Hunza Hawk
03/05/2026
ایک دفعہ کا ذکر ہے ہنزہ کے ایک بندے کو بہت سالوں پہلے بیماری لاحق ہوئی گلگت سے ڈاکٹروں نے شہر جاکے علاج کروانے کا کہا۔ وہ بندہ کراچی پہنچا اور علاج شروع کروائی ڈاکٹر اسکے کچھ ٹیسٹ کروانے کیبعد بیماری پہچان گئے مگر جب علاج بیماری کا شروع ہوا تب تک بندے کے پاس دوائی اور مزید علاج کے اخراجات ختم ہوگئے تھے اور ڈاکٹر نے لمبے عرصے کی دوائی اور ہر پندرہ دن کی فالواپ چیک اپ لکھ دی تھی ۔ اس دوران کچھ خدا ترس لوگوں کی مدد سے رہائشی اور دوائی کا بندوبست کے ساتھ ایک ہلکی روزگار بھی دلا دی گئی۔
ایک روز وہ کام پہ کھڑا تھا تو کسی ہنزہ سے اسکے جاننے والے کا وہاں سے گزر ہوا اور بندہ پہچان کے پوچھا ۔ (بروشسکی سوال:۔ ننا بسن ایچھا کھولے بشل دالم دوکووا؟۔ جواب ۔۔ یہ ہرو لے اگا مینے بٹ نشئی اول فھاتاری منے بسکے اومانم مس فھاتاری )
سوال:۔ انکل آپ یہاں کیا کر رہے ہو کب آئے ہو ہنزہ سے ؟
اس بندے نے جو جواب دیا تھا اسوقت آج ہنزہ میں زربالمسل کی حیثیت رکھتی ہے اور زبان زد عام ہے۔۔
جواب:۔ بیٹھ یارکچھ لوگوں کے پاس زیادہ ہونے کی وجہ سے پیٹ پھٹے جارہے ہیں اور ہمارا کچھ نہ ہو ے کی پریشانی میں دل پٹھا جا رہا ہے۔
۔
اور آجکل گلگت میں زراعت اور ان دنوں خاص کر چیری اور زمینداروں کا یہی حال ہے۔
ایڈمن۔
ہنزہ ہاک۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Hunza
15700