Progressive Nationalist
قراقرم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن دیامر ڈویژن کے صدر کامریڈ شاکر قراقرمی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما کامریڈ نصرت حسین کو 70 دن کی جسمانی ریمانڈ کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر ہر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
کامریڈ شاکر قراقرمی طلبہ کی نمائندہ آواز ہیں۔ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ سوال کرنے اور اپنے حقوق کے لیے پُرامن جدوجہد کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالنا اس بوسیدہ اور ظالمانہ نظام کی واضح نشانی ہے۔
یہ نظام عوام کی آواز دبانے، ناانصافی کو قائم رکھنے اور وسائل پر قبضے کو تحفظ دینے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ جب تک گلگت بلتستان کے عوام اس بوسیدہ نظام کے خلاف متحد ہو کر کھڑے نہیں ہوں گے، یہ ظلم اسی طرح جاری رہے گا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ عوام خاموشی توڑیں، اپنے حقوق، زمینوں اور وسائل کے تحفظ کے لیے منظم اور پُرامن جدوجہد کریں، اور اس بوسیدہ نظام کو گرانے کے لیے متحد ہوں۔
29/05/2025
”اصغر شاہ: وہ آواز جسے دبایا نہیں جاسکتا“
جب قومیں نیند میں ہوں، جب شعور زنجیروں میں جکڑا ہو، جب مظلومیت پر خاموشی اختیار کی جائے اور جب سچ بولنا جرم بن جائے، تب تاریخ ایسے نوجوانوں کو جنم دیتی ہے جو اس جمود کو توڑتے ہیں۔ اصغر شاہ گلگت بلتستان کے غیرت مند نوجوانوں میں وہ نام ہے جو آج مظلوموں کی امید، باشعوروں کی آواز، اور ظالموں کے لیے ایک کڑوا سچ بن چکا ہے۔ فرزندِ دنیور، اصغر شاہ کا "جرم" فقط اتنا ہے کہ اس نے اپنی دھرتی کے حقوق کی بات کی، اس نے نوجوانوں کو جگانے کی کوشش کی، اس نے سوالات اٹھائے جن سے کٹ پتلی نظام خوفزدہ ہو گیا۔ اس نے وہ باتیں کیں جو ایوانوں کو پسند نہ آئیں، مگر عوام کے دلوں کو چیرتی گئیں۔ وہ صرف ایک لیڈر نہیں، وہ ایک سوچ ہے، ایک تحریک ہے، ایک زندہ حقیقت ہے جسے کوئی قید کر کے مٹا نہیں سکتا۔ آج اصغر شاہ جی بی حکومت کی قید میں ہے، لیکن اس کی فکر، اس کی باتیں، اس کے خواب قید نہیں کیے جا سکتے۔ اس کی جیل کی سلاخوں کے پیچھے موجود خاموشی، ہمارے لیے چیخ ہے — چیخ ہے بیداری کی، چیخ ہے مزاحمت کی، اور چیخ ہے بغاوت کی۔ گلگت بلتستان کے نوجوانو! یہ وہ وقت ہے جب تمہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ تم تاریخ کے کس رخ پر کھڑے ہونا چاہتے ہو؟ کیا تم ان لوگوں میں شامل ہونا چاہتے ہو جو تماشائی بنے رہتے ہیں، یا ان بہادروں میں جنہوں نے ظلم کو چیلنج کیا، قید و بند سہے، مگر اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹے؟ اصغر شاہ کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ لیڈر بننا صرف تقریر کرنا نہیں ہوتا، لیڈر بننا اپنے وجود کو آگ میں ڈالنا ہوتا ہے۔ وہ آج قید میں ہے، مگر ہم آزاد ہو کر بھی خاموش رہیں تو یہ ہماری شکست ہے۔ وہ آواز جو اصغر شاہ نے بلند کی، وہ اب ہماری ذمہ داری ہے۔ وہ علم جو وہ تھامے کھڑا ہوا، اب ہم سب کو اسے تھامنا ہوگا۔ اس کی گرفتاری صرف اس کی آزمائش نہیں، یہ ہم سب کا امتحان ہے۔ کیا ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟ یا وقت کے دھارے کے ساتھ بہہ جائیں گے؟ اصغر شاہ کو سلام، جس نے اپنا آج قربان کر کے ہماری آنے والی نسلوں کے لیے جدوجہد کا چراغ روشن کیا۔ اور شرم ہے اُن پر، جو اقتدار کی چاپلوسی میں اپنا ضمیر بیچ بیٹھے، جو سچ کو دباتے ہیں، جو نظریات کو قید کرتے ہیں۔ اصغر شاہ وہ آواز ہے جو اپنے خطے، اپنی قوم اور اپنے نظریے کے لیے اٹھتی ہے! تاریخ گواہ ہے، ظلم کبھی دیرپا نہیں ہوتا، اور سچ کبھی ہارا نہیں کرتا. سلام اُس اصغر پہ جو قید میں بھی چراغ جلائے، اپنا آج جلا کر، کل کا سویرا بنائے۔
~ تحریر: حسین شاہ
29/05/2025
ہم کامریڈ میر بابر (صدر گلگت بلتستان اسٹوڈنٹس الائنس) پر ہونی والی بےبنیاد جھوٹی تمام ایف۔آئی۔آرز کو رد کرتے ہیں اور حکومت کی اس ظالمانہ اقدام کی شدید الفاظ میں مزمت بھی کرتے ہیں۔ حکومت اپنی ان طلباء دشمن اقدامات کو واپس کرے وگرنہ طلباء اسکا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔
Babar Hussain
28/05/2025
عوامی ایکشن کمیٹی یوتھ ونگ و قراقرم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی وائس چیئرمین طالب علم رہنما کامریڈ میر بابر، عرفان آزاد اور دیگر تمام ساتھیوں پر بے بنیاد مقدمات اور بلاجواز گرفتاریوں سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ انتظامیہ شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
ایف آئی آرز اور قید و بند کی سزائیں حق پرستوں کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتیں۔ ہم نہ پہلے کبھی ظلم سے خوفزدہ ہوئے، نہ آئندہ ہوں گے۔ ہماری جدوجہد پہلے سے زیادہ منظم اور مضبوط انداز میں جاری رہے گی۔
28/05/2025
عرفان عباس آزاد اور کامریڈ منظر کو عدالت نے 7 دنوں کی ریمانڈ پر جے آئی ٹی کے حوالے کردیا ،
لعنت ہو ایسے نظام پر ،جہاں عدلیہ بے گناہ اسیروں کو انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہو ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Gilgit