Mufti Umer Razi
اگر نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسین رضی اللہ عنہ یزید کے خلاف میدان میں نہ نکلتے اور جام شہادت نوش کرنے کے لیے تیار نہ ہوتے تو آمریت کی برائیاں نہیں جانی جاسکتیں۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں لوگ آمریت کو داخل مان کر اس طرز سیاست کو عین اسلام قرار دیتے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے قربانی دے کر بتادیا کہ اپنی میراث کی حفاظت خود کی جاتی ہےاس کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کیاجاتا۔ اور یہ کہ اسلام میں آمریت کا کوئی تصور نہیں۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس معاملے کو دین اسلام کی تعلیمات کی حیثیت سے دیکھتے تھے اور یزید بے رحم سیاسی نکتہ نظر سے۔ اس نے وہی کیا جو حکمران اور طاقت ور سیاست دان اپنے حریفوں کے ساتھ کرتا ہے۔ اس لیے یہ واقعہ ایک طرفہ سیاسی اور یک طرفہ دینی ہے۔ سیاسی ہونے کے ناطے یزید سے خیر کی توقع نہیں اور اس بارے ساری دنیا عملا یزیدی ہے۔ پڑوسی شیعہ ملک میں بھی اگر سادات خاندان کا کوئی متقی ، پرہیزگار اور ہر لحاظ سے موجودہ حکمران سے افضل اور بہتر آدمی حکومت کے خلاف کھڑے ہوکر شیوہ حیسنی کو زندہ کرنا چاہے تو یقینا حکمران یزیدی بن کر اس پر حملہ آور ہوں گے اور صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ یہ اب تک ہوتا آرہا ہے اور ہورہا ہے۔ سیاسی حریف میں نسل ، تقوی ، بزرگی ، دینداری اور عوامی مقبولیت نہیں دیکھی جاتی اور نہ اس بارے شرعی حکم کا لحاظ رکھا جاتا ہے بس اسے مغلوب یا صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یزید نے یہی کیا۔ مگر حسین کے نام لیوا بتائیں کہ شیوہ حسینی، آمریت ، خلاف اسلام قوانین ، نظام اور حکومت سے بغاوت ہے ، تم کب حسین کی سیرت پر عمل پیرا ہو کر اس نظام سے بغاوت کروگے۔ عملا یزیدی لوگ بھی حسین ، حسین کا گیت گاتے ہیں۔
18/10/2023
محدود داخلے جاری ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Nazim Abad
Karachi