Aks-e-Ahmed

Aks-e-Ahmed

Share

20/05/2026

اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ حالات کے تھپیڑوں اور وقت کی تلخیوں کے درمیان میں اتنا پرسکون کیسے رہ لیتا ہوں؟ 🤍

میری آنکھوں میں وہ بے چینی کیوں نہیں جو دنیا کا خاصہ ہے؟
میں مسکرا کر بس یہی کہتا ہوں کہ:
"جن باتوں کا ڈر تھا، وہ سب ہو چکی ہیں۔" 🖤

انسان جب تک کسی چیز کو کھونے سے ڈرتا ہے، وہ ایک مسلسل کرب اور بے چینی میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ مستقبل کے اندیشوں کی گرفت میں ہوتا ہے، اسے اپنوں کے بچھڑنے کا خوف ہوتا ہے، ناکامی کا ڈر ہوتا ہے اور تنہائی کا واہمہ ستاتا ہے۔ یہ خوف اسے جینے نہیں دیتے۔ 💔

لیکن پھر زندگی میں ایک ایسا مقام آتا ہے جب وہ تمام خدشات حقیقت بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔

✨ وہ شخص بچھڑ جاتا ہے جس کے بغیر جینے کا تصور نہ تھا۔
✨ وہ مقام چھن جاتا ہے جس کے لیے برسوں محنت کی تھی۔
✨ وہ بھروسہ ٹوٹ جاتا ہے جس پر پوری زندگی کی عمارت کھڑی تھی۔

جب سب کچھ ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے، تو انسان ڈرنا چھوڑ دیتا ہے۔ 🌙

یہ سکون کسی خوشی کا مرہونِ منت نہیں، بلکہ یہ اس "انتہا" کا نام ہے جہاں پہنچ کر خوف ختم ہو جاتا ہے۔
جب سمندر کی لہریں کشتی کو ڈبو ہی دیں، تو پھر طوفان کا ڈر کیسا؟ 🌊
جب دل ٹوٹ کر کرچی ہو ہی جائے، تو پھر ٹھیس لگنے کا خوف کیسا؟ 💭

میرا یہ سکون دراصل ایک آزادی ہے۔ 🕊️
میں ان زنجیروں سے آزاد ہو چکا ہوں جو مجھے کل کی فکر میں جکڑے ہوئے تھیں۔
اب میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچا، اسی لیے اب میرے پاس پانے کو پوری کائنات ہے۔ ✨

جس شخص نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی قیامت دیکھ لی ہو، وہ پھر چھوٹی موٹی آندھیوں سے نہیں گھبراتا۔
یہ وہ خاموشی ہے جو شور کے تھم جانے کے بعد پیدا ہوتی ہے—ایک ایسی خاموشی جس میں صرف "رضا" ہوتی ہے۔ 🤍

خوف تب تک ہے جب تک نقصان کا امکان ہے۔
جب نقصان حقیقت بن جائے، تو انسان کے حصے میں صرف سکون آتا ہے۔ 🖤

✍️ ,,,

10/05/2026

ذاتِ مطلق کی انتہا ہی نہیں
انتہا کیا ہو، ابتداء ہی نہیں
اپنی ہستی بھی اک معمہ ھے
جس کا حل آج تک ہوا ہی نہیں

وہمِ ہستی نکال دے دل سے
فاصلہ دیکھو پھر رہا ہی نہیں
اُس کے ہونے میں شک نہیں ھے ذرا
اپنے ہونے کا کچھ پتہ ہی نہیں

اُس کا مجرم بنا ہوا ہوں میں
جس کی رحمت کی انتہا ہی نہیں
🖤
جبین______________________

07/05/2026

رشتہ وہ گھونسلا ہے جہاں دو تھکے ہوئے پرندے شام کو آ کر سستاتے ہیں نہ کوئی سوال نہ کوئی حساب
بس خاموشی میں بھی سکون مگر ہم نے اس گھونسلے کو عدالت بنا دیا ہے ہم رشتے کو کیسے مارتے ہیں؟

ہم"محبت" نہیں "ٹھیکہ" دیتے ہیں "اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو ایسا کرو"
"سچے ہو تو ویسا کرو" ہم نے ہر جزبے کی قیمت لگا دی ہے ہر احساس کی شرط رکھ دی ہے محبت آزادی تھی ہم نے اسے معاہدہ بنا دیا ہر"چاہیے" ایک نئی سلاخ ہے اور پھر ہم شکایت کرتے ہیں کہ رشتے میں" گھٹن" ہو گئی ہے گھٹن تو ہو گی جب تم نے ہوا کے سارے راستے ہی بند کر دیے

وہی شخص جس کی ایک مسکراہٹ پر دل ٹہھر جاتا تھا اب اس کی موجودگی بوجھ لگتی ہے وہی آواز جو سکون دیتی تھی اب شکوے کی فہرست سنانے آتی ہے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اکثر ہم پنجرے کا دروازہ کھلا چھوڑ دیتے ہیں مگر پرندہ اڑتا نہیں
کیونکہ برسوں کی قید نے اسے یقین دلایا ہے کہ "اڑنا منع ہے" وہ بھول جاتا ہے کہ اس کے پر ہیں

پھر ہم کیا کریں؟ توقعات کو مارو انسان کو جینے دو
اس سے وہ مت مانگو جو وہ نہیں ہے اسے وہ بننے دو جو ہے محبت کا مطلب ہے "میں تمھیں تمھاری خامیوں سمیت قبول کرتا ہوں" نہ کہ "میں تمھیں اپنی مرضی سے تراشوں گا"

رشتے کو" گھر"بناؤ "کہچری" نہـیں جہاں تھک کر آئے تو الزام نہ ملے پناہ ملے جہاں صفائی نہ دینی پڑے سمجھا جائے کیونکہ دنیا سے لڑ کر آنے والے کو گھر میں بھی جنگ نہیں چاہیے مہگے تحفے نہ دو خاموشی سے ہاتھ تھام لو کیونکہ رشتے باتوں سے نہیں احساس سے جیتے ہیں

پرندے کو سونے کا پنجرہ نہیں چاہیے اسے بس ایک ایسی شاخ چاہیے جہاں وہ ڈرے بغیر سو سکے رشتے نبھاؤ تو ایسے نبھاؤ کہ اگلا شخص تمھیں دیکھ کر "گھبرایا" نہیں سنبھل جائے ورنہ تم رشتے نہیں رکھ رہے قیدی رکھ رہے ہو اور قیدی ایک دن بغاوت کر ہی دیتے ہیں یا تو مر جاتے ہیں
✍️ @ یاسر احمد

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Karachi
75500