Mountain Broadcasting Network
10/11/2025
مالدیپ نے رواں ماہ سے ایک نیا قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت 1 جنوری 2007 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو ملک میں تمباکو استعمال کرنے، خریدنے یا فروخت کرنے سے قانونی طور پر روک دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مذکورہ بالا قانون کے تحت 1 جنوری 2007 یا اس کے بعد والے افراد کو کبھی بھی قانونی طور پر تمباکو مصنوعات مہیا نہیں کی جائیں گی۔ یہ پابندی نہ صرف ملک کے شہریوں بلکہ زائرین/سیاحوں پر بھی لاگو ہے۔
مزید برآں فروخت کرنے والوں (ریٹیلرز) پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خریدار کی عمر/پیدائش کی تاریخ کی تصدیق کریں ورنہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ملک نے ای-سگریٹ اور ویپنگ ڈیوائسز پر بھی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
10/11/2025
فصلوں کی پیداوار اور حفاظت کے لیے استعمال ہونے والی کیڑے مار ادویات (پیسٹیسائیڈز) کی نگرانی کے لیے سائنسدانوں نے ایک جدید اور تیز ترین طریقہ تجویز کیا ہے، جس سے مٹی، پانی اور خوراک میں مضر کیمیاوی مادّوں کی موجودگی فوری اور کم خرچ انداز میں معلوم کی جا سکتی ہے۔
امریکی یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن کے انزائم انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر سندرم گُناسیکارن کی قیادت میں ماہرین اور پاکستان کی سندھ زراعت یونیورسٹی کی ڈاکٹر آؽیْا اکبر پنهور انزائم اور نینو میٹریل پر مبنی پورٹیبل سینسرز تیار کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ سینسرز فصلوں سے کم مقدار میں باقی رہ جانے والے مضر مادّوں کی درست شناخت کر سکتے ہیں اور لیبارٹری کے بغیر کھیت یا مارکیٹ میں استعمال کے قابل ہیں۔
ڈاکٹر پنهور نے کہ کہ اس تکنیک کے چند بڑے فوائد ہیں، جن میں چند منٹوں میں فوری نتائج حاصل ہونا، مہنگے لیبارٹری ٹیسٹ کی ضرورت نہ ہونا، پورٹیبل اور فوری استعمال کی سہولت، اور انتہائی کم مقدار میں بھی درست نتائج شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ سینسرز نہ صرف فصلوں اور خوراک کی حفاظت بلکہ پانی اور مٹی کی آلودگی کی نگرانی میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ مستقبل میں انہیں اسمارٹ فون سے مربوط کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کاشتکار موبائل ایپ کے ذریعے فوراً نتائج دیکھ سکیں۔یہ ٹیکنالوجی خوراک کے ضیاع اور آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور پائیدار ترقی کے عالمی اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
06/11/2025
جنوبی افریقہ سے درآمد کیے گئے بارہ زرافوں کا قرنطینہ دورانیہ مکمل ہوگیا ہے جس کے بعد انہیں لاہور سفاری پارک اور چڑیا گھر منتقل کیے جائیں گے۔
محکمہ جنگلی حیات پنجاب کے مطابق یہ زرافے گزشتہ ماہ لاہور لائے گئے تھے اور انہیں ابتدائی طور پر لاہور سفاری پارک میں قرنطینہ میں رکھا گیا تھا تاکہ ان کی صحت اور ماحول سے مطابقت کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
محکمہ کے مطابق ان میں سے نو زرافے لاہور سفاری پارک جبکہ تین زرافے لاہور چڑیا گھر کے لیے منگوائے گئے ہیں۔ موجودہ فضائی آلودگی اور اسموگ کی شدت کے باعث زرافوں کو فی الحال قرنطینہ والے باڑے میں ہی رکھا گیا ہے۔ ویٹرنری ماہرین کی ٹیم ان کی صحت، خوراک اور طرزِ عمل پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سفاری پارک میں آنے والے شہری بہت جلد ان نئے مہمانوں کو دیکھ سکیں گے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ لاہور سفاری پارک میں زرافے لائے گئے ہیں، جبکہ لاہور چڑیا گھر میں پہلے ہی ایک مادہ زرافہ موجود ہے۔
انتظامیہ نے بتایا ہے کہ سفاری پارک میں ایک خصوصی “سفاری کیفے” بھی تعمیر کیا جا رہا ہے، جہاں شہری زرافوں کے قریب بیٹھ کر کھانا کھا سکیں گے اور انہیں قدرتی ماحول میں قریب سے دیکھنے کا منفرد تجربہ حاصل ہوگا۔
واضح رہے کہ 2017ء میں لاہور چڑیا گھر کے لیے تین زرافے درآمد کیے گئے تھے، جن میں سے ایک زرافہ اسی سال بیماری کے باعث ہلاک ہوگیا تھا جبکہ دوسرا فروری 2022ء میں مر گیا۔ اب چڑیا گھر میں صرف ایک مادہ زرافہ باقی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Gilgit