Stylist Chand Raja
11/07/2024
وی سی آر اور سی ڈی کے زمانے میں خاندان کے سبھی افراد مل کر انڈین فلمیں دیکھا کرتے تھے اس وقت چونکہ سینسر بورڈ کے دفتر میں کافی تیز دھار قینچیاں ہوا کرتی تھی لہذا فلموں میں ش*ذ و نادر ہی کوئی قابل اعتراض منظر دیکھنے کو ملتا تھا مگر اس کے باوجود بھی لوگ فلم دیکھنے کے دوران چوکنا رہتے تھے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے احتیاطاً اپنے میں سے ایک شخص کو "کنٹرولر برائے قابل اعتراض مواد" رکھتے تھے تاکہ مشرقی روایات سے ہٹ کر کسی بھی منظر کو فوراً سے پیشتر سکپ کیا جاسکے مگر اس وقت کی ٹیکنالوجی کے حساب سے ریموٹ کنٹرول کو اس زاویے سے پکڑنا جس سے ریموٹ کنٹرول کے سگنلز سی ڈی تک پہنچ سکے بہت ہی مشکل اور وقت طلب کام ہوا کرتا تھا لہذا سکپ ہونے تک خاندان کے افراد اس منظر کو دیکھا ان دیکھا کرنے کی اپنی سی کوششیں کرتے تھے۔ مثلاً دادا جی ادھر ادھر دیکھ کر جٹ سے میز پر سے اپنی عینک اٹھاکر صاف کرنے لگ پڑتے ابا حضور گلہ صاف کرکے اخبار اٹھاکر کوئی اہم خبر پڑھنے کی ناٹک کرنے لگتے امی یا بڑی بھابھی یہ کہہ کر موقع واردات سے فرار ہوجاتی تھی " ہائے میں مرگئی میں نے چولہے پر دودھ گرم کرنے کو رکھا تھا کہی ابل نہ پڑا ہو " اور کنٹرول صاحب کے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ سب کے سب اسے دل ہی دل میں گالیاں دیتے لیکن شرعی مجبوری کی وجہ سے اس کوتاہی پر اس کی سرزنش نہیں کی جاسکتی تھی۔
مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ لوگ اپنی پروفائل لوک رکھتےہیں اور دوسروں کی پروفائل میں جھانک کر فرینڈ ریکوئسٹ سینڈ کرتے ہیں۔
کیوں۔۔۔۔۔؟
جناب دوستی کی دعوت قبول کرنے کو بھی تو حق حاصل ہے کہ وہ بھی دیکھے کے دوستی کا پیغام ارسال کرنے والا شخص قابل قبول ہے کے نہیں۔۔۔۔شکریہ
19/01/2024
تم ڈھونڈتے ہو مثال ہماری؟🔥
ہم سا تو ہمارا عکس بھی نہیں!!💎👑
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Karachi