Social Welfare Organization Chorit
عمائدین، معززین اور قارئینِ چورت کے نام وضاحتی بیان:
آج مورخہ 31 مئی 2026ء کو ایک جعلی سوشل میڈیا آئی ڈی ’’سرجیکل نیوز استور‘‘ کی جانب سے سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن چورت کے حوالے سے ایک پوسٹ نشر کی گئی، جس میں تنظیم کے بارے میں بعض تحفظات اور منفی تاثرات پیش کرتے ہوئے اس کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر چیئرمین سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن چورت کی سربراہی میں تنظیم کے دفتر میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں تفصیلی غور و خوض کے بعد عمائدین، معززین اور قارئینِ چورت کے لیے درج ذیل وضاحتی پیغام جاری کیا جاتا ہے:
1۔سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن چورت کے کل کارکنان کی تعداد 27 ہے۔ ان میں سے صرف ایک یا دو کارکنان کے بعض سیاسی شخصیات کے ساتھ نظریاتی یا سیاسی اختلافات موجود ہیں، جنہیں بنیاد بنا کر پوری تنظیم کی ساکھ پر سوال اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ باقی تمام کارکنان اتحادِ چورت کے مشن کو کامیاب بنانے اور چورت کے دونوں منتخب نمائندوں کے ساتھ بھرپور تعاون اور یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
2۔ آج چورت میں جس خوشگوار، پرامن اور متحد ماحول کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے، وہ چیئرمین سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن چورت اور ان کی پوری ٹیم کی شبانہ روز محنت، اخلاص اور خاموش جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
3۔ تنظیم کے بعض کارکنان کو اگرچہ بعض سیاسی شخصیات سے اختلافِ رائے رہا ہے، تاہم انہوں نے ہمیشہ امن، بھائی چارے اور اتحادِ چورت کے فروغ کے لیے چیئرمین سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کا بھرپور ساتھ دیا اور اجتماعی مفاد کو ذاتی اختلافات پر ترجیح دی۔
4۔گزشتہ انتخابات کے دوران چند ساتھیوں کو تنظیم سے علیحدہ کیے جانے پر بعض حلقوں کی جانب سے ’’دوہرے معیار‘‘ کا الزام عائد کیا گیا اور اس ضمن میں تنظیم کے بنیادی ارکان مدرس حنیف اللہ، محمد عارف اور دیگر ساتھیوں کا نام بھی لیا گیا۔
اس حوالے سے واضح کیا جاتا ہے کہ اس وقت تنظیم کے اندر متفقہ طور پر ایک ضابطہ منظور کیا گیا تھا، جس کے مطابق کوئی بھی رکن انتخابی مہم یا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے گا تاکہ تنظیم کے اندر اختلافات اور تقسیم پیدا نہ ہو۔ اسی ضابطے کی پاسداری کرتے ہوئے چند دیرینہ ساتھیوں کو مجبوری کے تحت تنظیم سے الگ کرنا پڑاکیونکہ ان ساتھیوں نے ضابطے کی خلاف ورزی کی تھی۔
بعد ازاں عوامی آراء اور مشاورت کے نتیجے میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ چونکہ سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن چورت کا بنیادی مقصد علاقے کی فلاح و بہبود اور اجتماعی مفادات کا تحفظ ہے، اس لیے اراکین کو اپنے سیاسی نظریات اور وابستگیوں کے اظہار کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ چنانچہ رواں سال متفقہ طور پر ایک نئی قرارداد منظور کی گئی، جس کے تحت ہر رکن اپنی سیاسی وابستگی کے مطابق مکمل حمایت اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتا ہے۔
افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ چند افراد کے اختلافات کو تو نمایاں کیا گیا، لیکن ان 25 کارکنان کی شبانہ روز محنت اور خدمات کو نظر انداز کر دیا گیا جو دن رات اتحادِ چورت، عوامی فلاح اور سماجی ہم آہنگی کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔
سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن چورت اپنے تمام کارکنان، عمائدین اور عوامِ علاقہ کے تعاون پر شکر گزار ہے اور آئندہ بھی اتحاد، بھائی چارے اور فلاحِ عامہ کے لیے اپنی خدمات جاری رکھے گی۔
المشتہر:
لیاقت اللہ
پریس سیکرٹری
سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن چورت
10/05/2026
تعلیمی انتظامیہ کی ناکامی یا طالبات کی بد قسمتی ۔
آج ایک ایسے ایشو کو سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن چورت کے پیج سے شیر کیا جاتا ہے کہ جو سکول انتظامیہ ، نائب ناظم تعلیمات استور ، ڈائریکٹر دیامر استور ڈویژن، ڈائریکٹر جنرل گلگت بلتستان اور سیکریٹری ایجوکیشن سب کے لیے ایک سوالیہ نشان اور شرم کا مقام ہے ۔
آج مورخہ 9 مئ 2026 کو گرلز ہائی سکول چورت کے طالبات نے ایک تحریری درخواست جناب صدر سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن چورت کو پیش کئیے جس میں عرض کیا گیا ہے کہ سکول ھذا میں تعلیمی سال 2026 کا آغاز ہوئے دو مہینے گزر گئے ہیں لیکن ابھی تک 20 سے زیادہ پیریڈز نہیں ہو رہے ہیں ۔اور بچوں کا کہنا ہے کہ جون سے ان کے امتحانات شروع ہونے والے ہیں جبکہ ابھی تک ان کو ایک سبق بھی نہیں پڑھایا گیا ہے ۔
ویلفیئر کے صدر اور کارکنان نے سکول کے ہیڈ ماسٹر اور ڈی ڈی او سے بات کی تو پتا چلا کہ سکول ھذا سے چار اساتذہ اپریل سے ہی چھٹیوں میں ہیں جبکہ تین اساتذہ سکول ھذا سے تنخواہ لے کر ڈاؤن سیٹیز میں ڈیوٹی دے رہے ہیں ۔اس کے علاوہ رحمن پور یونین ڈی ڈی او سے 15 سے زیادہ اساتذہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے دفتروں اور ڈاؤن سیٹیز میں ہیں ۔
اس ایشو کے بارے میں کئ بار ڈی ڈی ایجوکیشن استور سے بات کی لیکن جناب صرف باتوں تک محدود رہا کیونکہ جتنے بھی بندے یہاں سے گئے ہیں اس کے پیچھے ڈی ڈی صاحب کی پشت پناہی ہے۔اسلئے جناب چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ،چیف منسٹر گلگت بلتستان ،سیکریٹری ایجوکیشن ،ڈائریکڑر جنرل گلگت بلتستان اور ڈائریکٹر دیامر استورڈویژن سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس حساس مسلئے کو 2 دن کے اندر حل نکالا جائے اور زمہدران سے اس لاپرواہی کے بارے میں پوچھا جائے تاکہ طالبات علم جیسے عظیم زیور سے محروم نہ ہو۔
بصورت دیگر سکول ھذا کو بند کر کے احتجاج کیا جائے گا ۔طالبات کی درخواست تحریر کے ساتھ اپلوڈ کیا گیا ہے
۔
المشتہر پریس سیکرٹری سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن چورت ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Gilgit