General knowledge
18/04/2022
BREAKING NEWs from COSMIC
DAWN
کائنات کے شروعاتی زمانے سے نئی خبر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: فہیم خورشید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر کیا چیز ہے یہ کائنات، کبھی یہ اپنے اندھیروں سے تصور کی بینائی چھین لیتی ہے، کبھی یہ اپنی روشنیوں سے تخیل کی دنیا کو خیرہ کر دیتی ہے،
جتنا سوچتے ہیں اتنا کنفیوز ہوتے ہیں کبھی اپنی بےبسی سے ہاتھ مل کر رہ جاتے ہیں، کبھی گھبراہٹ میں دل تھام لیتے ہیں،
مگر یہ عجوبہ کائنات ہم سے بے خبر اپنے عجوبہ خزانوں کا منہ کھولے ہر گھڑی نت نئے عجوبوں کی بوچھاڑ سے عقل و فہم کو حیرتوں کی منجھدار میں گھمائے جا رہی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ روز پہلے ہی ناسا کے ماہرین نے کائنات کے ابتدائی زمانہ کے انتہائی نایاب بلیک ھول کی دریافت کی ہے،
جو کائنات کی پیدائش کے صرف 750 ملین سال بعد کی تشکیل ہے،
یہ سپر massive بلیک ھول ستاروں کی دھول اور گیسوں سے پیدا ہونے والی سرخ روشنیوں سے گھرا ہوا ہے۔۔
یہ بلیک ھول در اصل اپنی لامحدود توانائیوں کا اظہار كوئزار کی صورت میں کر رہا ہے۔۔
کائناتی افق پر كوئزار بگ بینگ کے بعد سب سے زیادہ توانائی کے منبع ہیں
اور ایک كوئزار کی پاور سپلائی کا زمہ دار سپر میسو بلیک ہول ہوتا ہے
یہ زمین سے 13 ارب نوری سال دور ہے
یہ دریافت 13اپریل 2022 کو ایک سائینسی جریدے دی نیچر میں شائع کی گئی
ماہرین کے مطابق یہ كوئزار کائنات کے اس انتہائی ابتدائی زمانہ کی پیداوار ہے جسے " کوسمک ڈان"Cosmic dawn کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔۔ یہ ایک ابتدائی کہکشاں کے پہلے براہ راست مشاہدے کا ثبوت نظر اتا ہے
ایسے سرخی مائل كوئزار کو transitioning red quasars کہا جاتا ہے، ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ انتہائی ابتدائی کائنات میں پیدا ہوئے ہوں گے۔۔ اس کی دریافت سے قبل ایسے کسی كوئزار کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔۔۔
نیلز بوہر انسٹیٹیوٹ (کوپن ہیگن یونیورسٹی) کے ایک ماہر کا کہنا ہے یہ كوئزار
کائنات کی دو نایاب آبادیوں (یعنی کثرت سے نئے ستارے پیدا کرنیوالی کہکشائیں اور ابتدائی سپر massive بلیک ہولز ) کے باہمی رابطے کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔۔۔اور ان بلیک ہولز کی تیز رفتار ارتقاء کو سمجھنے کے لیے نئی راہیں ہموار کرے گا۔۔۔
اسے ایسی ہی نایاب اشیاء کی لسٹ GN-z7q میں شامل کیا گیا ہے
۔۔۔۔
كوئزار کہکشاؤں کے مرکزی بلیک ھول کی توانائی کے ذریعہ سے بننے والی انتہائی روشن چیزیں ہے انہیں کواسی اسٹیلر آبجیکٹ QSO بھی کہا جاتا ہے
سورج سے کروڑوں گنا سے اربوں گنا بڑے یہ سپر ماسو بلیک ہولز ۔۔ بہت بڑی کہکشاؤں جن میں مادہ بہت وافر مقدار میں ہوتا ہے۔۔۔ کے مرکز میں ہوتے ہیں اور اندھا دھند ان کے مادے کو دھول اور گیسوں کی صورت میں اپنے اندر کھینچنے لگتے ہیں۔۔۔ یہ مادہ اندر گرنے سے قبل بلیک ہولز کے گرد تیزی سے گھومتا ہے اور مادے کے ذرات آپس میں ٹکرانے کے سبب گرم ہوکر تابکاری اور روشنی خارج کرنے لگتے ہیں
یہ روشنی اور تابکاری اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ ہے بلیک ہول کائنات کی روشن ترین اور سب سے زیادہ توانائی بخش چیز بن جاتے ہیں اور ایسی چیزوں کو سائنسدان كوئزار کہتے ہیں
كوئزار صرف انتہائی بڑی، انتہائی گھنی اور سٹار ڈسٹ سے بھرپور کہکشاؤں میں ہی تشکیل پاتے ہیں
یہ سرخ كوئزار بھی انتہائی بھرپور اور نوجوان کہکشاں میں بنا ہے، یہ کہکشاں ملکی وے کی نسبت 1600گنا تیزی سے نئے ستارے پیدا کر رہی ہے
اور یہ ستارے بےتحاشا حرارت پیدا کر کے تمام کہکشاں پر چھائی گیسوں کو گرم اور روشن کر کے اس کہکشاں کو کوسمک ڈان کی سب سے روشن چیز کے طور پر نمایاں کر رہے ہیں۔۔ ان گیسوں کے درمیان گھرا كوئزار ایک سرخ نقطے کی طرح نظر اتا ہے
ذیل میں موجود تصویر ایک آرٹسٹ کا کمال ہے جس میں کائنات کے ابتدائی دور کا یہ كوئزار گرم گیسوں میں لپٹا نظر آرہا ہے
image via: ESA/Bubble/N۔Bartman
www۔livescience۔com
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Islamabad