Digital Health Science
08/11/2023
پاکستان میں ادویات کے مضر اثرات کے کیسز میں اضافہ
ہر سال ہزاروں مریض موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،
پاکستان میں فارماسوٹیکل کمپنیوں اور مبینہ طور پر ڈاکٹرز کا سازباز
ایسی ادویات سے مریضوں کی براہ راست موت واقع ہوتی ہے،
گیبہ پینٹین سالٹ اور پری گیبلن سالٹ دوا کی وجہ سے ہزاروں مریضوں کی اموات،
دوا گیبا پینٹین مرگی کے مریضوں کے لیے بنائی گئی تھی لیکن اس کا غلط استعمال ہوا،
یہ دوا دردوں کے لیے اور دوسرے بہت سارے آف لیبل یوزز کے طور پہ استعمال ہوئی،
امریکہ میں بھی اس گیباپینٹین سالٹ کا غلط استعمال کیا گیا،
ممتاز عالم دین مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے کو بھی گبر پینٹین ادویات استعمال کرائی گئی،
یہ دوا براہ راست خودکشی کی طرف مائل کرتی ہے،
یہ دوا اگر پانچ، چھ ماہ مستقل دی جائے تو یہ مریض کو خودکشی پر مجبور کر دیتی ہے،
پاکستان میں ایسی ادویات کے غلط استعمال پر مکمل پابندی ہونی چاہیے،
امریکہ اور دیگر ممالک میں اس پر بلیک باکس وارننگ دی گئی ہیں،
پاکستان میں فارماسیوٹیکل اور ڈاکٹرز کے مبینہ گٹھ جوڑ سے یہ دوا مسلسل استعمال کرائی جاتی ہے، نور مہر
06/09/2023
#ڈیجیٹل ہیلتھ سائنس
• ہارٹ اٹیک کیا ہے؟
ہارٹ اٹیک دل کی ایک بیماری ہے جس میں دل کے کسی ایک حصے کی خون کی فراہمی رک جاتی ہے جس کے باعث سینے میں شدید درد ہوتا ہے اور جکڑن کا احساس ہوتا ہے۔
• ہارٹ اٹیک کیسے ہوتا ہے؟
ہمارے دل کو خون فراہم کرنے والی شریانیں، کورونری آرٹریز (Coronary Arteries) میں مختلف وجوہات کی وجہ سے چکنائی (cholestrol) جم جاتی ہے. جس جگہ یہ چکنائی جم جائے وہاں سے خون بہت کم گزر پاتا ہے اور وقت کے ساتھ وہاں سے خون گزرنے کی بجائے جمنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ خون کا لوتھڑا متعلقہ شریان کو مکمل طور پر بند کر دیتا ہے اور دل کے اس حصے کو توانائ اور آکسیجن کی فراہمی رک جاتی ہے۔ دل کا کام ایک پمپ کی طرح مسلسل سکڑنا اور پھیلنا ہے، اس کام کے ذریعے دل اپنے چار خانوں میں موجود خون اپنے ساتھ لگی نالیوں/شریانوں میں پمپ کرتا ہے! دل سے نکلنے والی بہت سی نالیوں میں سے چند نالیاں ایسی ہوتی ہیں جو خود واپس دل میں داخل ہو جاتی ہیں اور دل کو خون فراہم کرتی ہیں! سو اگر ان نالیوں یا شریانوں میں خون جمنا شروع ہو جائے گا تو دل کو خون نہیں پہنچے گا اور دل کا کام اثر انداز ہو گا!اور جب دل ایک ایسے مرحلے سے گزرتا ہے کہ جب اس کو ملنے والے خون کی مقدار بہت ہی کم ہو جاتی ہے تو دل ایک سخت درد کی کیفیت سے گزرتا ہے، جسے ہارٹ اٹیک کہتے ہیں!
• ہارٹ اٹیک کی علامات کیا ہیں؟
» ہارٹ اٹیک کی سب سے اہم اور عام علامت سینے میں جکڑن کے ساتھ شدید درد ہے جو اوپر گردن اور جبڑے کی جانب اور بائیں بازو کی طرف جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اور یہ درد بعض مریضوں میں کمر کی جانب بھی جاتا محسوس ہوتا ہے اس کا دورانیہ 30 منٹ سے زیادہ ہوتا ہے۔
» ٹھنڈے پسینے آنا
» سانس کا پھولنا
» دل کی دھڑکن تیز ہونا
» دل کی دھڑکن خود کو محسوس ہونا
» بدہضمی، قے اور متلی کا احساس ہونا
» چکر آنا اور بے ہوش ہو جانا
• کن افراد کو ہارٹ اٹیک ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟
» ہائ بلڈ پریشر کے مریض
» 45 سال سے زیادہ عمر کے افراد
» موٹاپے کے مریض
» شوگر کے مریض
» مرد حضرات
» سگریٹ نوشی کرنے والے افراد
» جن افراد کے خون میں کولیسٹرول/چکنائی کی مقدار زیادہ رہتی ہو
» جن افراد کے خاندان میں دل کا مرض عام ہو
» وہ افراد جو ورزش نہ کرتے ہوں
• ہارٹ اٹیک کی علامات ظاہر ہوں تو کیا کرنا چاہیے؟
سب سے پہلے وقت ضائع کیے بغیر مریض کو بالکل سیدھا لٹا دیں
اور پھر اس کی زبان کے نیچے Angised کی ایک گولی رکھ دیں
مریض کو فوراً قریبی ہسپتال یا کلینک پہنچایا جائے اور مریض سے کہیں کہ وہ چلنے سے گریز کرے۔ مریض کا ای سی جی (ECG) ٹیسٹ کروائیں اور ڈاکٹر کو دکھائیں۔
• ہارٹ اٹیک کا علاج کیا ہے؟
ہارٹ اٹیک میں دل کے پٹھوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کا علاج اس پر منحصر ہے کہ دل کو کتنا نقصان ہوا ہے۔ اگر مریض کو بروقت ہسپتال پہنچا دیا جائے تو صرف ادویات ہی علاج کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ تاہم اگر مرض زیادہ شدید ہو تو آلات کے ذریعے سے دل کی شریانوں کو کھولا جاتا ہے (Angioplasty) یا پھر متعلقہ شریان میں ایک سپرنگ نما آلہ (Stent) لگایا جاتا ہے تاکہ شریان دوبارہ بند نہ ہو۔ اگر یہ علاج ناکافی ہو تو آپریشن کے ذریعے رکاوٹ کی جگہ سے ہٹ کر خون کی سپلائی کے لیے متبادل راستہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مریض کو ادویات بھی مستقل طور پر لینا ہوتی ہیں۔
• ہارٹ اٹیک اور عام دل کے درد میں کیا فرق ہے؟
عام دل کا درد یعنی انجائنا (Angina) عام طور پر 30 منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا اور آرام کرنے پر کم ہو جاتا ہے جب کہ ہارٹ اٹیک کا درد آرام کرنے سے کم نہیں ہوتا اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔
انجائنا کا درد زیرِ زبان Angised کی گولی رکھنے سے کم ہو جاتا ہے جب کہ ہارٹ اٹیک کا درد کم نہیں ہوتا۔ اس کا دورانیہ 30 سے زیادہ ہوتا ہے۔
« علامات ظاہر نہ ہوں لیکن ہارٹ اٹیک ہو جائے »
ایسا عام طور پر بوڑھے افراد میں یا شوگر کے مریضوں میں ہوتا ہے کہ علامات مکمل طور غائب ہوں یا جزوی طور پر ظاہر ہوں لیکن ہارٹ اٹیک کے باعث مریض دم توڑ جائے۔ تاہم یہ کسی بھی عمر کے افراد میں ہو سکتا ہے۔ اسے خاموش ہارٹ اٹیک (Silent Heart Attack) کہا جاتا ہے۔
« علامات واضح ہوں لیکن ہارٹ اٹیک نہ ہو »
بعض اوقات شدید پریشانی اور بے چینی کے باعث اچانک سینے میں شدید درد ہوتا ہے اور ٹھنڈے پسینے آنے لگتے ہیں۔ یہ نفسیاتی مسئلہ ہے جسے پینک اٹیک (Panic Attack) کہتے ہیں۔ پینک اٹیک میں مریض کی ECG/دل کی کارکردگی دکھانے والی رپورٹ نارمل ہوتی ہے جب کہ ہارٹ اٹیک میں ECG خراب واضح ہوتی ہے۔
« ہارٹ اٹیک اور دل کی دیگر بیماریوں سے بچنے کے اصول »
» بلڈ پریشر کو ادویات کی مدد سے قابو میں رکھیں
» چکنائ اور تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں۔
» کھانے میں نمک کا استعمال کم کریں
» سگریٹ نوشی اور شراب نوشی نہ کریں
» روزانہ ورزش کریں اس طرح کبھی خدانخواستہ آپ کے دل کو خون پہنچانے والی کوئی نالی کسی جگہ بند ہو بھی جائے تو اور بہت سی ساتھ پڑی نالیاں جو دل تک جاتی ہیں وہ ورزش کرنے کی وجہ سے کھل چکی ہوتی ہیں، لہذا کبھی مسئلہ ہو بھی تو ہمارا جسم، ہمارا دل متبادل راستہ اختیار کر لیتا ہے، بشرطیکہ ہم ورزش کریں!
» سال میں کم از کم تین بار کولیسٹرول چیک کروائیں اور روٹین چیک اپ کروائیں
» وقت پر سوئیں اور مکمل نیند کریں
» خود کو پریشانیوں سے آزاد رکھیں۔
21/08/2023
سانس کا پھولنا اور دل کی دھڑکن کا تیز ہونا کس حالت کی علامت ہے؟
سانس کا پھولنا کی وجوہات کیا ہیں؟
سانس کی قلت کے زیادہ تر معاملات دل یا پھیپھڑوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ آپ کا دل اور پھیپھڑے آپ کے ٹشوز میں آکسیجن پہنچانے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہٹانے میں ملوث ہوتے ہیں، اور ان میں سے کسی ایک عمل کے ساتھ مسائل آپ کی سانس کو متاثر کرتے ہیں۔ مگر ایسے دوسرے مسائل بھی ہیں جو سانس کی خرابی کا باعث بنتے ہیں۔
سانس کا پھولنا کی سب سے عام وجوہات درج ذیل ہیں۔
۔ 1 کسی الرجک کا رد عمل ہونا۔
۔ 2 دمہ کی بیماری ہونا۔
۔ 3 خون کی کمی کا ہونا۔
۔ 4 گھبراہٹ کے حملے ہونا۔
۔ 5 عضلات کا شکل سے باہر ہونا (عضلات کا ڈی کنڈیشننگ)
۔ 6 اونچائی پر ہونا۔
۔ 7 دم گھٹ رہا ہے۔
۔ 8 سانس کی شدید رکاوٹ پلمونری بیماری۔
۔ 9 پھیپھڑے کا خراب ہونا۔
۔ 10 بلڈ پریشر کا کم ہونا۔
۔ 11 پھیپھڑوں کا کینسر، ہونا۔
۔ 12 بہت زیادہ موٹاپا ہونا۔
۔ 13 سانس کی نالی کے انفیکشن جیسے نمونیا یا برونکائٹس کا ہونا۔
۔ 14 سخت ورزش کرنا۔
۔ 15 کارڈیو مایوپیتھی، ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیلیئرکا ہونا۔
طبی وجوہات میں شامل ہیں۔
۔ 1 تھائیرائیڈ کا مسئلہ۔
۔ 2 بخار، خون کی کمی۔
۔ 3 ہائپر وینٹیلیشن۔
۔ 4 خون میں آکسیجن کی کم سطح ہونا۔
۔ 5 کچھ ادویات۔
۔ 6 اریتھمیا دل کی بیماری۔
۔ 5 سانس کا پھولنا ، علامات کیا ہیں؟
علامات کی پیمائش ڈاکٹر کے ذریعہ نہیں کی جاسکتی ہے، لیکن یہ علامات آپ کو بہت حقیقی محسوس ہوں گی۔ عام طور پر دل کی بے قاعدہ دھڑکن سے منسلک یہ علامات ہوتی ہیں۔
۔ 1 تھکاوٹ
ہر شخص کام کرنے کے تھوڑی دیر میں تھکاوٹ کا تجربہ کرتے ہیں۔ تاہم، اگر آپ مستقل طور پر تھکاوٹ محسوس کر رہے ہیں، تو یہ آپ کے سانس کا پھولنا کا سبب اور دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی میں مبتلا ہونے کی علامت ہو سکتی ہے۔
۔ 2 چکر آنا
سانس کا پھولنا اور چکر آنا آپ کو ہلکا پھلکا، غیر متوازن اور پریشان کن محسوس کراے گا۔ چکر آنے کے زیادہ سنگین معاملات میں، کمرہ ایسا محسوس کر سکتا ہے جیسے یہ گھوم رہا ہے یا ہل رہا ہے۔
۔ 3 بے چینی
بے چینی سانس کا پھولنا کی اکثر وجوہات میں سے ایک ہوتی ہے۔ جیسا کہ زیادہ تر نفسیاتی مرض میں، بے چینی سے نمٹنا آسان نہیں ہے، لیکن مناسب علاج، جیسے کاؤنسلنگ اور عام محرکات، جیسے تناؤ کی روک تھام، دھڑکن کی تیزی کو کم کر سکتی ہے اور آپ کو صحت مند زندگی سے لطف اندوز ہونے کے قابل بنا سکتی ہے۔
۔ 4 سینے کا درد
سینے میں درد عام طور پر آپ کے کندھوں سے نیچے آپ کی پسلیوں تک محسوس ہوتا ہے۔ سینے میں درد کئی کیفیات کی علامت ہو سکتا ہے، جن میں سے ایک سانس کا پھولنا ہے۔ اگر آپ سینے میں درد محسوس کرتے ہیں تو آپ کو دل کے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور لینا چاہئے۔ اگر آپ اپنی علامات کے بارے میں فکر مند ہیں، تو آپ کو کسی طبی پریکٹیشنر سے بات کرنی چاہیے۔
دل کی بے ترتیب دھڑکن کو منظم کرنے کے مختلف طریقوں سے متعلق مزید معلومات کے لیے آپ ڈاکٹر سے مشورہ کرسکتے ہیں کیونکہ علاج کے ساتھ ساتھ احتياط بھی بہت ضروری ہے۔
۔ 6 احتیاطی تدابیر۔
جتنی جلدی ممکن ہو ڈاکٹر کو کال کریں اگر آپ کو سانس کا پھولنا، تھکاوٹ اور چکر آتے ہیں۔ اگر آپ کی سانس کی قلت اچانک، بگڑتی یا شدید ہو، یا اگر آپ کو کوئی شدید علامات کا سامنا ہو تو دیر نہ کریں۔جیسے کہ۔۔۔
۔ 1 سینے، گردن، جبڑے یا بائیں بازو میں درد کا ہونا۔
۔ 2 سرد چپچپا جلد یا بخار کا ہونا۔
۔ 3 کھانسی میں خونی یا جھاگ دار بلغم کا ہونا۔
۔ 4 دوڑنا یا تیز نبض کا چلنا۔
۔ 5 بیہوش ہونا۔
سانس کا پھولنا کی بہت سی وجوہات ہیں، جن کی وجہ سے تشخیص تلاش کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ یہ ایک سنگین طبی پیچیدگی ہے جو عام طور پر پھیپھڑوں اور دل کے مسائل، ادویات، اعصابی اور میٹابولک بیماری کی وجہ سے ہوتی ہے۔ان سے بروقت بچاؤکے لیے آپ ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں تاکہ بہت سی دیگر بیماریوں سے بچا جاسکے۔
****Dania Irfan is one of the top notch Urdu writers from Lahore, working in Health industry for over a year. Her work has been featured in national publications such as Marham.pk. Before becoming a full time writer, Dania has worked as a professional teacher and has an extensive knowledge in teaching.***
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Karachi