SI writes

SI writes

Share

27/09/2025

اٹھو اور صوفے پر جاؤ۔۔۔۔میں صوفے پر نہیں جاؤں گی۔۔۔یہ میرا بیڈ ہے۔۔۔۔کائنات کی بحث پر اسنے بھنویں اچکائے۔۔۔۔جہیز میں نہیں لے کر آئی تھی۔۔۔۔تو کیا آپ کو جہیز چاہیے تھا؟؟؟جہیز ایک لعنت ہوتی ہے وہ حیران ہونے کے ساتھ روحانسی ہوئی۔اگر اسحاق یزدانی سے بیڈ کو لیکر الجھنا تھا تو یہ لعنت اپنے ساتھ لے کر آنی چاہیئے تھی،وہ بڑے آرام سے بولا،،،آپ کو شرم نہیں آتی؟؟؟آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟؟؟وہ منہ پھلا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔اسحاق نے ناک سے مکھی اڑائی،،جیسے اسے کائنات کی ناراضگی سے کوئی فرق نہ پڑتا ہو۔۔۔۔اتر جاؤ بیڈ سے نیچے۔۔۔۔ورنہ کچھ الٹا سیدھا ہو جائے گا۔۔۔پھر تم روتی پھرو گی،،،

کمپلیٹ لنک کمنٹ سیکشن میں موجود ہے
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇

22/09/2025

۔۔۔۔تم مجھے گن چلانا سکھاؤ گے۔۔۔۔گن چلانے کے نام پر آفاق کے کان کھڑے ہو گئے۔۔۔آنکھیں چھوٹی کر کے بغور زوہا کی جانب دیکھا۔۔۔شاید جانچنے کی کوشش کر رہا تھا کہیں وہ مذاق تو نہیں کر رہی۔مگر اُسکے چہرے پر بلا کی سنجیدگی رقصاں تھی۔۔۔گن کیوں چلانا سیکھنی ہے؟؟؟سوال اٹھانا تو بنتا تھا آخر وہ گن چلانے کی بات کر رہی ہے۔۔میرا کچھ ذاتی کام ہے۔۔۔۔ذاتی کام تو اس نے ایسے کہا،،جیسے خاندانوں کے جھگڑوں میں پھنسی ہوئی ہو۔۔۔۔آفاق نے ایک بھنویں کو اونچا کر کے اسے دیکھا۔۔۔پہلے تم مجھے بتاؤ گی گن کیوں چلانی ہے اور تمہارا نشانہ کون ہے؟؟؟پہلے تو آفاق کے سوال پر وہ خاموش سر جھکائے بیٹھے رہی اور پھر سر اٹھا کر اسی کی جانب دیکھا اور مسلسل اسے ہی دیکھتی رہی۔۔۔پہلے پہل تو اسے کچھ نہیں سمجھا اور پھر ذہن میں جو خیال آیا۔۔۔اسے سمجھ کر کان کھڑے تھے۔۔۔میں جانتا تھا تم دونوں بہنوں کا نشانہ میں ہی ہوں۔۔۔۔پہلے اس نے زور آزمائی کر کے دیکھ لی۔۔۔۔جب اس سے کام پورا نہیں ہوا تو اب تم میرا کام تمام کرنا چاہتی ہو۔۔۔مجھ سے سیکھ کر مجھ پر ہی آزماؤ گی۔۔۔وہ زوہا کے ارادے سمجھ کر جل بھن گیا۔۔۔ میں تمہیں کبھی گن چلانا نہیں سکھاؤں گا۔۔۔چڑیل کہیں کی

کمپلیٹ لنک کمنٹ سیکشن میں موجود ہے
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇

20/09/2025

یار تم کمال بندی ہو۔۔۔۔کچھ ہلکا پھلکا لے آؤ۔۔میں کب سے پائے ہی کھا رہا ہوں۔۔۔۔وہ بے زاری سے گویا ہوا اور اس بات میں کوئی شک بھی نہیں۔۔۔۔کافی دنوں سے ہیوی کھا کھا کر معدے کی بس ہو گئی تھی۔۔۔اب واقعی وہ کچھ ہلکا پھلکا کھانا چاہتا تھا۔۔۔۔بڑی بات ہے،،،اگر میں کریلے پکاؤں،،تب بھی آپ کو مسئلہ ہو جاتا ہے مونگ دال سے بھی آپ کو پریشانی ہے،،اب پائے سے بھی آپ کو پریشانی ہونے لگی۔۔۔وہ لڑاکا عورتوں کی طرح ہاتھ نچا نچا کر اسے ایک ایک چیز گنوا کر طعنے دے رہی تھی وہ سر تھام کر رہ گیا۔۔۔۔ایک چیز بار بار اچھی نہیں لگتی،،،وہ تحمل سے اسے سمجھانے لگا۔۔۔ایک چیز تھوڑی نہ ہے،، میں تین دن کے بعد بکرے کے پائے لائی ہوں۔۔۔محترمہ آپ کل بھی پائے ہی لائیں تھی۔۔۔آفاق نے دانت پیسے۔۔۔لیکن کل تو بھینس کے پائے تھے۔اور آج بکرے کے پائے ہیں۔۔۔زوہا کی بات پر وہ ضبط کی انتہاؤں کو چھو کر واپس آیا۔۔۔۔لیکن پائے تو پائے ہیں نا،،،جیسے ہڈی تو ہڈی ہوتی ہے،،،تھوڑی دیر پہلے ہونے والی بحث میں،،ایجاد ہوئی عجیب و غریب منطق کو آفاق نے زوہا کے اوپر الٹ دیا۔۔۔۔مگر بھینس اور بکرے میں تو فرق ہے۔۔۔ایک بھینس ہے اور ایک بکرا ہے وہ مزے سے گویا ہوئی۔۔۔۔یا اللہ مجھے لگتا ہے میں گدھا ہوں۔۔۔وہ تو آپ ہیں۔۔۔ پہلی بار وہ آفاق کی بات سے متفق ہوئی۔۔وہ دانت پیس کر رہ گیا۔۔۔۔

👇👇👇👇👇👇👇👇
کمپلیٹ لنک کمنٹ سیکشن میں موجود ہے

13/09/2025

#وارث



وارث
ایس آئی رائٹس
قسط نمبر 5
آج بڑے دنوں بعد اس نے پرانے سوٹ کیس میں سے اپنے شوہر آدم بلوچ کی تصویر نکالی اس کی وجہ آج کے دن کا بہت خاص ہونا تھا۔
ورنہ برسوں پہلے اس نے یہ تصویر اس سوٹ کے اندر کپڑوں کے نیچے چھپا کر رکھ دی تھی کیونکہ اس کے مطابق اب یہ صرف تصویر بس یاد ہی بن کر رہ گئی ہے۔
کیونکہ آدم بلوچ سے محبت کی قیمت اسے بہت مہنگی چکانی پڑی تھی۔ وہ چاہ کر بھی اس تصویر کو دوبارہ نہیں نکالنا چاہتی تھی۔
اس کی زندگی میں جو حادثہ ہوا تھا اس کے بعد تو ہرگز نہیں۔
آج میں نے آپ کی تصویر کو اس لیے نکالا ہے کیونکہ آج مجھے آپ کو بتانا ہے کہ آپکا بیٹا بڑا ہو گیا ہے۔
تصویر کو ہاتھ میں لیے وہ چارپائی پر آبیٹھی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
نجانے یہ آنسو خوشی کے تھے یا پھر تکلیف کے اس وقت کچھ بھی کہہ پانا مشکل تھا۔
لیکن شاید یہ آنسو خوشی کے ہی تھے مگر آنکھوں میں اِن آنسوؤں کے پیچھے بے پناہ نفرت چھلک رہی تھی یہ نفرت اس کے شوہر کے لیے نہیں بلکہ بلوچ خاندان کے لیے تھی۔
جانتے ہیں۔۔ وہ میری خاطر اپنے ہی خاندان سے ٹکڑا رہا ہے۔
میں نہیں جانتی وہ حق پر ہے یا نہیں۔
کیونکہ مجھے اس بات کا علم نہیں۔
مگر میں اتنا ضرور چاہتی ہوں کہ میں اس حویلی کے اندر جاؤں۔
اپنے دل کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے اس کے چہرے کے تاثرات پتھریلے ہو چکے تھے اگر کوئی اس وقت زنیرہ کو دیکھ لیتا تو یقین نہیں کر پاتا یہ وہی ملنسار خاتون ہے جس کے چہرے سے کبھی مسکراہٹ غائب نہیں ہوتی۔
اس حویلی والوں سے مجھے کوئی دشمنی نہیں تھی جب تک وہ اس دکھ میں تھے کہ ان کا بیٹا مر گیا ہے۔
لیکن اب مجھے وہاں کے ایک ایک مکین سے نفرت ہے۔
مجھے نفرت ہے اپنی محبت سے جو میں نے آپ سے کی اور اس خاندان کا حصہ بن گئی۔
آدم بلوچ کی تصویر پر اس کی پکڑ حد درجہ سخت ہو گئی۔
اگر مجھے پتہ ہوتا میری محبت مجھے ایسے دلدل میں لے جائے گی تو میں زندگی میں محبت کرنے سے پہلے توبہ کرتی۔
میں ساری زندگی کنواری رہنا پسند کرتی مگر کبھی محبت نہ کرتی۔
کیا پایا میں نے آپ کی محبت پا کر،، دو دن کی قربت اور ساری زندگی کی رسوائی۔۔
اس کے دل و دماغ شاید اس وقت تکلیف کی آخری حد سے گزر رہے تھے۔
میرے پاس ایک عزت ہی تھی مگر آپ کے خاندان نے آپ کے جانے کے بعد اس کا بھی مان نہ رکھا۔
ضبط کے مارے اس نے آنکھیں بھینچی تو دماغ کے پردوں پر کئی ایسے مناظر گھوم گئے جو روح کو گھائل کردینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
جس میں خالد بلوچ نے اس کے ساتھ۔۔۔۔
اس سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی تصویر کو ایک طرف پھینک کر وہ کھڑکی میں آکھڑی ہو گئی۔
میں دعا کروں گی آج میرا بیٹا کیس جیت جائے اگر وہ کیس نہیں جیت پاتا۔
تب بھی خالد بلوچ کی موت میرے ہاتھوں لکھی ہے میں اس انسان کو مار دوں گی چاہے پھر اس کے بعد مجھے خود موت کے گھاٹ اترنا پڑے۔
وہ انسان زندہ رہنے کے قابل نہیں ہے۔
آدم بلوچ کی تصویر کو ایک طرف رکھ کر وہ
کھڑکی میں آکھڑی ہوئی۔التمش گھر نہیں تھا۔آجکل نجانے راتوں کو اٹھ کر کہاں چلا جاتا تھا۔
اُسے آج بھی وہ دن یاد تھا۔جب دس سالہ التمش کو اسکول بھیج کر وہ گھر کے کام کاج سے فارغ ہوکر کتاب پڑھنے میں مصروف تھی۔دن کے بارہ بج رہے تھے جب خالد بلوچ اُسکی انیکسی میں آدھمکا۔
اسے لگا شاید کسی کام سے آیا ہوگا۔مگر اسکے ارادے تو کچھ الگ ہی تھے۔اوہ زنیرہ۔۔۔کیسی ہو۔بنا بولے ہی وہ اُسکے برابر چارپائی پر آبیٹھا۔۔سر پر دوپٹہ لیکر وہ کھڑی ہوگئی۔بھائی آپکو کوئی کام تھا۔کھڑی کیوں ہوگئی آؤ ہمارے پاس بیٹھو۔جی۔۔۔۔وہ دوسری چارپائی پر بیٹھ گئی۔ارے وہاں نہیں ہمارے پاس بیٹھو۔نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔آپ کسی کام سے آئے تھے۔اُسنے اَپنا سوال دہرایا۔آپکی تنہائی بانٹنے آیا ہوں۔بھائی کو گئے سات سال ہوگئے ہیں آپکو یہ تنہائی کاٹنے کو نہیں دوڑتی۔وہ اُسکے دلکش سراپے کو بغور دیکھنے لگے۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے میرے پاس التمش ہے تو مجھے کسی تنہائی کا احساس نہیں۔پھر بھی یوں بھری جوانی میں آپکا یہ خوبصورت بدن کسی کی قُربت کیلئے۔۔۔۔۔وہ آگے بھی بولتا مگر زنیرہ نے اُسکی بات کو درمیان میں ہی کاٹ دیا۔بھائی صاحب اپنی حد میں رھ کر بات کریں بھولیں مت،، آپکے مرحوم بھائی کی بیوی ہوں۔مرحوم بھائی ناں۔۔۔اب وہ زندہ نہیں ہے تومجھے اپنا محبوب بنا لو۔عیش کرو گی۔
آپ ابھی اسی وقت یہاں سے نکل جائیں۔آخر کار اسے ہر لحاظ ایک طرف رکھنا پڑا۔خالد بلوچ کی انا پر وار ہوا تھا۔وہ اٹھ کر انیکسی کے دروازے تک آیا۔زنیرہ بھی دروازہ بند کرنے کی غرض سے آگے بڑھی۔لیکن خالد نے یکدم اس پر حملہ کرکے زنیرہ کو چارپائی پر گرا دیا۔خود یکدم اُسکے اُوپر آکر اگلے ہی پل اُسکے دوپٹے کو سینے سے کھینچا۔چھوڑیں مجھے کوئی ہے بچاؤ۔۔۔۔۔اس سے آگے اُسکے الفاظ منہ میں ہی گم ہوگئے۔خالد نے اسی کا دوپٹہ منہ میں ٹھونس کر اُسکا منہ بند کردیا۔اور فرش پر پڑی ایک ٹوٹی تار کے ٹکڑے سے اُسکے ہاتھوں کو باندھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔بھابھی جی۔اگر پیار سے مان جاتیں تو یوں زبردستی نہ کرنی پڑتی۔
آپ تو ہیں بھی شادی شدہ۔چند پل ایک ساتھ گزار لیتے تو بھلا کس کو پتہ چلنا تھا۔
نہ تو میں کسی کو بتاتا اور نہ آپکو یوں بھری جوانی ضائع کرنی پڑتی۔وہ ہنس رہا تھا۔اور زنیرہ نفی میں سر ہلا کر اسے ہر عمل سے باز رکھنے کی کوشش کررہی تھی۔
لیکن خالد بلوچ کے سر پر شیطان سوار ہوچکا تھا۔وہ للچائی نظروں سے اسکے حسین وجود کو دیکھ رہا تھا۔
جیسے ہی وہ اُسکی طرف بڑھا تو زنیرہ نے لات مار کر اسے خود سے دور کردیا۔سالی۔۔۔۔اُسکے لیے غلط الفاظوں کا استعمال کرکے خالد بلوچ نے گھر میں ہی ایک بڑا کپڑا اٹھایا اور زنیرہ کے پیروں کو ایک دوسرے سے دور کرکے دائیں بائیں چارپائی پر باندھ دیا۔آج تم نے میری غیرت کو للکارا ہے۔اب میں تمہیں کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑوں گا۔زنیرہ خود کو آزاد کروانے کی مکمل جان توڑ کوشش کر رہی تھی مگر اسکے ہاتھوں پیروں کو اسقدر سختی سے باندھا گیا تھا کہ وہ چاہ کر بھی اپنی مدد نہیں کرسکی۔
وہ اُسکے وجود کو نوچتا رہا،،اور زنیرہ کا وجود بالکل بے جان ہوگیا۔
آنسو یکدم رک گئے۔
کیا اِس سے اوپر اُسکی زندگی برباد ہوسکتی تھی۔یقیناً نہیں۔
کیا ہوا اب شور نہیں کرنا۔مزہ آنے لگا ہے کیا۔
پہلے ہی مان جاتی اور اتنا ڈرامہ نہ کرتی تو دونوں کو برابر کا مزا آتا۔
ویسے بہت کمال چیز ہو بھابھی۔اگر میرے پاس ہوتی تو پورے مہینے بستر سے پاؤں نیچے دھرنے نہ دیتا۔
میرے ویسے دو ہی بیٹے ہیں لیکن اگر آپ کے ساتھ شادی ہوتی تو دو سال میں تین بار آپکے پاؤں بھاری کردیتا۔اور بچوں کا سلسلہ اب تک رکا نہیں ہوتا۔
اتنی رس بھری جوانی ہے کہ اگر ساری زِندگی بھی پیتا رہوں تو یہ جام ختم نہ ہو۔یونہی میرا بھائی دیوانہ نہیں ہوا۔
وہ ابھی بھی للچائی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
جانے کا دل نہیں کر رہا مگر جانا پڑے گا۔۔ اپنی جوانی کا خاص خیال رکھا کریں بھابھی۔ایسا حسن سب کو نصیب نہیں ہوتا۔
اب آنا جانا لگا رہے گا بھابھی جی۔
وہ خباثت سے کہتا وہاں سے چلا گیا۔اور زنیرہ چھت کی طرف دیکھتے ہوئے صرف خدا سے مخاطب تھی۔ایسی زندگی سے موت بھلی تھی۔کاش آدم کی جگہ گولیاں مجھے لگی ہوتیں۔

اُسے اب انصاف چاہیئے تھا۔وہ خادم بلوچ کے آنے کا انتظار کررہی تھی کیونکہ وہ شہر سے باہر گیا تھا۔اگر وہ انصاف نہیں کرے گا تو غفور بلوچ کا وکیل جو ہر مہینے آکر پیسے دے جاتا تھا وہ اُس سے بات کرے گی مگر خالد بلوچ کو اُسکے انجام تک پہنچا کر ہی دم لے گی۔
دو ہفتے بعد وہ دوبارہ اس کے پاس آگیا آج پھر اس کے وہی ارادے تھے جو اس دن تھے۔
خبردار جو تم آج میرے پاس آئے میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی یا تو میں مر جاؤں گی یا پھر تمہیں مار دوں گی۔
زنیرہ کے ہاتھ میں اس وقت چھری تھی۔ارے بھابھی آپ نے پھر اس دن والا ڈرامہ شروع کر دیا۔
اب آپ چاہتی ہیں کہ میں دوبارہ اس دن کی طرح آپکے ساتھ زبردستی کروں۔
کیا آپّ کو یہ بہت پسند ہے بھائی کے ساتھ بھی ایسے ہی کرتی تھی۔
ویسے اس طرح بھی بہت مزہ آیا تھا۔
وہ خباثت سے ہنستا ہوا اس کے قریب آگیا۔ میں کہہ رہی ہوں دُور رہو۔
ایک بار آپکو چکھ لیا ہے اب دوبارہ دُور نہیں رہا جائے گا۔وہ لبوں پر زبان پھیرتے آگے بڑھنے لگا زنیرہ نے چھری سے خالد بلوچ کے بازو پر وار کیا۔
ایک بار پھر آپ نے مجھے غصہ دلوا دیا وہ سرخ آنکھوں سے دوبارہ اس کی طرف بڑھا اور ایک زناٹے دار تھپڑ زنیرہ کے منہ پر دے مارا۔وہ پل بھر میں ہی زمین بوس ہوگئی۔چھری ہاتھ سے چھڑوا کر ایک طرف پھینک کر وہ زمین پر ہی اُسکے ساتھ زبردستی کرنا چاہی۔لیکن اس بار التمش آگیا اسنے آج اسکول سے چھٹی کی تھی ہاتھ میں بیٹ بال تھی۔اپنی ماں کے ساتھ خالد بلوچ کو زبردستی کرتے دیکھ اُسکا دماغ گھوم گیا۔حالانکہ وہ دس سال کا تھا مگر اسمیں غصے کی کمی نہیں تھی۔اپنے ہاتھ میں پکڑا بیٹ گھما کر خالد بلوچ کی کمر پر دے مارا۔وہ درد کے مارے بلبلا اٹھا۔اپنی حالت درست کرتی زنیرہ نے التمش کے ہاتھ سے بیٹ لیا اور خالد بلوچ کو مارتی ہوئی حویلی کے آنگن میں لے آئی۔خادم بلوچ جو دو گھنٹے پہلے ہی شہر سے واپس آیا تھا گھر میں ایسا تماشہ دیکھ کر دنگ رھ گیا۔
اے لڑکی۔۔۔یہ تم کیا کر رہی ہو۔ خادم بلوچ کا دماغ گھوم گیا۔
یہ تو آپ اپنے بھائی سے پوچھیں۔
اس نے اپنی بیوہ بھابھی کے ساتھ زبردستی کی ہے اور آج دوبارہ یہ میری عزت کے ساتھ کھیلنے آگیا۔
آپ لوگ پورے گاؤں کا انصاف کرتے ہیں تو آج اپنے گھر میں بھی انصاف کریں۔
اس انسان کی کیا سزا ہے۔
میری عزت لوٹنے پر آپ اسے کیا سزا دیں گے۔ اسے موت کے گھاٹ اتار دیں۔ یہ انسان کہلانے کے قابل نہیں۔وہ روتی ہوئی پوری حویلی میں چیخ چیخ کر انصاف مانگ رہی تھی۔
یہ میں کیا سن رہا ہوں خالد۔۔۔
خادم نے غصے سے اُسکی جانب دیکھا
خالد بلوچ نے جب اپنے گلے میں ساری فلم آتی دیکھی۔ تو اپنی حرکت پر شرمندہ ہونے کے بجائے الٹا الزام زنیرہ پر ہی ڈال دیا۔
یہ جھوٹ بول رہی ہے بھائی۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔بلکہ دو ہفتے پہلے یہی مجھے اپنے پاس بلا کر لے گئی تھی۔
کہنے لگی کہ تمہارا بڑا بھائی آج گھر پر نہیں ہے۔آج ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ سو لیتے ہیں اسے اس کی جوانی کاٹ کھانے کو دوڑ رہی ہے اور باہر کا کوئی سہارا اس کے پاس موجود نہیں ہے۔ گھر کا بندہ سمجھ کر یہ مجھ پر ڈورے ڈال رہی تھی اور یہ آج سے نہیں بہت وقت پہلے سے ہو رہا ہے۔
مجھے اپنی طرف مائل کرنے کے ہزار حیلے کرتی ہے۔
اِس دن زبردستی اِس نے مجھ سے وہ سب کروایا۔ مجھے ریجھایا۔
خالد بلوچ نے جب اپنا مدعا سامنے رکھا تو خادم بلوچ نے کھا جانے والی نظروں سے زنیرہ کی طرف دیکھا۔
جس کے پاؤں تلے سے زمین ہی نکل گئی تھی۔
یہ جھوٹ بول رہا ہے میں نے ایسا کچھ نہیں کہا اسے۔
اس کے غلط ارادے ہیں۔ یہ غلط ہے،،
تم میرے بھائی کو غلط بول رہی ہو۔
خادم بلوچ اس کی طرف کڑے تیور لیے بڑھا۔
میرا بھائی بالکل سچ بول رہا ہے اگر کوئی جھوٹ بول رہا ہے تو وہ تم ہو۔
خادم بلوچ عین اسکے مقابل آگیا۔
تم نے میرے بڑے بھائی کو بھی اپنے حسن کے جال میں پھنسایا پھر اس خاندان میں داخل ہوئی۔
اب اِس سے پہلے میں تمہارا حشر نشر کروا دوں۔
اپنی شکل لے کر یہاں سے چلی جاؤ اور اپنے اس بیٹے کو بھی یہاں سے لے کر جانا۔ پتہ نہیں یہ میرے بھائی کا خون ہے بھی یا پھر تمہارے ہی کسی گناہ کا نتیجہ ہے۔

ہاں ہاں یہاں سے چلی جاؤ تمہارے جیسی عورت ہمارے خاندان کے لائق ہی نہیں ہے تمہاری پرچھائی بھی ہماری نیک بیویوں اور بچوں پر نہیں پڑنی چاہیے۔
خالد بھی اسکے سر پر چڑھ آیا۔
وہاں کی عورتیں بھی اسے گندی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
وہ روتی ہوئی لڑکھڑاتے قدموں سے چند قدم پیچھے ہٹی۔
یہ غلط ہے۔۔۔ تو تم لوگ میرے ساتھ غلط کر رہے ہو۔
میں کورٹ میں جاؤں گی، انصاف مانگوں گی اس کی دھمکی پر خالد بلوچ ہنس دیا۔ تمہاری دھمکی کا کچھ نہیں ہوگا۔
کوٹ کچہری سب ہمارے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ چاہو تو کیس کر کے دیکھ لو
ہم تمہیں کورٹ میں بھی غلط پروف کر دے گے۔کیونکہ تم غلط ہو۔
خالد بلوچ کی آنکھوں میں اُسکے لیے واضح چیلنج تھا
اگر میرا بھائی غلطی پر بھی ہوا۔ تب بھی ہم تمہیں کبھی جیتنے نہیں دیں گے۔ تمہیں کون کہہ رہا ہے کہ اس حویلی کے اندر رہو۔ جاؤ۔۔۔یہاں سے نکل جاؤ۔ جب یوں مردوں کے سامنے دعوت نظارہ بن کر گھومو گی تو مردوں کا ایمان تو ڈگمگائے گا ہی۔۔۔۔
خادم بلوچ کی باتوں نے اس کی روح تک کو زخمی کر دیا۔ وہ تو پہلے ہی اپنی عزت کے ساتھ کھلواڑ کروا کر بیٹھی تھی۔
نجانے کون سی گھڑی میں اس نے خادم بلوچ سے انصاف کی اُمید لگا لی تھی جانتے ہوئے بھی کہ یہ پورا خاندان اس سے نفرت کرتا ہے۔
آئندہ اگر تم یا تمہارا بیٹا حویلی کے اندرونی حصے میں دکھائی بھی دیئے تو دونوں کے پیر کاٹ دیے جائیں گے۔
ان حویلی کے مکینوں کو نجانے کس بات کا غرور تھا وہ التمش کو اپنے ساتھ لیے دوبارہ انیکسی میں آگئی مگر وہ پھر بھی ہار ماننے والی نہیں تھی۔ بہت کوشش کی کہ اپنے لیے انصاف لے لے۔
وکیلوں کو بھی ہائر کیا،،مگر سوائے رسوائی کے اس کے ہاتھ کچھ نہیں آیا جتنی رسوائی حویلی کے اندر ہوئی تھی کوٹ کچہری میں جانے کے بعد وہ پورے زمانے میں رسوا ہو کر رہ گئی۔
بعض اوقات اس کے دماغ میں یہ بھی آتا کہ وہ اپنی زندگی ہی ختم کر لے لیکن وہ یہ بھی نہیں کر سکتی تھی اس کے ساتھ ایک ننھی جان جڑی تھی۔
اس کی زندگی کا یہ پہلا دن تھا جب اس نے اپنے سسر کی بات کو سیریس لیا۔اب وہ خود چاہتی تھی کہ اس کا بیٹا ایک بہت بڑا وکیل بنے اور ان لوگوں کے خلاف لڑے جو انصاف اسے دنیا نہیں دے پائی وہ اس کا بیٹا دلوائے۔
لیکن جب التمش نے وکالت کی پڑھائی شروع کی تو بلوچ خاندان نے دوبارہ اس پر اپنا پریشر بنانا شروع کر دیا۔
بار بار وہ زنیرہ کو اُسکے بیٹے کو مارنے کا ڈراوا دیتے۔
اگر تمہارے بیٹے نے ہمارے خلاف سر اٹھانے کی کوشش بھی کی۔ تو تم اچھے سے جانتی ہو جان لینا ہمارے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
جس دن انکے خلاف کیس درج ہوا اِس دن بھی خادم بلوچ اسے دھمکا کر گیا۔
وہ اُوپر اُوپر سے اپنے بیٹے کو ان سے دور رہنے کا کہتی تاکہ التمش وہ سچ اسے بتا دے جو اُسے نہیں پتہ۔۔۔۔
وہ جائیداد کے لئے لڑ رہا تھا اور زنیرہ کو جائیداد کا لالچ ہرگز نہیں تھا۔مگر پھر بھی اسے من مرضی کرنے دے رہی تھی اگر واقعی وہ حویلی میں داخل ہوگئی تو اب اُسے اپنا انتقام لینے سے پورا بلوچ خاندان مل کر بھی نہیں روک سکتا تھا۔

§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§
-----------------------------------
Si writes novel Zone
-----------------------------------
§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§

اِدھر آؤ اریبہ۔۔۔۔شان نے اسے اپنے پاس بلانا چاہا۔ میں تمہارے پاس نہیں آؤں گی۔مذاق نہیں کرو ادھر آؤ میرے پاس۔
وہ اسے پیار سے بلا رہا تھا۔ میں تمہارے پاس نہیں آؤں گی نہ جانے یہ تمہارا کون سا طریقہ ہے ہماری شادی کو 15 دن ہو گئے ہیں۔
لیکن ان 15 دنوں کے اندر ہم کہیں بھی گھومنے نہیں گئے بس تمہارا ایک ہی کام ہے دن میں بھی میرے ساتھ ہمبستری کرتے ہو اس سے بھی تمہارا من نہیں بھرتا تو رات کو ذلیل کرتے ہو۔ یہ کیا طریقہ ہے۔
اس کے سوا بھی کوئی دنیا ہے مانا کہ ہم نے محبت کی شادی کی ہے
لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم ہر وقت۔۔۔۔۔
اریبہ تنگ آ چکی تھی تو شادی کے پہلے دنوں میں ہی یہ سب کچھ ہوتا ہے۔۔۔
وہ بھی سیریس موڈ میں آگیا۔
شادی کے پہلے دنوں میں یہ سب ہوتا ہے سمجھ میں آتا ہے۔
لیکن ہر چیز ایک لمٹ میں اچھی لگتی ہے میں تمہارے قریب نہیں آؤں گی وہ صوفے پر بیٹھ گئی مجھے کہیں گھمانے لے کر چلو۔
شان سمجھ گیا اس وقت وہ چڑچڑے پن کا شکار ہو گئی ہے اسی لیے جیب سے گولی نکال کر پانی میں ہل کی اور پانی لا کر اسے پلا دیا چلو پانی پی لو اور فریش ہو کر آجاؤ کچھ دیر بعد تمہیں باہر گھمانے لے جاتا ہوں۔
وہ اسے تسلی دے کر واپس بیڈ پر آبیٹھا۔ واقعی گھمانے لے جاؤ گے۔پانی پی کر وہ اس کے قریب آگئی۔
تم اتنے اچھے ہو۔اگر میں پہلے ہی ناراضگی کا اظہار کر دیتی تو تم مجھے پہلے گھمانے لے جاتے۔
وہ اس سے کچھ دیر باتیں کرکے شاور لے کر جب باہر آئی تو اس کے پورے وجود میں بے چینی پھیل چکی تھی۔
کہیں من نہیں لگ رہا تھا شان نے اسے کہا کہ وہ گھمانے لے چلتا ہے
مگر وہ رونے کے در پر تھی۔
مجھے کچھ ہو رہا ہے شان۔اس نے اپنی بے بسی بیان کی۔
کیا ہو رہا ہے وہ جانتا تھا اسے کیا ہو رہا ہے لیکن پھر بھی سوال کر رہا تھا۔
میرا من کر رہا ہے کہ میں آپ کے ساتھ پیار کروں۔وہ اس کے قریب آگئی۔ میں تو پہلے ہی کہہ رہا تھا۔پلیز بستر پر چلتے ہیں شان۔وہ اپنی بگڑتی حالت کی پرواہ کیے بغیر اُسکے ساتھ آلگی۔چلو ٹھیک ہے۔ وہ اُسے لیکر بیڈ پر آگیا۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ اُسے بھرپور انداز میں اپنا بنا کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ کیونکہ اریبہ سو چکی تھی۔مجھے معاف کرنا۔لیکن میں تمہیں تب تک باہر نہیں لے جا سکتا جب تک ہمارے بچے کی موجودگی کنفرم نہ ہوجائے۔
خوش خبری ملتے ہی میں تمہیں باہر کی دُنیا میں لے جاؤں گا اور ہم نارمل لائف جئیں گے۔
جیسے ہی اُسکی نیند کھلی وہ دوبارہ شان کو اپنے پاس بلا رہی تھی۔وہ خاموشی سے اسکے قریب چلا گیا۔دوا کا اثر اُسکے وجود پر کافی دیر اثر انداز رہتا تھا تو شان کو اگلے دن تک فکر کرنے کی ضرورت نہی تھی۔
§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§
-----------------------------------
Si writes novel Zone
-----------------------------------
§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§§

مبشر اور شبانہ کی شادی کو دو ہفتے ہو چکے تھے ان دو ہفتوں کے اندر وہ ایک بار بھی مبشر کے سامنے نہیں گئی۔
اس وقت بھی وہ اپنے کمرے میں بیٹھی اپنے دوپٹے پر کچھ کام کر رہی تھی۔
کوئی دروازہ کھول کر اس کے کمرے میں داخل ہوا وہ حیرت سے مبشر کو دیکھنے لگی۔
وہ نشے کی حالت میں بھی نہیں لگ رہا تھا پھر اس کے کمرے میں کیوں آیا۔ ایسے کیا دیکھ رہی ہو بیکارعورت۔
جاؤ جا کر میرے سکون کا انتظام کرو۔ اٹھو۔۔۔۔ وہ اسے اٹھنے کا حکم دے کر خود بیڈ پر آکر بیٹھ گیا۔
کیسے سکون کا انتظام۔۔۔ آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا وہ سخت لہجے میں گویا ہوئی میرے سامنے زبان چلانے کی تمہاری ہمت کیسے ہوئی۔
سائیڈ ٹیبل سے واز اٹھا کر اس نے نازلی کی طرف پھینکا۔
ایک دم دوسری طرف ہو جانے پر وہ واز دیوار سے جا لگا اور نازلی بچ گئی اس نے حیرت سے نازلی کی ہمت کو داد دی۔
کچھ دن مجھ سے دور رہ کر تم میں بہت ہمت اور اکڑ آ گئی ہے۔
ابھی تمہاری ساری اکڑ نکالتا ہوں وہ اس کی طرف بڑھا اور بازو سے کھینچ کر نازلی کو بیڈ پر پھینک دیا اور خود اس کے اوپر گرنے لگا کہ نازلی نے دوسری طرف پلٹ کر خود کو اس کے نیچے آنے سے بچایا۔
اور خود دوڑتی ہوئی آؤٹ ہاؤس سے نکل کر اپنے پرانے مبشر کے کمرے میں آگئی۔
جہاں شبانہ کا اسے دیکھ کر حلق تک کڑوا ہو گیا۔
تم یہاں پر کیا کر رہی ہو۔ میں یہاں پر۔ مبشر کی وجہ سے آئی ہوں۔وہ اسوقت میرے کمرے میں ہیں۔
وہ چاھتے ہیں آج رات میں انکے ساتھ گزاروں۔اس لیے مجھے ان کے لیے تیار ہونا ہے مگر یہاں پر میرے چند سوٹ رہ گئے ہیں تو انہیں ہی لینے آئی ہوں وہ شبانہ کی معلومات میں اضافہ کر کے الماری کی طرف بڑھ گئی۔
لیکن شبانہ کے تو دماغ کا فیوز ہی اڑ گیا۔
مبشر اُسکے ساتھ رات گزارے گا۔
وہ تن فن کرتی آؤٹ ہاؤس کی طرف بڑھ گئی۔ نازلی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اب تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا۔
مبشر بلوچ اب تم کچھ بھی کر لو۔
لیکن میں تمہیں اپنے جسم پر حق نہیں دوں گی۔
نہ ہی کبھی تمہیں اپنے قریب آنے دوں گی۔ تم نے جتنی میرے تذلیل کی ہے میری خودداری کو ٹھیس پہنچائی ہے اس کے بعد تم مجھے انگلی بھی لگاؤ یہ میرا وجود برداشت نہیں کر پائے گا۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Karachi