Learning & Growing
عید غدیر مبارک
عدلِ نجاشی، جب ایک عیسائی بادشاہ کی بصیرت اسلام کی ڈھال بن گئی جب کفار مکہ کے ظلم سے تنگ آکر حبشہ ہجرت کرگئے تھے۔
تحریر: دلیرشاہ
تاریخِ عالم میں ایسے لمحات کم ہی ملتے ہیں جب ایک مذہب کے پیروکاروں کو دوسرے مذہب کے حکمران نے نہ صرف پناہ دی بلکہ ان کے دفاع میں اپنی سلطنت کو داؤ پر لگا دیا۔ ہجرتِ حبشہ کا یہ واقعہ محض ایک سفر نہیں بلکہ حق و صداقت کی وہ پکار تھی جس نے ایک منصف مزاج بادشاہ کے دل کی کایا پلٹ دی۔
اعلانِ نبوت کے پانچویں سال جب مکہ کی زمین مسلمانوں پر تنگ کر دی گئی، تو رحمتِ عالم ﷺ نے صحابہ کی بے بسی دیکھ کر ایک ایسی سمت اشارہ کیا جہاں انصاف کا سورج طلوع ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"اگر تم حبشہ چلے جاؤ تو بہتر ہے، وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا اور وہ سرزمینِ صدق (سچائی کی زمین) ہے۔"
قریشِ مکہ نے مسلمانوں کا تعاقب کیا اور حبشہ پہنچ کر نجاشی کے درباریوں کو تحائف سے خرید لیا۔ عمرو بن العاص (جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے) اور عبداللہ بن ابی ربیعہ نے بھرپور کوشش کی کہ بادشاہ مسلمانوں کو سنے بغیر ہی نکال دے۔ لیکن اصحمہ نجاشی کی جبلت میں عدل تھا۔ اس نے دوٹوک الفاظ میں کہا:
"خدا کی قسم! میں ان لوگوں کو جو میرے پاس پناہ لینے آئے ہیں، اس وقت تک حوالے نہیں کروں گا جب تک ان کا موقف نہ سن لوں۔"
سیدنا جعفر بن ابی طالب علیہ سلام جب دربار میں کھڑے ہوئے تو ان کے لہجے میں وہ اعتماد تھا جو صرف ایمان سے ملتا ہے۔ انہوں نے ایک ایسی تصویر کشی کی جس نے حبشہ کے دربار کو ہلا کر رکھ دیا گو کہ حضرت جعفر طیار جو بنو ہاشم سے تعلق رکھتے تھے نہ ہی جاہل تھے اور نہ ہی بت پرست ۔کعبہ میں سارے قبائل کے بت تھے لیکن بنو ہاشم کے بت نہیں تھے اور آپ نے سب کی نمائندگی کرتے ہوئے فرمایا:
"اے بادشاہ! ہم جاہل تھے، بت پوجتے تھے، بدکاریاں کرتے تھے، اور کمزوروں کا حق مارتے تھے۔ پھر اللہ نے ہم میں ایک ایسا رسول بھیجا جس کی امانت اور پاکدامنی کی گواہی دشمن بھی دیتے ہیں۔"
نجاشی نے جب کلامِ الٰہی سننے کی خواہش کی، تو حضرت جعفر علیہ سلام نے سورۃ مریم کی تلاوت فرمائی۔جب وہ اس آیت پر پہنچے:
حضرت جعفر بن ابی طالب نے نجاشی کے دربار میں القرآن کی سورۂ مریم کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائی :
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
كهيعص
ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا
ترجمہ:
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔
کٰہٰیٰعٰص۔
یہ آپ کے رب کی اس رحمت کا ذکر ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی۔جب انہوں نے اپنے رب کو آہستہ آواز سے پکارا۔عرض کیا: اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر بڑھاپے سے سفید ہوگیا ہے، اور اے میرے رب! میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر محروم نہیں رہا۔
اور حضرت مریمؑ اور حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں پڑھی جانے والی مشہور آیات:
وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا
ترجمہ:“اور کتاب میں مریم کا ذکر کرو، جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف ایک جگہ جا بیٹھی۔ پھر اس نے ان سے پردہ کر لیا، تو ہم نے اس کی طرف اپنی روح (فرشتہ جبرائیل) کو بھیجا، اور وہ اس کے سامنے ایک مکمل انسان کی شکل میں ظاہر ہوئے۔”
جب حضرت عیسیٰؑ اور بی بی مریمؑ کا تذکرہ ہوا، تو دربار کا منظر بدل گیا۔ بادشاہ اس قدر رویا کہ اس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔
نجاشی نے ایک لکڑی زمین پر ماری اور کہا: "خدا کی قسم! عیسیٰؑ اس لکڑی کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں تھے جو تم نے بیان کیا ہے۔ یہ کلام اور انجیل ایک ہی چراغ کے نور ہیں۔"
اگلے دن مکہ کے وفد نے حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں مسلمانوں کے عقیدے کو بنیاد بنا کر دوبارہ اکسانے کی کوشش کی، مگر نجاشی نے دوٹوک فیصلہ سناتے ہوئے قریش کے تحائف واپس کر دیے اور فرمایا:
"تمہارا سونا تمہیں مبارک ہو، میں اللہ کے نبی کے ساتھیوں کو کسی صورت حوالے نہیں کروں گا۔ تم لوگ میری سلطنت میں امن سے رہو، جو تمہیں ستائے گا وہ مجھ سے لڑے گا۔"
نجاشی کا عدل اسے اسلام کی آغوش تک لے آیا۔ یہ تاریخ کا وہ منفرد اعزاز ہے کہ جب 9 ہجری میں نجاشی کا انتقال ہوا، تو اللہ کے نبی ﷺ نے مدینہ میں صحابہ کو اکٹھا کیا اور فرمایا:
"تمہارے ایک صالح بھائی کا انتقال ہوگیا ہے، اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو۔" یہ تاریخ میں کسی بھی بادشاہ کے لیے دیا گیا سب سے بڑا خراجِ تحسین تھا کہ زمین پر بسنے والے سب سے عظیم انسان نے اس کے لیے غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھائی۔
داستانِ نجاشی ہمیں سکھاتی ہے کہ "انصاف" کسی مذہب کا پابند نہیں ہوتا۔ ایک غیر مسلم عادل بادشاہ اللہ کو اس ظالم مسلمان سے زیادہ عزیز ہے جو اپنے اقتدار کے لیے انسانیت کا خون کرتا ہے۔ حق ہمیشہ وہاں پناہ پاتا ہے جہاں عدل کی شمع روشن ہو۔
مراجع:
صحیح البخاری کتاب الجنائز
صحیح مسلم کتاب: الجنائز
مسند احمد بن حنبل
سیرت ابن اسحاق
سیرت ابن ہشام
الطبقات الکبریٰ لابن سعد
#داستان حق
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Gilgit
15100