Wershigoom Times

Wershigoom Times

Share

31/08/2025

Follow 👉 Front Page Pakistan
A Sikh student, from Lahore, Onkar Singh, has delivered a phenomenal performance in the 9th class examinations, scoring 554 out of 555 marks and setting a powerful example of hard work and dedication.

Excelling beyond expectations, Onkar—who appeared through a private school—chose Islamic Studies, and Holy Qura'n, translation despite being offered alternative subjects typically provided to minority students. He then backed that choice with outstanding results, securing 98/100 in Islamic Studies, and 49/50 in Holy Quran, translation.

Teachers and peers have lauded his achievement, as a milestone for interfaith learning and academic merit. Education observers say Onkar’s success showcases, how curiosity, discipline, and respect for diverse subjects can open doors and challenge stereotypes.

Disclaimer: This content is shared solely for educational, informational, and journalistic purposes. Image is AI-generated and used for creative purposes only.

19/08/2025

ڈاکٹر قدیر خان کے 2 احسانات
ایٹم بم اور معافی نامی ۔
کہانی جو سننے کے لائق ہے

شروع کرتے ہیں 1985 سے جب عالمی سطح پر سرگوشیاں ہونے لگیں کہ پاکستان ایٹم بنا چکا ہے ۔ کولڈ ٹسٹ کی خبریں لیک ہو چکی تھیں ۔ لیکن دنیا کے پاس ثبوت کوئی نہیں تھا ۔
ہوا یوں کہ
مئی 2003 میں ایران کے ایک باغی گروہ نے ایرانی یورینیم انرچمنٹ پلانٹ کی خبر امریکہ کو پہنچا دی ۔ ایران پر شدید دباؤ آیا۔ ایران کو بتانا پڑا کہ ہمارا پروگرام پُرامن مقاصد کے لئے ہے ، بم بنانے کیلئے نہیں ۔
ایران پر جانچ کروانے کی شرط عائد ہوئی ۔

جب جولائی 2003 میں عالمی انسپکشن ٹیم ایران پہنچی تو پلانٹ میں نصب 100 سینٹری فیوجز دیکھ کر ہی سمجھ گئی کہ یہ وہی ڈیزائن ہے جو ہالینڈ کی کمپنی سے غائب ہوئے تھے جب ڈاکٹر قدیر وہاں کام کرتے تھے۔

ایران نے کہا کہ تمام سینٹری فیوج اسنے خود تیار کئے ہیں ۔ تب ٹیم نے ان سائٹس کا معائنہ کروانے کا مطالبہ کر دیا جہاں ایران نے یہ تیار کئے تھے ۔
تب ایران کو تسلیم کرنا پڑا کہ اس نے یہ پلانٹ و آلات باہر کے زرائع سے حاصل کئے ہیں ، بہرحال پاکستان کا نام نہیں لیا گیا ۔۔۔
لیکن انسپکشن ٹیم کا پورا شک پاکستان پر تھا ۔

پھر ہوا یوں کہ ٹھیک دو ماہ بعد اکتوبر 2003 میں برطانوی انٹیلیجنس MI6 کو اطلاع ملی کہ ملیشیا سے 4 کنٹینر براستہ دوبئی لیبیا جا رہے ہیں جن میں یورینیم انرچمنٹ پلانٹ کے حساس آلات ہیں ۔ اطلاع اتنی گہری تھی کہ کنٹینرز کے نمبر تک بتائے گئے ۔
امریکی، برطانوی اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی متحرک ہوئیں اور نہر سویز پار کرنے کے بعد مال بردار جہاز کا رخ جرمنی کی بندرگاہ کیطرف موڑ دیا گیا ۔
تلاشی ہوئی ۔ اطلاع درست نکلی ۔ چاروں کنٹینرز میں پاکستانی ساختہ پلانٹ برآمد کر لیا گیا ۔

لیبیا اور پاکستان دونوں پھنس گئے ۔ لیبیا کی بھی تلاشی لی گئی ۔ وہاں سے ویسے ہی بلوپرنٹ ملے جو ڈاکٹر قدیر ہالینڈ سے ساتھ لائے تھے

یہاں یہ بات بتانی ضروری ہے کہ ایک یورینیم انرچمنٹ یونٹ کا سائز آتنا بڑا ہوتا ہے کہ بمشکل دو یا تین کنٹینرز میں سما پاتا ہے جبکہ پورے پلانٹ کے لئے سینکڑوں یونٹ درکار ہوتے ہیں
اندازہ لگا لیجیے کہ ایران کے پاس جو 100 یونٹ تھے اور ابھی 900 مزید جانے تھے ان کے لئے کتنے کنٹینر پاکستان سے نکلے ہونگے اور کتنے سال لگے ہونگے ؟
مزے کی بات یہ کہ ایران ، لیبیا ، کوریا اور نجانے کس کس ملک کو اتنی بڑے پیمانے کی شپمنٹ 24 گھنٹے ایجنسیوں کی نگرانی میں رہنے والا ڈاکٹر قدیر خان اور اس کے چند ساتھی کر رہے تھے لیکن ریاست کو سالہاسال خبر نہ ہوئی ۔

دوسرا یہ کہ ایک ایک سودا اربوں ڈالر کا تھا لیکن یہ ڈالر کب ، کیسے اور کن ذرائع یا اکاؤنٹس سے ڈاکٹر قدیر خان تک پہنچے کا ایک ادنیٰ ثبوت نہ مل سکا ۔ نہ پاکستان کو نہ امریکہ یا برطانیہ کو ۔

آگے چلئے

پھر جنرل مشرف اور ڈاکٹر صاحب کے درمیان ایک ون ٹو ون ملاقات ہوتی ہے جس میں ہوئی باتوں کا کوئی ایک بھی گواہ نہیں ۔ لیکن بعد ازاں اس ملاقات کی جنرل مشرف اور ڈاکٹر قدیر خان کے زبانی سامنے آئی کہانی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔

بہرکیف ملاقات کے بعد
ڈاکٹر صاحب کو سرکاری تحویل میں لے کر جنرل مشرف ریاستی سطح پر ایٹمی پھیلاؤ کے جرم میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے مدعا ایٹمی سائنسدان پر ڈال دیتا ہے ۔
ڈاکٹر قدیر ملک کی خاطر ٹی وی پر قوم سے معافی مانگتے ہیں جبکہ جنرل مشرف ڈاکٹر صاحب کی معافی قبول کرتے ہوئے انہیں امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیتا ہے ۔

مشرف کے کہنے پر میجر جنرل خالد قدوائی ایک پریزنٹیشن تیار کر کے امریکہ کو دیکھاتا ہے کہ کس طرح ہم نے ڈاکٹر قدیر کا نیٹ ورک ختم کر دیا ہے ۔ یہ باتیں میدیا کو بھی بتائی جاتی ہیں ۔
امریکہ سے کہا جاتا ہے کہ دنیا کے ہر ملک نے ایٹمی صلاحیت کسی نہ کسی دوسرے ملک سے خفیہ حاصل کی ہے ۔ امریکہ اور فرانس نے بھی تو یہ صلاحیت جرمنی سے چوری حاصل کی تو پھر اکیلا پاکستان سزا کیوں بھگتے ؟
امریکہ اپنے پیارے مشرف کی بات مان لیتا ہے اور قصہ ختم شدہ

لیکن اس کہانی نے جن سوالات کو جنم دیا آخر میں وہ سوال دوہرا دیتا ہوں

1- کیا ڈاکٹر قدیر اکیلا اتنا بڑا اور خطرناک نٹ ورک چلا سکتا تھا ؟

2- وہ اربوں ڈالر کہاں ہیں جو ایران ، لیبیا وغیرہ وغیرہ سے حاصل ہوئے ؟؟

3- ڈاکٹر قدیر کے خلاف معلومات صرف اور صرف دو چار جنرلز تک کیوں محدود ہیں ۔ اتنے بڑے نٹ ورک کا کیا اور کوئی گواہ نہیں ؟؟

4- ڈاکٹر قدیر خان کو نالائق و لالچی ظاہر کرنے کے لئے جنرل مشرف کو پرویز ہود بھائی اور موجودگی ڈی جی ISPR کے والد سائنسدان سلطان محمود بشیر کے علاؤہ کوئی نہ ملا ؟

ہماری تو تاریخ ہی معافیوں کی فرمائش گری سے بھری پڑی ہے

فاطمہ جناح سے معافی کا مطالبہ
مجیب الرحمٰن سے معافی کا مطالبہ
بنگالیوں سے معافی کا مطالبہ
بھٹو سے معافی کا مطالبہ
بگٹی سے معافی کا مطالبہ
ائیر چیف اصغر خان سے مطالبہ
بینظیر سے مطالبہ
مہاجروں سے مطالبہ
نواز شریف سے مطالبہ
ڈاکٹر عبد القدیر خان سے مطالبہ
تحریک انصاف سے مطالبہ
پریس کانفرنسوں کا مطالبہ
ماہ رنگ بلوچ سے مطالبہ
اور اب
عمران خان سے معافی کا مطالبہ

اللّٰہ تعالیٰ ایسی معافیاں طلب کرنے والوں سے پاکستان کو پناہ عطا فرمائے ۔

01/08/2025

🔬 ڈاکٹر سمیرا موسیٰ: وہ جو ایٹم کو امن کا ذریعہ بنانا چاہتی تھیں، مگر خاموش کر دی گئیں!

تحریر: ندیم ملک

🌸 ایک خواب... جو سائنس کی سرحدیں پار کر گیا!

3 مارچ 1917 کو مصر کے "زیفتا" نامی گاؤں میں ایک لڑکی نے آنکھ کھولی جس نے مستقبل کی سائنس کو لرزا کر رکھ دینا تھا۔ یہ تھیں ڈاکٹر سمیرا موسیٰ — عرب دنیا کی پہلی خاتون ایٹمی سائنسدان، جنہوں نے نہ صرف سائنس کی دنیا میں نام کمایا بلکہ خواتین کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی۔

📘 علم کی دنیا میں پہلا قدم: "ریاضی کی کتاب میں غلطی پکڑنے والی بچی"
سمیرا موسیٰ کی ذہانت بچپن سے ہی ظاہر ہو چکی تھی۔ صرف سیکنڈری اسکول کے پہلے سال میں ہی انہوں نے ریاضی (الجبرہ) کی سرکاری کتاب میں موجود غلطیاں درست کیں، اور پھر اپنے والد کے خرچ پر وہ کتاب شائع کروا کر مفت تقسیم کی۔ (ماخذ: Egypt Independent, 2018)

🎓 مصر کی پہلی خاتون ایٹمی ماہر: سائنس کے دروازے پر پہلا دستک

سمیرا نے قاہرہ یونیورسٹی سے فزکس میں تعلیم حاصل کی اور فیکلٹی آف سائنس میں پہلی خاتون ٹیچنگ اسسٹنٹ بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب لڑکیوں کا اعلیٰ سائنسی تعلیم حاصل کرنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

🇬🇧 برطانیہ اور امریکہ کا علمی سفر: جہاں ایٹم کا راز کھلا

انہوں نے گیسز کی تھرمل کمیونیکیشن میں ماسٹرز کیا اور پھر برطانیہ کا رخ کیا، جہاں ایٹمی تابکاری (Atomic Radioactivity) اور ایکس رے کے اثرات پر کام کرتے ہوئے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ حیرت انگیز بات یہ کہ اپنا تحقیقی مقالہ صرف 1 سال 5 ماہ میں مکمل کر لیا! (ماخذ: The Arab Weekly, 2019)

☢️ "ایٹم سب کے لیے، جنگ کے بغیر": انقلابی خیال، جو جان کا دشمن بن گیا!

اپنی تحقیق میں سمیرا موسیٰ ایک ایسی مساوات پر پہنچی تھیں جس کے ذریعے تانبے جیسی سستی دھات کو بھی فِشن ری ایکشن کے ذریعے توانائی میں بدلا جا سکتا تھا۔ ان کا خواب تھا:

"ایٹمی توانائی کو دوا اور ترقی کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ تباہی کے لیے!"

وہ کہتی تھیں:
"ہم سب کے لیے ایٹم، نہ کہ جنگ کے لیے!"
(ماخذ: Middle East Monitor, 2020)

🕵️‍♀️ ایک سازش، ایک کار حادثہ، ایک خاموش موت

5 اگست 1952 کو امریکہ میں انہیں ایک لیبارٹری دورے کی دعوت دی گئی، جہاں وہ ایک "حادثے" میں جاں بحق ہو گئیں۔ لیکن تحقیق سے پتا چلا کہ یہ معمولی حادثہ نہیں تھا۔
یہ دراصل موساد (Mossad) کی ایک کارروائی تھی، جس نے ان کی زندگی کے ساتھ ساتھ، عرب دنیا کی سائنسی خودمختاری کا بھی گلا گھونٹ دیا۔
(ماخذ: Al Jazeera Documentary: "Who Killed Samira Moussa?")

---

🕯️ ورثہ جو زندہ ہے...

ڈاکٹر سمیرا موسیٰ آج بھی زندہ ہیں — ہر اس بچی کی آنکھ میں جو سائنس دان بننے کا خواب دیکھتی ہے، ہر اس نوجوان کے دل میں جو علم سے دنیا بدلنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

📌 حوالہ جات:

1. Egypt Independent – “Samira Moussa: Egypt’s first female nuclear scientist”, March 3, 2018

2. The Arab Weekly – “Samira Moussa, Egypt’s nuclear pioneer”, August 10, 2019

3. Middle East Monitor – “The story of Egypt’s forgotten nuclear physicist”, February 20, 2020

4. Al Jazeera Documentary – Who Killed Samira Moussa?, 2022

Want your business to be the top-listed Media Company in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Gilgit