Rushd

Rushd

Share

24/04/2026

ہم جنسیت، اللہ نے ایسا ہی پیدا کیا تو؟

2006 کی بات ہے، میرے جونئیر نے فون کیا کہ ایک ضروری بات کرنی ہے۔ ہم دونوں اس وقت انگلینڈ میں تھے، اس نے کہا کہ اسکو اندازہ ہوا ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہے۔ میں بہت حیران ہوا کہ یار یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ہم تو کالج میں ایک ساتھ لڑکیوں کو گھورا کرتے تھے، تجھ کو تو اپنی کلاس فیلو سے عشق بھی تھا اور رشتہ بھیجنے کو تیار تھا پھر کیا ہوا؟ وہ یہی کہتا رہا کہ بس اب اسکو یقین ہوگیا ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہی ہے۔ کوئی دو گھنٹے کی بحث کا اختتام اس بات پر ہوا جب میں نے اسکو کہا کہ بھائی میں اسکو تمہارے لیے جائز نہیں بنا سکتا۔ یہ اسکا میرے ساتھ آخری رابطہ تھا۔
کل ایک اور بھائی نے ایسا ہی سوال پوچھا تو یہ بھولی ہوئی کہانی یاد آگئی۔ یہ بھائی بھی اسی وجہ سے پریشان ہیں اور اسی جبلی تقاضے نے انکے دین پر شکوک و شبہات میں بھی اضافہ کردیا ہے۔

یہ فطرت ہے:
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فطرتی تقاضا ہے اور کچھ انسانوں میں یہ اپنی جنس کی طرف ہوتا ہے۔ یہ مکمل پیدائشی بھی نہیں ہے، بچپن کی حرکتوں یا کسی ہولناک تجربے کے بعد بھی ایسا ممکن ہے کہ انسان اس تجربے کو اپنی سچائی سمجھ لے۔
وجہ کوئی بھی ہو، ہم جنسیت انسان کے اختیار میں نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وجہ سے اسکو جائز یا پسندیدہ بھی ہونا چاہیے؟
مجھ کو جنس مخالف پسند ہے مگر کیا یہ پسند صرف ایک عورت تک محدود ہے؟ ہرگز نہیں، بلکہ ہر مرد کو شادی شدہ ہونے کے باوجود دوسری خواتین جنسی کشش محسوس ہوتی ہے۔ عورتوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ تو پھر اس پر عمل فطرت کی آواز کیوں نہیں؟

بچوں کے ساتھ جنسی عمل بھی جینیٹک ہوتا ہے، ہے بھی اُسی فطرت کی آواز ہے بلکہ مارچ2023 میں اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ جنسی تعلق کے لیے بلوغت کی عمر کی قید انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جن اشخاص میں یہ جبلی تقاضہ ہو انکو باہمی رضامندی کے ساتھ اسکو پورا کرنے کی قانونی اجازت دینی چاہیے۔
یہ سلسلہ کہاں تک جا کر رکے گا؟ کوئی حد لگائی بھی جائے تو کس بنیاد پر؟
ایک اور پہلو سے سوچیے، کوئی ذہنی یا جسمانی معذور پیدا ہو تو کیا ہم اسکو چھوڑ دیں؟ کیا اسکو پیدائشی فطرت کہہ کر اسکو ایک نارمل زندگی دینے کی کوشش کیا فطرت کی خلاف ورزی ہوگی؟ نہیں تو کیوں نہیں؟
کیا اللہ ناانصافی نہیں کررہا؟
نا انصافی جب ہوتی کہ انسان کو کوئی اور ذریعہ نہیں دیا جاتا۔
جیسے اگر میں یہ کہوں کہ یا اللہ! مجھ کو عورتوں کی اتنی خواہش دے کر اس زمانے میں پیدا کردیا جب لونڈیاں نہیں رکھ سکتا، جب تو جانتا تھا کہ میں ایسا ہوں گا تو کیوں پیدا کیا مجھ اس زمانے میں؟ یہ واقعی ناانصافی ہے؟
ہر انسان اپنے زمانے کے لحاظ سے اس دنیا کے امتحان میں ڈالا جاتا ہے۔ زمانے کے لحاظ سے ہی اسکو دین پر عمل کرنا ہوگا۔ حرام کے ذرائع ہر زمانے میں موجود ہوتے ہیں بدل بدل کر۔ ان سے بچنا اور حلال تک محدود رہنا ہی آزمائش ہے۔
اللہ ارحم الراحمین ہے، وہ جانتا ہے سب کچھ۔ وہ ہم سے کامیابی نہیں مانگتا بلکہ ہماری بہترین کوشش کا تفاضہ کرتا ہے، ناکام بھی ہوئے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ دوبارہ کوشش کریں، بار بار کریں۔
اسلام میں اسکا کوئی حل نہیں:

اصل سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ اسلام میں ہم جنسیت کو “جائز “ بنانے کا کوئی حل نہیں۔ اگر ہم سے کوئی کہے کہ میں مجبور ہوں رشوت لینے پر، ملاوٹ کرنے پر مگر اسلام میں کوئی حل نہیں تو آپ کیا کہیں گے؟

ہم کسی ملک میں رہتے ہیں، آفس میں کام کرتے ہیں، فوج میں جاتے ہیں، ہر جگہ ہماری آزادی کچھ قوانین اور ڈسپلن کے تابع ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جب آپ نے اسلام کو بحیثیت دین قبول کرلیا تو آپ کو کچھ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
علاج کیا ہے پھر:

یہ کوئی بیماری نہیں ہے بس دماغ کی نفسیاتی بناوٹ کو صحیح زاویے پر ڈالنا ہے۔ اکثر ہم جنس پرست کہتے ہیں کہ جنس مخالف سے کوئی تحریک نہیں ملتی۔
دیکھیے اصل مسئلہ ہے دماغ سے چند کیمیکلز کا اخراج جو آپکے جذبات کو پرسکون کردے، یہ اخراج جسمانی رطوبتوں کے نکلنے سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر آپ کوئی تجربہ بار بار کریں گے تو دماغ اسی کو پہچان کر تحریک دینا شروع کردے گا۔
جیسے آپ اگر پاکستانی ہیں تو نہاری پائے کا سوچ کر بھوک محسوس ہوگی، اسکا تعلق آپ کے معاشرے سے ہے کسی پیدائشی فطرت سے نہیں۔ یہ بالکل بدلا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ہم جنس پرست اگر اپنی خواہش جنس مخالف سے پورا کرنا شروع کردیں تو کچھ عرصے کے بعد دماغ اس جنس مخالف میں ہی جنسی جذبے کی تسکین ڈھونڈ لے گا۔
کئی طرح کے بے جا ڈر ،جیسے سوئیوں کا ڈر، اندھیرے یا مکڑی کا ڈر ، دماغ کی ٹریننگ کرکے دور کیے جاتے ہیں۔ اگر ان کا علاج کرنا غلط نہیں تو پھر ہم جنسیت کا علاج کرنا بھی درست ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم جنسیت کو اپنے جذباتی وجود سے جوڑ کر سمجھتے ہیں اور اسکا پورا نہ کرنا اپنی ذات کی نفی سمجھتے ہیں، جبکہ ہم ہر وقت اپنی کسی نہ کسی جبلت، خواہش اور مرضی کے خلاف کام کررہے ہوتے ہیں اور اسکا احساس بھی نہیں ہوتا۔ اسکی وجہ صرف جذباتیت ہے اور کچھ نہیں۔

آخری بات یہ کہ اپنے دماغ کو سمجھیں، آپ جو بھی مسلسل سوچیں گے، عمل کریں گے، دماغ اسی کو نیچرل بنا دے گا۔ اگر اپنے دماغ کو مسلسل ہم جنسیت کی تحریک دیتے رہیں گے تو وہ اسی پر اصرار کرے گا۔بالکل ویسے جیسے ہم ٹشو پیپر سے پاخانہ صاف کرنا گندگی سمجھتے ہیں اور انگریز کہتے ہیں کہ اس جگہ کو تم لوگ ہاتھ کیسے لگا سکتے ہو؟ چینی کیڑے مکوڑے کتے بلی کھاتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ تم مسلمان کیوں نہیں کھاتے؟

فطرت صرف کھانا پینا اور افزائش نسل کرنا ہے۔ “کیسے” اور “کس طرح” کرنا ہے، یہ سراسر سماجی رویے اور معاشرتی زمانے اور رسم و رواج پر منحصر ہے۔
جتنی جلدی ممکن ہو شادی کیجیے۔ کچھ عرصے میں آپ کو جنس مخالف سے کشش پیدا ہوجائے گی۔ ہم جنسیت کبھی مکمل ختم نہیں ہوگی مگر قابو میں رہے گی۔ بالکل ویسے جیسے شادی کے بعد بھی دوسری عورتیں اور مرد اپنی جنسی کشش نہیں کھوتے۔Copied

25/01/2026

آج اگر ڈاکٹر اسرار احمد زندہ ہوتے تو اپنے خودساختہ یہودی ایجنٹوں کے مفروضے پر عمران خان سے معافی ضرور مانگتے یا کم سے کم شرمندہ ضرور ہوتے، انہوں نے ایک ایسا گھٹیا ایندھن پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ اور ان کے پالتو و ماتحت دین فروش، ضمیر فروش ملاؤں، سیاسی کٹھ پتلیوں کو دیا جس کی وجہ سے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو اپنی زندگی میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر ان کی شادی ٹوٹ گئی ان کی اور ان کے بچوں کی زندگی کئی مشکلات سے دو چار ہوئی اور شدت پسندی کی اس دلدل میں جھونکا کہ ان کی جان پر بن جاتی
ڈاکٹر اسرار کے علم میں شائد یہ بات نہیں تھی یا پھر سچ کہنے کی ہمت نہیں تھی کہ وہ جس (پاک) فوج کو مہدی کا لشکر بولا کرتے تھے اور جس وقت وہ پاک فوج سے غزوہِ ہند لڑنے اور مسجد الاقصیٰ کو فتح کروانے کی امیدیں وابستہ کروارہے تھے اور عمران خان کو یہودی لابی سے جوڑ رہے تھے اس سے قبل ہی ڈاکٹر اسرار کی قدس فتح کرنے والی پاک فوج برگیڈیئر ضیاء الحق کی قیادت میں یہودیوں کی پالتو بن کر ہزاروں فلسطینیوں کا قتل عام کر چکی تھی جس کو آج بھی بلیک ستمبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ڈاکٹر اسرار کی غزوہِ ہند لڑنے والی فوج ہندوستان کی صرف 20 ہزار فوج کے سامنے 93,000 پتلونیں اتار کر سرینڈر کر چکی تھی (16دسمبر 1971 ڈھاکہ) شائد یہ بات ڈاکٹر صاحب کے علم میں نہیں تھی یا اصل یہودی ایجنٹوں اور ہندوستان کے سامنے پتلونیں اتار کر سرینڈر کرنے والوں کا نام لینے کی ہمت نہیں تھی
آج اسلامی جمہوریہ پاکستان یقیناً وہ اسلامی ملک اور پاک فوج وہ واحد اسلامی فوج ہے جس نے غزہ میں محافظ قدس (حماس، حزب اللہ) کو غیر مسلح کرنے کے لئے اپنی فوج بھیجنے کی خود ہی پیشکش کی امریکہ سے ،ایٹمی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کی فوج کے سپہ سالار سید جنرل حافظ قرآن عاصم منیر اور اس کا ٹولہ یہودیوں کی غلامی میں اس قدر غرق ہے کہ چند ڈالروں کے عوض ماں بھی بیچنے کے لیئے تیار ہو جاتے ہیں !
ڈاکٹر اسرار احمد کی غزوہِ ہند لڑنے والی اور مسجد اقصیٰ کو فتح کرنے والی فوج آج ایک بار پھر چند ڈالروں کی خاطر اسرائیل کی ایما پر قدس کے محافظوں کے ساتھ جنگ لڑے گی، فلسطینی ساری زندگی مسلمانوں، مسلم دنیا، پاکستان ، پاک فوج ، مسلمان حکمرانوں کو بلاتے رہے یہ نہیں گئے لیکن ٹرمپ اور نیتن یاہو کے حکم پر رال ٹپکاتے فوراً پہنچ گئے !

Pakistan Tehreek-e-Insaf

15/11/2025

ذرا غور کیجئے ۔۔۔۔ مصر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعة الازہر جانے کا اتفاق ہوا۔
ہر لیکچر کے آخر میں کانفرنس کے شرکا علماء سے اس سے بھی زیادہ سخت سوال کر رہے تھے
جو بچپن سے میرے دل میں تھے
اور عالم جو دراصل جامعۃ الازہر کے پروفیسرز تھے
ہر سوال کا خندہ پیشانی سے جواب دے رہے تھے۔
ایک صاحب نے وہی سوال پوچھ لیا
جس کی بنیاد پر میرے علاقے کے مولانا نے محمود صاحب کو گستاخ قرار دے دیا تھا۔
میری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب پروفیسر نے کہا میری خواہش تھی کوئی یہ سوال کرے
اور پھر قرآن کی آیات سے سوال کا جواب دیا۔
اب میری بھی ہمت بڑھی
میں نے پوچھا
جناب جب خدا جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے جسے چاہے ہدایت دے
جسے چاہے گمراہی میں مبتلا کر دے
تو میں اسے مانوں نہ مانوں کیا فرق پڑتا ہے۔
پروفیسر صاحب تھوڑے سے مسکرائے اور بولے
قُرآن میں احکامات دو طرح کے ہیں
ایک مُحکمات
اور دوسرے مُتشابہات۔
ضروری ہے کہ مُتشابہات کو مُحکمات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے
جن آیات میں یشا ء اور تشاء آتا ہے
ان کا ترجمہ آپکے ہاں مُتشابہات و مُحکمات کے عام اُصول کے تحت نہیں کیا جاتا
اس لئے انڈیا اور پاکستان کےمسلمان خدا کے تصور کو غلط سمجھتے ہیں۔
اس کا عربی مفہوم یہ ہے کہ *جو چاہتا ہے اللہ اسے عزت دیتا ہے*
*اور جو چاہتا ہے اللہ اسے ذلت دیتا ہے*۔
*جو چاہتا ہے اللہ اسے ہدایت دیتا ہے*۔
انہوں نے کہا اس آیت کو آپ ایک اور آیت کے مطابق دیکھیں جو مُحکمات میں سے ہے
جس کا مطلب ہے کہ *انسان کو وہی کچھ ملتا ہےجس کے لئے وہ کوشش کرے*۔

میں نے پھر سوال کیا کہ
میں نے تو ہمیشہ عُلماء سے یہی سُنا ہے کہ اللہ توفیق دے تو ہی مُجھ سے کوئی نیکی ہو سکتی ہے۔
کانفرنس روم میں قہقہہ گُونجا
پھر پروفیسر صاحب نے سورہ رعد کی آیت پڑھی کہ
*اللہ لوگوں میں کُچھ نہیں بدلتا جب تک وہ خود میں تبدیلی نہ لائیں*۔
میں پروفیسر صاحب کا جُملہ مُکمل ہونے سے پہلے بول پڑا کہ
یہ سب جو میں اس کانفرنس میں دو دن سے سُن رہا ہوں
اُس اسلام سے بالکُل مُختلف ہے جو میں آج تک عُلماء سے سُنتا آیا ہوں۔
اس پر پروفیسر صاحب نے سورہ بقرہ کی آیت پڑھی
*اور جب اُن سے کہا جائے اللہ کے اُتارے پر چلو تو کہیں گے ہم تو اُس پرچلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ چاہے اُن کے باپ دادا نہ کُچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت*
کہنے لگے قرآن اللہ نے میرے اور تُمہارے لیے ہی اُتارا ہے
اسے خود پڑھتے اور سمجھتے کیوں نہیں
قرآن عین انسانی عقل کے مُطابق بات کرتا ہے۔
میں نے پھر سوال کیا کہ مُجھے تو آج تک علماء نے یہی بتایا ہے کہ
ایمان اور استدلال یعنی ریزن (reason) الگ الگ چیزیں ہیں
اور ریزنگ بھٹکا دیتی ہے۔
اس بار پروفیسر صاحب نے انڈین اور پاکستانی عُلماء کی کم علمی اور تنگ نظری کی وجوہات پر بات کی
اور سورہ انفال کی ایک آیت پڑھی کہ
*اللہ کی نظر میں وہ جانوروں سے بھی بد تر ہیں جو گُونگے بہرے بنے رہتے ہیں اور استدلال نہیں کرتے۔*
*بس پھر میں جیسے گُونگا ہو گیا۔*
*میرے سامنے سےجیسے اندھیرے چھٹ گئے۔*
میں نے بڑے خلوصِ دل سےکلمہ پڑھا کہ واقعی میرا خدا تو بالکل ویسا ہے
جیسا ایک خالق کو ہونا چاہیے ۔
کانفرنس کے اختتام پر پروفیسر صاحب نے قرآن کی انگلش ترجُمے والی کاپی گفٹ کی ۔
ہر آیت مُجھے خود سے مُکالمہ کرتی سنائی دیتی۔
کچھ عرصہ بعد ایک نو مسلم گورے سےکینیڈا کی ایک یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی۔
وہ اسلام کی پہلی دو صدیوں کے حوالے سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔
اُس کے ساتھ مل کر کُچھ سال اسلام کی ابتدائی اُٹھان
اور پھر اس میں فرقے بنتے ٹُکرے ہوتے تاریخ کی نظر سے دیکھا۔
یہ بھی دیکھا کہ کیسے لوگ قُرآن جیسا خزانہ چھوڑ کر روایات کی تلاش میں دہائیوں تک بھٹکتے پھرے۔ آج ایسے مسلمانوں کی ضرورت ہے
جن کا دین صرف اسلام ہو۔
جو قرآن و سُنّت میں استدلال کریں۔
سورہ یونس کی سویں آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ *عقل کا استعمال اور استدلال ایمان کی بُنیادی شرط ہے* ۔
اب میں فرقوں میں بٹے اپنی اپنی انا میں مدہوش مُسلمانوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ
کیا یہ دُنیا بھر میں ہوتی اپنی ذلّت کو نہیں دیکھتے
کیا یہ اب بھی نہیں جان پائے کہ اللہ کی رسی چھوڑ کر یہ ٹُکروں میں بٹ چُکے ہیں۔
شاید دل مُردہ ہونے سے اپنی ذلّت کا احساس ہی نہ ہوتا ہو۔
سورہ حج میں اللہ کہتے ہیں
*پس کیا وہ زمین میں نہیں پھرے تاکہ انہیں وہ دل ملتے جن سے وہ عقل سے کام لیتے یا ایسے کان نصیب ہوتے جن سے وہ سن سکتے*۔
پس آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ ( سورہء حج آیت نمبر سنتالیس)

۔Copied

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Gujrat?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Gujrat