Inam Yousufi

Inam Yousufi

Share

13/03/2026
12/03/2026

پنجرے میں پیدا ہونے والے پرندے کو لگتا ہے کہ اڑنا ایک بیماری ہے۔

11/03/2026

اس تصویر کو کوئی اچھا سا عنوان دیں.!
یہ تصویر محض جانوروں کا ایک خاکہ نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کی سفاک حقیقت کو نہایت سادہ مگر گہری علامت کے ذریعے بیان کرتی ہے۔ منظر میں ایک شیر کھڑا ہے جس کے سامنے دو گدھے ہیں۔ ایک گدھے کی ٹانگ کاٹی جا چکی ہے اور قریب ہی چولہے پر وہی ٹانگ پک رہی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہی شیر جس نے گدھے کی ٹانگ کاٹ کر اسے معذور بنایا، اب اسی گدھے کے سامنے ہمدردی کا ڈرامہ کرتے ہوئے اسے بیساکھی دے رہا ہے تاکہ وہ چل سکے۔ بظاہر یہ مدد اور خیرخواہی کا منظر لگتا ہے مگر درحقیقت یہ وہی نظام ہے جس میں پہلے انسان کو کمزور بنایا جاتا ہے اور پھر اسی کمزوری کو بنیاد بنا کر اس پر احسان جتایا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی اصل چال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ پہلے وسائل، زمین، محنت اور مواقع پر قبضہ کر کے عام انسان کو معاشی طور پر معذور کیا جاتا ہے، پھر اسی انسان کو قرض، امداد، وظائف اور سہولتوں کے نام پر بیساکھیاں دے دی جاتی ہیں تاکہ وہ مکمل طور پر کھڑا ہونے کے قابل نہ رہے بلکہ ہمیشہ اسی سسٹم کے سہارے چلتا رہے۔ اس تصویر میں شیر طاقت، سرمایہ اور اختیار کی علامت ہے جبکہ گدھے وہ عام لوگ ہیں جو اس نظام کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ شیر نے گدھے کی ٹانگ کاٹ کر دراصل اس کی خودمختاری ختم کر دی ہے کیونکہ جس انسان کے پاس اپنی طاقت اور وسائل نہ ہوں وہ ہمیشہ دوسروں کے رحم و کرم پر رہتا ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہی طاقتور طبقہ خود کو خیرخواہ اور نجات دہندہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم تمہیں سہارا دے رہے ہیں، ہم تمہاری مدد کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ ٹانگ ہی نہ کاٹتا تو بیساکھی کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ دنیا کی معیشت میں بھی یہی کھیل چل رہا ہے۔ بڑی طاقتیں اور کارپوریشنز پہلے کمزور ممالک کی معیشتوں کو قرضوں، تجارتی دباؤ اور وسائل کے استحصال کے ذریعے کمزور کرتی ہیں اور پھر انہی ممالک کو امداد، پیکج اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر بیساکھیاں دیتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کمزور قومیں کبھی اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو پاتیں بلکہ ہمیشہ اس نظام کی محتاج رہتی ہیں۔ اس تصویر میں دوسرا گدھا بھی ایک اہم کردار ہے جو اس سارے منظر کو خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی مزاحمت نہیں کرتا۔ معاشروں میں ایسے لوگ بہت ہوتے ہیں جو ظلم کو پہچانتے تو ہیں مگر اس کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید کل ان کی باری نہ آئے مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب ایک کا استحصال قبول کر لیا جائے تو اگلی باری کسی اور کی ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ وہ ظلم کو مدد کے پردے میں چھپا دیتا ہے۔ لوگ بیساکھی دیکھتے ہیں مگر کٹی ہوئی ٹانگ کو بھول جاتے ہیں۔ وہ امداد اور سہولتوں کو دیکھتے ہیں مگر اس حقیقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ ان کی اصل طاقت اور وسائل پہلے ہی چھین لیے گئے تھے۔ اس تصویر کا اصل پیغام یہی ہے کہ جب تک انسان اس دھوکے کو نہیں سمجھے گا تب تک وہ اسی بیساکھی کے سہارے چلتا رہے گا جس کی ضرورت خود اسی نظام نے پیدا کی ہے۔ اصل آزادی بیساکھی لینے میں نہیں بلکہ اپنی ٹانگ بچانے میں ہے، کیونکہ جو نظام پہلے انسان کو معذور کرے اور پھر اس پر احسان جتائے وہ کبھی بھی خیرخواہ نہیں ہو سکتا۔

09/03/2026

‏آپکی نظر میں پاکستان میں کونسا گناہ بہت تیزی سے چل رہا ہے۔
شرک، زناکاری، سود، دھوکہ، جھوٹ، خیانت، ظلم

23/02/2026

PMA( Pakistan Military Academy)

23/02/2026

ایک شہری کا مفتی تقی عثمانی سے سوال ۔
کیا روزے کی حالت میں مطالعہ پاکستان پڑھ سکتے ہیں؟؟

18/02/2026

لندن میں رمضان میں بھی سیل لگ جاتی ہے۔۔۔

اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مہنگائی رمضان میں ہی شروع ہو جاتی ہے

18/02/2026

اللّٰہ کرے رمضان میں کسی کا دسترخوان خالی نہ رہے آمین🌸

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Culinary Team

Attire

Website

Address


Gilgit