KitabWala

KitabWala

Share

04/10/2024

محترم اساتذہ کرام، لیکچرر صاحباں، قابل احترام پروفیسرز صاحباں
اگر آپ اپنے طالب علموں کو پہچاں کر ان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کو ان کی پسند کے میدان میں تیار کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے یہ ضرور پڑھنا ہے۔ آج کا عہد ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم نوجوانوں کو آج کی دنیا کے ساتھ کنکٹ کرکے مسائل کا حل کرنے والا بنائیں ۔ کچھ تو محنت کرنی پڑے گی۔

اچھے طالب علم کی فطری صلاحیتوں کو ظائع ہونے سے بچانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے کام کا ایک منصوبہ تیار کردیں۔ ضروری نہیں کہ اس منصوبہ کی (تیارشدہ ) تمام تفصیلات سے خود اسے بھی آگاہ کیا جائے۔ بلکہ اس کو نہ بتانا ہی بہتر ہے چونکہ یہ چیز کبھی کبھی تقویت دینے کے بجائے اس کے لیے ہمت شکنی ثابت ہوسکتی ہے۔لیکن اس سے قطع نظر آپ اس کے کام کا پروگرام ضرور مرتب کرلیں تاکہ ایک سہ ماہی یا ششماہی کے بعد وہ خود جائزہ لے سکے کہ اس نے کتنا کچھ کام کرلیا ہے۔ آپ اسے مجبور کریں کہ وہ اپنی کارکردگی کی روداد قلمبند (لکھنا، تحریر کرنا) کرے اسے مشق(پریکٹس) کرائیں۔
اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ وہ اپنی نمایاں ترقی دیکھ کر مسرور و متحیر(خوش) ہوگا۔ جتنے تجربات، اس نے یکے بعد دیگر کئے ہیں، ان تمام کی یاداشتیں اس سے تیار کروائیں۔ جتنا وقت اس نے کتابوں مطالعے میں صرف کیا ہے اس کا ہفتہ وار خلاصہ اس سے لکھوائیں۔ یا پھر کچھ منتخب موضوعات پر آپ اس سے ایسے سلسلہ وار مضامین لکھوائیں جو کسی موضوع کے اہم پہلوؤں کو سمجھنے میں اس کی پوری پوری رہنمائی کرسکیں ۔
اس طرح جب تین ماہ گزر جانے کے بعد اسے اس کام پر مبارکباد دیں اور کچھ دن آرام کرلینے دیں۔ مگر فرصت کے دنوں میں، جبکہ اس کا دل بڑھا ہوا ہے، آپ کو چاہیے کہ سر سری طور پر اس کے کام کا اعادہ کرائیں۔ اس سے اسے ایک غیر متوقع قوت کا احساس ہوگا۔ ساتھ ساتھ کام کی موٹی موٹی باتیں اس کی ذہن میں جا گزیں ہوجائیں گی، بنیادی تصورات جڑ پکڑیں گے اور کبھی کبھی اس چیز کہ بدولت اسے اپنے آئندہ کام کے رخ کو ایک خاص سمت میں موڑنے کا خیال پیدا ہوگا جو شاید آپ کو بھی نہ سوجھتا۔ مزید برآں یہ اعادہ ذہیں شاگرد میں وہ بدلی اور پستی بھی نہیں پیدا ہونے دیتا جس سے اس جیسے طالب علموں کو عموما دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اگلی سہ ماہی میں جب یہ طالب علم پھر کام شروع کرتا ہے اور بہت سے نئے علمی مسائل سے پریشان ہوکر آپ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ ان گتھیوں کے سلجھانے میں اس کی تمام کوشش بلکل رائیگاں گئیں ہیں تب آپ بڑی آسانی سے خود اسی کا کیا ہوا ٹھوس کام اس کے سامنے رکھ کر بتاسکتے ہیں کہ اس عرصے میں اس نے کتنی نمایاں ترقی کی ہے۔ اس کے بعد اگر مناسب سمجھٰن تو آپ اس یہ بھی واضح کردیں کہ اس کے موجودہ اور پچھلے کام میں کیونکر ایک ربط و تسلسل پیدا کیا جاسکتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ آپ کی تمام تر باتوں کے باوجود وہ کچھ غیر مطمئن رہے گا۔ اس کی وجہ بالعموم یہ ہوتی ہے کہ چونکہ نوجوان آسانی سے بدل جاتے ہیں اس لئے وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں گویا ان میں کوئی تغیر(تبدیلی) پیدا ہی نہیں ہوا لیکن آگے چل کر جب وہ اپنے گزشتہ کام پر نظر ڈالے گا تو اسے اپنی جدوجہد، اپنے علم اور اپنے تجربہ کا احساس ہوگا۔ اور وہ ایک نئے عزم و ولولہ کے ساتھ درخشاں مستقبل کی تلاش میں بڑھنا شروع کردے گا۔

فن تدریس
گلبرٹ ہائیٹ
صفحہ: 102-103
مترجم: مشرف علی انصاری
The Art of Teaching by Gilbert Highet

19/10/2021
14/03/2021

جدید چینی تہذیب اور ترقی کے بارے میں ایک زبردست کتاب۔
آج ہی آرڈر کریں۔
03350200172

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


Karachi