Adv Sami Ullah

Adv Sami Ullah

Share

09/02/2026

2026 SCMR 1
کیا خاوند بیوی کو صرف اس لیے خرچہ دینے سے انکار کر سکتا ہے کہ وہ حقوق زوجیت ادا نہیں کر رہی
مدعیہ اور مدعا علیہ کے درمیان 02.11.2012 کو نکاح ہوا۔ رخصتی فروری 2013 کے لیے مقرر تھی لیکن مدعا علیہ نے اسے ایک سال سے زیادہ موخر کر دیا جس سے مدعیہ کے دل میں شک پیدا ہوا۔

اکتوبر 2013 میں مدعیہ نے نکاح کے بعد سے خرچہ کا مطالبہ کیا اور فیصل آباد فیملی کورٹ سے رجوع کیا۔ مدعا علیہ نے تحریری بیان جمع کرایا لیکن مصالحت کی کارروائی کے دوران غیر حاضر رہا جس کی وجہ سے عدالت نے مدعیہ کو یکطرفہ فیصلہ دے کر 3,000 روپے ماہانہ خرچے کا حکم دیا

دونوں فریقین نے فیصل آباد ڈسٹرکٹ جج کے سامنے اپیل کی۔ اس دوران مدعا علیہ نے مدعیہ کو طلاق دے دی جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے مدعیہ کی اپیل کو جزوی طور پر منظور کیا۔ مدعا علیہ کی اپیل کو کو رد کر دیا اور خرچہ 3,000 روپے سے بڑھا کر 5,000 روپے ماہانہ کر دیا جو نکاح کے ختم ہونے تک جاری رہا۔

اس کے بعد دونوں فریقین نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ہائی کورٹ نے مدعا علیہ کی درخواست منظور کی جس میں کہا گیا کہ نکاح کبھی consummate نہیں ہوا اس لیے مدعیہ خرچہ کی حقدار نہیں ہے۔ ہائی کورٹ مدعیہ کی درخواست اور زیريں عدالتوں کے فیصلے کو رد کر دیا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

عورت کا نان و نفقہ کا حق ایک جائز نکاح کے انجام پانے پر فوراً پیدا ہو جاتا ہے۔ نان و نفقہ ایک ذمہ داری ہے جو براہ راست نکاح کے معاہدے سے پیدا ہوتی ہے اس حق کو پاکستان کے قانونی ڈھانچے نے بھی تسلیم کیا ہے جو نان و نفقہ کو ایک مطلق اور قابل نفاذ حق قرار دیتا ہے مسلم فیملی لاءز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 9 عورت کو خاوند کی ناکامی یا اس کی طرف سے نان و نفقہ نہ دینے پر فیملی کورٹ میں نان و نفقہ کی وصولی کے لیے مقدمہ کرنے کا اختیار دیتی ہے اسی طرح، فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 17A نان و نفقہ کے دعووں کو نافذ کرنے کے لیے ایک تیز طریقہ کار متعارف کراتی ہے یہ دونوں قوانین ایک مفید اور خواتین کے حق میں قانونی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں جو نان و نفقہ کو ایک حقیقی غیر مشروط حق کے طور پر تسلیم کرتا ہے جو صرف جائز نکاح کے وجود سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ کارکردگی اطاعت یا جسمانی موجودگی سے عورت کا نان و نفقہ کا حق جائز نکاح کے انجام پانے پر فوراً پیدا ہو جاتا ہے۔لہٰذا سپریم کورٹ نے مدعیہ کی پٹیشن منظور کرتے ہوئے خاوند کو نکاح کی تاریخ سے عدّت تک ماہانہ 5000 روپے ادا کرنے کا حکم دیا

Photos from SYED NAEEM ALI Advocate's post 03/12/2025
03/12/2025

ضمانت پر رہا ھونے کے بعد اگر ملزم ٹرائل کورٹ میں پیش نہ ھو اور ٹرائل کورٹ غیر حاضری کی بنا پر ملزم کو اشتہاری قرار دیدے یا اسکے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردے تو اس ملزم کی ضمانت منسوخ تصور ھوگی خواہ عدالت نے ضمانت منسوخ کرنے کا باقاعدہ حکم جاری نہ بھی کیا ھو
2019 SCMR 1641
S. 497(5)--- Bail, cancellation of--- Proclaimed offender--- Non-bailable warrants of arrest---When an accused person admitted to bail was subsequently declared a proclaimed offender or non-bailable warrants for his arrest were issued then such declaration or issuance of non-bailable warrants ipso facto amounted to cancellation of such accused person's bail. Rafiq Khan Advocate High Court LLM 03336023706 Rafiq Khan Lound Adv 0333 6023706 Rafiq Khan Lound Adv Rafiq Khan Advocate High Court LLM

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Gilgit