Manzoor Levi
04/11/2025
قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھیں گے تو پتہ چلے گا۔
🐒اصحاب سبت کی کہانی
سمندر کے کنارے واقع ایک بستی جسے "ایلہ" کہتے تھے، جو موجودہ بحر احمر کے ساحل پر، مدین اور طور کے درمیان واقع تھی، میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا جس کا ذکر اللہ نے اپنے کلام میں کیا ہے:
> "اور ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو سمندر کے کنارے تھی۔ جب وہ ہفتہ کے دن حد سے بڑھنے لگے تھے، اور ان کی مچھلیاں ہفتے کے دن ان کے سامنے سطح آب پر ظاہر ہو جاتی تھیں، اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو وہ ان کے پاس نہ آتی تھیں۔ اس طرح ہم ان کی آزمائش کر رہے تھے کیونکہ وہ نافرمان تھے۔"
(سورۃ الاعراف: 163)
یہاں "اصحاب سبت" رہتے تھے، جو یہودی قوم میں سے تھے۔ اللہ نے ان کے لئے ہفتے کا دن عبادت کے لئے مخصوص کیا تھا اور انہیں دنیا کے امور میں مشغول ہونے سے منع کیا تھا، کیونکہ وہ باقی دنوں میں عبادت کی پابندی نہیں کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کو ہفتے کے دن تجارت، صنعت اور مچھلی پکڑنے سے روکا گیا تھا۔ یہ اللہ کا ایک امتحان تھا، کہ ہفتے کے دن مچھلیوں کی کثرت ہونے لگی، مگر وہ صبر نہ کر سکے اور انہوں نے حیلے سے انہیں پکڑنا شروع کر دیا۔
ابن عباس اور دوسرے علماء کے مطابق، یہودی اس زمانے میں ہفتے کے دن کی حرمت پر عمل پیرا تھے۔ مچھلیاں اس دن ان کی طرف امن و سکون سے آجاتیں کیونکہ وہ انہیں باقی دنوں میں پکڑتے تھے۔ اللہ نے انہیں آزمائش میں ڈالا اور ہفتے کے دن مچھلیوں کی کثرت سے انہیں آزمایا۔ جب انہوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے مچھلیاں پکڑنے کے لئے حیلے کا سہارا لیا۔
ایک دن، گاؤں کے ایک فرد کو مچھلی کھانے کی خواہش ہوئی، تو شیطان نے اسے ایک حیلہ سکھایا۔ وہ ہفتے کے دن سمندر کے کنارے آیا اور ایک بڑی مچھلی کو دیکھ کر اس کی دم کو رسی سے باندھ کر کنارے پر لگا دیا، اور شام کو واپس آ کر مچھلی کو لے کر چلا گیا اور اسے بھون کر کھایا۔ جب اس کے ہمسائے اس سے پوچھنے آئے تو اس نے کہا کہ یہ تو محض ایک مچھلی کی کھال ہے جو اس نے بھون لی ہے۔ اگلے ہفتے اس نے یہی کام پھر کیا، اور دوسروں کو بھی بتا دیا، تو انہوں نے بھی اس کی تقلید شروع کر دی۔
بنی اسرائیل نے ہفتے کے دن مچھلی پکڑنے کے لئے نت نئے حیلے ایجاد کئے۔ بعض نے جمعہ کے دن سمندر کے ساتھ جڑے ہوئے گڑھے کھودے تاکہ ہفتے کے دن مچھلیاں ان گڑھوں میں جمع ہو جائیں اور پھر آسانی سے پکڑی جا سکیں۔ یہ کام عام ہو گیا، یہاں تک کہ لوگوں نے علانیہ مچھلی پکڑ کر بازار میں بیچنی شروع کر دیں۔ جب فاسقوں نے علانیہ اس طرح مچھلی پکڑنا شروع کیا، تو بنی اسرائیل کے علماء نے انہیں روکا اور ڈرایا، مگر وہ باز نہ آئے۔ چنانچہ نیک لوگوں نے ان سے الگ ہو کر ایک دیوار بنا لی اور ان کے ساتھ رہنا ترک کر دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> "اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ اس لئے ہے کہ تمہارے رب کے سامنے معذرت کریں اور شاید کہ وہ پرہیزگار بن جائیں۔"
(سورۃ الاعراف: 164)
چنانچہ یہ قوم تین گروہوں میں بٹ گئی؛ ایک وہ جو نافرمانی کرتے ہوئے ہفتے کے دن مچھلی پکڑنے لگے، ان کی تعداد تقریباً ستر ہزار تھی۔ دوسرا گروہ ان کو روکنے والا تھا جن کی تعداد بارہ ہزار تھی، اور تیسرا گروہ وہ تھا جو نہ تو گناہ کرتے اور نہ روکتے تھے۔
پھر رات کو اللہ کا عذاب آیا اور فاسقوں کو سزا کے طور پر نوجوانوں کو بندر اور بوڑھی عورتوں کو خنزیر بنا دیا گیا۔ صبح جب نیک لوگ اپنے کاموں پر گئے تو فاسقوں کو وہاں موجود نہ پا کر حیران ہو گئے۔ جب انہوں نے دیوار پر چڑھ کر جھانکا تو دیکھا کہ فاسق بندر اور خنزیر بن گئے ہیں، اور آوازیں نکال رہے ہیں۔
انہوں نے ان کے دروازے کھولے تو ہر بندر اپنے قریبی انسان کو دیکھ کر اس کے کپڑے سونگھتا اور روتا تھا۔
مسخ شدہ لوگ تین دن تک زندہ رہے، نہ کچھ کھایا، نہ پیا اور نہ ہی ان کی نسل چلی۔ اس طرح ان کی موت ہو گئی اور وہ آنے والی قوموں کے لئے عبرت کا نشان بن گئے۔
منقول
ہمارے اوپر جو حکم ہیں وہ بھی پڑھ لیجیے گا
04/09/2025
*ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا "شیوانا" (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا..*
"میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے..
آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں.."
شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے..
بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے .
اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا..
شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی ھے.
مگر اِس کے باوجود معبد کدے کے بُت کی خوشنودی کے لئے اُس کی قربانی بھی دینا چاھتی ھے.
شیوانا نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رھی ھے..
عورت نے جواب دیا..
"کاھن نے مجھے ھدایت کی ھے کہ میں معبد کے بُت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ھستی کو قربان کر دوں تا کہ میری زندگی کی مشکلات ھمیشہ کے لئے ختم ھو جائیں.."
شیوانا نے مسکرا کر کہا..
"مگر یہ بچّی تمہاری عزیز ترین ھستی تھوڑی ھے..؟
اِسے تو تم نے ھلاک کرنے کا ارداہ کیا ھے..
تمہاری جو ھستی سب سے زیادہ عزیز ھے وہ تو پتّھر پر بیٹھا یہ کاھن ھے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی معصوم بچّی کی جان لینے پر تُل گئی ھو..
یہ بُت احمق نہیں ھے..
وہ تمہاری عزیز ترین ھستی کی قربانی چاھتا ھے.. تم نے اگر کاھن کی بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ھو کہ بُت تم سے مزید خفا ھو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنّم بنا دے.."
عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچّی کے ھاتھ پاؤں کھول دیئے اور چھری ھاتھ میں لے کر کاھن کی طرف دوڑی
مگر وہ پہلے ھی وھاں سے جا چکا تھا..
کہتے ھیں کہ اُس دن کے بعد سے وہ کاھن اُس علاقے میں پھر کبھی نظر نہ آیا..
دنیا میں صرف آگاھی کو فضیلت حاصل ھے اور واحد گناہ جہالت ھے..
جس دن ہم اپنے "حکمرانوں " کو پہچان گئے ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے !!
مگر جب تک اپنے پیسوں پر پلنے والوں سے رحم کی اپیلیں کرتے رہو گے کچھ نہیں ملے گا۔
منقول
12/04/2025
*فراڈ کال الرٹ*
آپ کو کسی موبائل فون سے کال آئے گی۔ اٹھاتے ہی ایک خاتون خودکار طریقے سے (آٹومیٹک) شروع ہوجائے گی کہ’’السلام علیکم، یہ کال پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے کی جارہی ہے۔ آپ کے خلاف درج شکایت آپ پر ثابت ہوچکی ہے۔ اگلے دو گھنٹوں میں آپ کے نام پر رجسٹرڈ تمام سمز بند ہو جائیں گی۔ مزید تفصیلات کے لئے 9 دبائیں۔"
9 دبانے کے بعد فراڈیے لوگ آپ کے ایزی پیسا، جاز کیش یہاں تک کہ بنک اکاونٹ لوٹنے کی کوشش کریں گے۔ ایسی کال کسی کو موصول ہو، تو فورا کال کو بند کردیں۔
(یہ پوسٹ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، تاکہ لوگ فراڈیوں سے بچ سکیں۔)
صرف 80 لاکھ یہودیوں کو 2 ارب سے زائد مسلمان بدعائیں دے رہے ہیں میدان میں نکلنے کی کسی میں ہمت نہیں ہورہی .عرب تلواریں لہرا کر ۔ترکی ڈرامے بنا کر ۔ایرانی دھمکی لگا کر اور ہمارے حکمران ترانے لگا کر امت مسلمہ کی حفاظت کر رہے ہیں
05/04/2025
مولوی حضرات اور پاکستان کی تباہی
مولویوں نے تباہ کر دیا اس ملک کو کیا واقعی..؟؟؟
ایک تحقیق آپ بھی پڑھیے..
باہر ملک میں کچھ دانشور یوں فرماتے ہیں کہ :
"پاکستان کی تمام تر بربادیوں کا ذمہ دار مولوی ہے.."
ان کی اس بات کو سنجیدہ لے کر میں نے ایک تحقیق کی اور تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچا کہ..
پاکستان کے پہلے گورنر جنرل مدرسہ دیوبند سے مولوی فاضل ڈگری یافتہ تھے..
پہلے صدرِ پاکستان نے جامعہ ازہر سے دفاعی امور پر مفتی کا کورس کیا..
پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم مدرسہ بریلی میں 8 سال پڑھے..
سول سروس اکیڈمی رائے ونڈ تبلیغی مرکز میں ہے..
الیکشن کمیشن، نیب اور پیمرا چیئرمین کے لئے درس نظامی یا مولوی فاضل کی شرط لازمی ھے..
نواز شریف، زرداری، گیلانی اور رحمن ملک کے پاس جامعہ بنوری ٹاؤن کی سند ھے..
ایوب، یحیی اور مشرف حافظ قرآن اور مولوی تھے..
پاکستان ملٹری اکیڈمی منصورہ لاہور میں واقع ہے..
پاکستان کے تمام پارلیمنٹیرنز کے پاس مدرسہ سے تعلیم کی 8 سالہ سند ہونا لازمی ہے..
پاکستان کے تمام صوبائی اور وفاقی وزراء مولوی فاضل ڈگری یافتہ ہیں جو ملک کے نامور مدارس کے فارغ التحصیل طلباء رہ چکے ہیں .اسی طرح ملک کے اکثر اداروں پر ان مدارس سے فارغ التحصیل لوگ قابض ہیں .
قومی اداروں مثلاً نادرا، ایف۔ آئی۔اے، واپڈا، پی آئی اے، او جی ڈی سی ایل، پی ٹی سی ایل اور اسٹیل ملز کے ڈائریکٹرز ہمشہ سے مولوی ہی رہے..
ہر چھوٹے بڑے شہروں میں موجود قحبہ خانے Brothels محکمہ اوقاف کی زیرِ نگرانی چلتے ہیں..
تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز پہلے 8 ماہ فیضانِ مدینہ کراچی میں ٹریننگ کرتے ہیں..
میڈیا ہاؤسسز کو مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کنٹرول کرتا ہے..
اور تو اور کرکٹ کی تباہی کے زمہ دار بھی مولوی اعجاز بٹ ، مولانا نجم سیٹھی چشتی اور حضرت علامہ مولانا شہر یار ہیں..
اور دیکھئے نا جب فارمولا کریم بھی ایک مہینے تک لگانے سے رنگ گورا نا ہو تو اس کا ذمہ دار بھی تو مولوی ہی ہوا نا.. آخر مولوی نے جمعہ کے واعظ میں کیوں نہیں بتایا کہ L'Oréal اور Olay کی نائٹ بیوٹی کریم فارمولا سے بہتر کام کرتی ہے..
بالکل صیح سوچا ماڈرن آنٹیوں لبرل بابوؤں نے…!
ذرا سوچنا چائیے کہ کن لوگوں کو ہم ذمہ دار ٹھہراتے ہیں آیا ان لوگوں نے ملک کو برباد کیا یا کسی اور نے . یہ مدارس والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں اللّٰہ کو راضی کرنے اور اللّہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے وقف کی ہیں .
یا اللّٰہ ہمیں ہدایت فرما اور نیک اعمال کرنے کی توفق عطا فرمادے .
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Website
Address
Gilgit