پان چھوڑنے کی. اس کی حکمت ختم ہو گئی، میرے پان چھوٹ نہ سکے.
بچپن میں جب بکریوں کے لئے گھاس لینے جاتے تو منشی چکی کے سامنے حنیف بھائی کی کیبن سے آٹھ آنے کا پان لیا کرتا تھا. پھر سن 98 سے مستقل پان کھانا شروع کیا. بس پھر سفر حضر، اسکول، مدرسہ. ساتھی رہا تو صرف پان. بڑے بھائیوں نے خوب سمجھایا. کئی دوستوں نے سمجھایا، کئی لوگوں نے ناگواری کا اظہار کیا. کئی نے عار دلائی. لیکن منہ کو لگی کیسے چھوٹے.
ایرے غیرے سے پان بھی نہیں لینا، پان بھی لینا ہے تو مخصوص کیبن سے. سفر میں جانا ہے تو پان اس طرح سے بنوانے ہیں کہ ہفتہ بھر خراب نہ ہوں. دو سال قبل تین دن اجتماع میں رائیونڈ جانا ہوا تو 170 پان بنوائے تھے جو کم پڑ گئے. اجتماع میں جانے والے کل ساتھیوں نے جب حساب کیا تو سب نے ڈیڑھ لاکھ کے کھائے تھے. توبہ. سب سے مشکل وقت کراچی کے 8 سال رہے. پان نہیں ملتا تھا. ملا بھی تو مطلب کا نہیں. گزار کرتے. کراچی میں رہتے ہوئے اگر کوئی وطن اصلی سے آتا تو اسے پان کی تاکید کی جاتی پان مل جاتا تو عید ہوتی.
مجھے اچھی طرح یاد ہے 2006 میں جب شادی ہوئی تو بیوی سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ سب چیزوں پر سمجھوتہ ہو جائے گا لیکن پان پر نہیں. اللہ جزائے خیر دے خوب ساتھ نبھایا، کتھے کے داغ کپڑوں سے اتارنا آسان نہیں. پان کے کتھے سے داغ دارکپڑے اتارتا بدلے میں مجھے جب بھی کپڑے ملے صاف شفاف، چمکتے دمکتے.
کئی بار چھوڑنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکا. نہ جانے کتنی ہی رقم پان کی صورت میں یوں چبا چبا کر راستے میں پھینک دی. اللہ معاف کرے اور درگزر فرمائے.
حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے. جب میرا رب چاہتا ہے تو سب ہو جاتا ہے اور ایسا ہی ہوا چھوٹ گئے پان.
اب تو جدا میں جدا.
دعا کریں اللہ استقامت دے.
پیاری لڑکیو!
جن کی نئی نئی شادی ہوئی ہے۔
ایک ننھا سا مشورہ قبول فرمائیے۔ شادی کے بعد لڑکی کو
Hormonal changes, environmental changes, new relations, home sickness, fear of marriage
وغیرہ کی وجہ سے ذہنی دباؤ، اداسی، کسی سے ملنے کا جی نہ چاہنا، تنہائی کی طلب، زندگی سے بے رغبتی وغیرہ جیسی کیفیات محسوس ہو سکتی ہیں۔
ایسے میں شوہر کی صورت میں ایک ہمدرد دکھائی دے رہا ہوتا ہے جس سے آپ دل کی کوئی بھی بات کر سکتے ہیں
ماضی، حال مستقبل سب کے متعلق ہر خیال کا اشتراک کر سکتے ہیں۔
بار بار اداس ہونا، مایوسی بھری باتیں، والدین کی یاد میں آنسو آنا اور یہ سب شوہر کے ساتھ شیئر کرتے جانا یعنی کچھ ایسے کہ آپ کے ان مسائل کا اثر آپ کے شوہر پہ بھی ہو رہا ہو۔ وہ خوشی اور پریکٹیکل سوچ کے ساتھ سب کر رہا ہو لیکن آپ یہاں ایک الگ دنیا بسائے بیٹھی ہیں جو کہ سمجھ آتی ہے۔ مگر یہ بات کچھ دیر تک آپ کا شوہر محبت و مروت میں سمجھ سکتا ہے پھر وہ اس سلسلے سے اکتانے لگتا ہے۔ ہمدردی بھری باتیں بے فکری یا لاپروائی میں بدل سکتی ہیں جو کہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ لہذا اس مسئلے کو سمجھداری سے وقت پہ ہی سنبھال لیجیے۔
شوہر کے ساتھ اپنی اداسی کو اتنا مت شیئر کریں۔ اس کے لیے کوئی اور فرد تلاش کیجیے۔ اس شخص نے آپ کے ساتھ زندگی کا سفر پہلے طے نہیں کیا، آپ کے ماضی کے مسائل اس کے مسائل نہیں رہے۔ آپ کی گھر سے دوری کو وہ اس طرح سمجھ نہیں سکتا۔ آپ کے ہارمونل چینجز کی اسے گہرائی سے سمجھ نہیں آ سکتی۔ اس لیے دل کو ذرا سنبھالیے اور سوچ سمجھ کے مختلف اقدام کیجیے۔ ایسے ہی جیسے ہم کسی نئے قائم ہوئے تعلق کو لے کے چلتے ہیں۔
کچھ خیال سے کچھ لحاظ سے۔ اسے یک لخت زندگی کی تمام کہانی نہیں کہہ ڈالتے۔ میکے کے علاوہ اپنا دوست، ساتھی یا کاؤنسلر چنیے جس سے اپنے احساسات شیئر کر سکیں اور بروقت درست مشورہ حاصل کر سکیں۔
(عفیفہ شمسی)
" اپنے باپ اور بھائی کے علاوہ کسی بھی مرد کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے اپنا بل خود دینا ، یہ تمہیں ہر خوش فہمی اور اسے ہر غلط فہمی سے دور رکھے گا "
انسان کو پہلے پیسے کمانے چاہئیں اور دوبارہ بھی پیسے ہی کمانے چاہئیں
شادی اور بچے لوگوں کو کرنے دینا چاہئیے۔۔۔۔🥴😂😂😂
ﺍﮔﺮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﻮﻭﻇﯿﻔﮯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﮟ ﭘﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻻﺋﻨﯿﮟ ﻟﮓ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ ۔
محترمہ روبینہ قریشی گھریلو خاتوں، اچھا لکھتی ہیں، تحریر سادہ مگر دلچسپ ہوتی ہے اور اکثر اصلاحی اسلوب۔ یہ تحریر پڑھئے، ہماری فیمنسٹ خواتین تو خیر آگ بگولہ ہو جائیں گی۔ اور ہاں کسی خاتون کا گھر میں رہنا اور اس زندگی کو پسند کرنا ہرگزسٹاک ہوم سنڈروم نہیں۔ درحقیقت ایسا کمنٹ کرنا ایک مریض ذہن کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہر خاتون کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی چوایسز رکھے اور اسے بیان کرے۔ اس کے اظہار پر ایسے طنز سے قدغن لگانا ہی گھٹیا فیمنزم ہے بلکہ کمینگی پر مبنی رویہ۔
عامر خاکوانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترمہ روبینہ قریشی لکھتی ہیں:
سچ بات کروں تو میرے شوہر نے مجھے بہت سنبھال سنبھال کر رکھا۔
بازار جانے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔۔
مجھے کبھی علم نہیں ہوتا تھا کہ گوشت ، دال ،چاول چینی کے کیا بھاو ہیں۔
بلکہ میں اکثر اوقات چڑ جاتی تھی اور کہتی تھی کہ اگر اپ کا بس چلے تو مجھے کسی ڈبیہ میں بند کر کے اپنی جیب میں رکھ لیں۔۔جب آپ کا دل چاہے تو میرے ساتھ بچوں کی طرح کھیل لیں اور پھر جیب میں رکھ لیں۔۔
خیر۔۔۔۔ پہلی مرتبہ مجھے اس وقت بازار جانے کی اجازت ملی جب نیا گھر بنا اور اسے سیٹ کرنا تھا۔
میں بہت پرجوش تھی کہ کون سے رنگ ، کس کمرے میں ہونا چاہئے۔ ان دنوں ہر کمرے کا الگ رنگ کا فیشن تھا۔
ڈرائنگ روم کے صوفوں کا کپڑا کون سا ہونا چاہئے ۔ٹی وی لاونج کی سیٹنگ کیسی ہوگی وغیرہ ، وغیرہ
اس کے بعد میرے تقریباً 2 ماہ بازاروں کے چکر لگانے میں گزر گئے۔
اخر کار جنوری میں میرے بازاروں کے چکر ختم ہو گئے ان دنوں میرے دونوں بیٹے سرگودھا سے باہر تھے اپنی پڑھائی کے سلسلے میں۔۔۔اب میں نے اپنی بہن نورین کے بیٹے مراد کو کال کی کہ وہ ایک دن گھر پر ائے اور اپنی نگرانی میں کارپٹ ڈلوائے۔۔
یہ ایک الگ کہانی کہ کاپٹ ڈالنے کے لیے پہلے سارے گھر کے دروازے اتارنے پڑے، پھر انہیں تھوڑا ,, رندا،، مارا گیا یوں فرش اور کارپٹ کے درمیان کچھ خلا بنا تو تب کارپٹ ڈالے گئے
جس دن سارے کام ختم ہوئے اس دن جنوری کی غالباً 15 تاریخ تھی۔
اس دن بڑے دنوں کے بعد سالن کو دم پر لگا کر باہر دھوپ پر چارپائیاں نکالیں ان پر تکیے اور کھیس لگائے۔۔ وہاں بیٹھ کر پچھلے پورے مہینے کے اخبار جہاں ختم کئے
۔حالاں کہ اس سے پہلے یہ روزانہ کی روٹین ہوتی تھی کہ دھوپ پر بیٹھ کر سبزیاں بناتی تھی، اخبار پڑھتی تھی۔۔۔
لیکن اس دن مجھے لگا کہ اس سے بڑی جنت اور کیا ہوگی کہ جب اپ گھر پر رہیں، موسم کو انجوائے کریں، اپنے بچوں اور شوہر کے لئے گھر کو صاف کریں ، کچھ اچھا پکائیں۔۔اپنی ذات کو وقت دیں۔۔
خیر۔۔
اس دن میں سرتاج کی بہت شکرگزار ہوئی جس نے مجھے بھانت بھانت کے لوگوں کی اچھی بری نظروں سے بچا کر گھر میں رکھا۔۔
اس دوران میری ضد پر میں نے کچھ عرصہ گھر کا خرچہ اپنے پاس رکھا لیکن اس میں میرے ذاتی تمام پیسے بھی خرچ ہوجاتے تھے۔۔
اس کے بعد خرچ بھی انہیں واپس کر دیا اور اس کے بعد اج تک راوی چین لکھتا ہے
میری زندگی میں گھر سے باہر کی دنیا سے میرا واسطہ بہت کم پڑا جو کچھ تھوڑا بہت واسطہ پڑا تو چند نتائج اخذ کئے۔۔
پو سکتا ہے کہ اپ لوگوں کے تجربات مختلف ہوں بہرحال جو میں نے مشاہدہ کیا اس کے مطابق
درزی، رنگساز اور باقی دکان دار اکثر وعدے کا پاس نہیں کرتے
اپ جتنا مرضی کہ لیں لیکن۔۔۔۔۔بازار میں کوئی بندہ اپ کا باپ یا بھائی نہیں ہے سوائے جو اپ کے سگے باپ یا بھائی ہیں
خوش قسمت ہیں وہ خواتین جو گھروں میں بیٹھ کر گھر کو ، گھر داری کو ، موسم کو اور بچوں کو انجوائے کرتی ہیں۔۔یقین کریں یہ زندگی جتنی بھی مشکل ہو ، باہر کی زندگی سے پھر بھی آسان ہے۔۔۔
اللہ اپ سب بیٹیوں کو اسانیوں والی زندگی عطا فرمائیں ۔۔امین
روبینہ قریشی ۔۔8 مئی 2023
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Karachi
75210