MM TV-GB

MM TV-GB

Share

03/01/2026

ایمان کی طاقت ⚡
وہ دشمن جس نے 3 گھنٹوں میں وینزویلا کو شکست دی اسی دشمن نے 3 سال تک غزہ کو فتح نہ کر سکا۔
وینزویلا کے پاس ایران اور سعودی دونوں کے
مجموعی تیل سے بھی زیادہ تیل ھے منظم آرمی ہے جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل اسلحہ ہے لیکن امریکہ نے 3 گھنٹے کے اندر اس ملک کے صدر اور فیملی کو اغوا کر کے اپنے ملک منتقل کیا اور وینزویلا کی طرف سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ لیکن غزہ کے مسلمانوں کو سلام ہو جنھوں نے ایمان کی طاقت سے مقاومت کی اور 3 سال گزرنے کے باوجود دشمن ان کو شکست نہ دے سکا۔

31/12/2025

گلگت، گلگت بلتستان کا ہیڈ کوارٹر ہے جہاں پورے خطے کے مختلف اضلاع ، قبائل اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ آ کر بستے ہیں۔ ہیڈ کوارٹر ہونے کی حیثیت سے گلگت میں اعلیٰ عدالتیں، عسکری ہیڈ کوارٹرز اور سول بیوروکریسی کے مرکزی دفاتر قائم ہیں، جس کی وجہ سے یہ شہر نہ صرف انتظامی بلکہ سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ گلگت بلتستان کے تینوں ڈویژنز دیامر ، بلتستان اور گلگت کے عوام صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رشتوں، ازدواجی تعلقات اور سماجی روابط میں بندھے ہوئے ہیں۔ دکھ سکھ، کاروبار، تعلیم اور روزگار میں یہ لوگ ایک دوسرے کے محتاج رہے ہیں۔ یہی باہمی رشتہ داری اور سماجی ہم آہنگی اس خطے کی اصل طاقت رہی ہے۔ بدقسمتی سے ایک طویل عرصے سے گلگت فرقہ واریت کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ آئے دن کشیدگی، نفرت انگیز بیانیہ اور اشتعال انگیز واقعات نے نہ صرف شہر کے امن کو نقصان پہنچایا بلکہ پورے گلگت بلتستان کی ساکھ کو بھی متاثر کیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ گلگت کی کئی مساجد کے ائمہ مقامی نہیں، جو مقامی روایات، حساسیت اور قبائلی توازن سے مکمل طور پر واقف نہیں ہوتے۔ اس خلا کا فائدہ اٹھا کر بعض عناصر نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔ یہ ایک اہم سوال ہے کہ گلگت میں فرقہ وارانہ کشیدگی سے فائدہ کس کو ہوتا ہے؟ غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ عام آدمی، چاہے وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتا ہو، ہمیشہ خوف، عدم تحفظ اور پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔ اس کا کاروبار متاثر ہوتا ہے، اس کے بچوں کی تعلیم خطرے میں پڑتی ہے اور اس کا مستقبل غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ فائدہ صرف مخصوص لوگوں کو پہنچتا ہے جو فرقہ واریت کو بطور “گیم” استعمال کر کے سیاسی، مالی یا ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں۔ گلگت کے تمام فرقوں کے عوام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کشیدگی کا نقصان سب کو ہوتا ہے۔ کوئی ایک فرقہ محفوظ نہیں رہتا، کوئی ایک محلہ یا قبیلہ متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورا شہر، پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ اس کے باوجود جب عوام خاموش رہتے ہیں تو وہ نادانستہ طور پر ان مخصوص عناصر کے ہاتھوں کھلونا بن جاتے ہیں۔ آج سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت کے مقامی لوگ ہوش کے ناخن لیں، جذبات کے بجائے عقل و شعور سے کام لیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس گند سے دور رکھیں۔ کسی دوسرے فرقے کو زبردستی اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش نہ کی جائے، کیونکہ ایسی سوچ نے ماضی میں بھی علاقے کو کشت و خون کے سوا کچھ نہیں دیا۔ فرقہ واریت کا مقابلہ صرف ریاستی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ علماء، اساتذہ، صحافیوں، سیاسی قیادت اور عام شہریوں سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ باہمی احترام، مکالمہ، برداشت اور قانون کی پاسداری ہی وہ راستہ ہے جو گلگت کو دوبارہ امن، ترقی اور بھائی چارے کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اگر ہم نے آج سمجھداری کا مظاہرہ نہ کیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

27/12/2025

دنیائے اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم میزائل ٹیکنالوجی کی موجد شہید جمہوریت محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی کے موقع پر پیپلز سیکریٹریٹ راجہ بازار گلگت میں پیپلز پارٹی ضلع گلگت کے زیر انتظام مرکزی تقریب کی ویڈیو جاری کر دیا گیا

15/12/2025

گلگت بلتستان ، انتخابات اور این ایف سی
تحریر :مجاہد منصوری گلگت

گلگت بلتستان میں متوقع انتخابات کے قریب آتے ہی ایک بار پھر عوام کو سبز باغ دکھانے اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے ایسے دعوے کیے جا رہے ہیں جو نہ صرف آئینی طور پر غلط ہیں بلکہ عوامی شعور کی توہین بھی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ جذباتی نعروں کے بجائے آئینی اور قانونی سچائی کی بنیاد پر فیصلہ کر سکیں۔ این ایف سی (نیشنل فنانس کمیشن) ملک عزیز پاکستان کا ایک قومی آئینی ادارہ ہے جو آئینِ پاکستان کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ این ایف سی کا بنیادی کام وفاق اور آئینی صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔ یہ تقسیم ایک طے شدہ آئینی فارمولے کے تحت کی جاتی ہے جس میں آبادی، پسماندگی، آمدن، اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ این ایف سی ایوارڈ صرف اور صرف آئینی صوبوں کے لیے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں کچھ سیاسی جماعتیں اور امیدوار این ایف سی کے نام پر عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ محض انتخابات جیتنے یا کسی حکومتی دعوے سے گلگت بلتستان کو این ایف سی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ سراسر غلط بیانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک گلگت بلتستان کو آئینی صوبے کا درجہ نہیں دیا جاتا، اس وقت تک این ایف سی میں شمولیت ممکن ہی نہیں۔ این ایف سی میں شامل ہونے کا واحد راستہ آئینی شناخت ہے، نہ کہ انتخابی نعرے یا وقتی وعدے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ این ایف سی کے ذریعے جمع شدہ فنڈز چاروں آئینی صوبوں، وفاقی یونٹ اسلام آباد کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو ایک مخصوص فارمولے کے تحت مختلف مدات میں دیے جاتے ہیں، لیکن یہ تقسیم این ایف سی ایوارڈ کے دائرے میں نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے صوابدیدی یا خصوصی پیکجز کے تحت ہوتی ہے۔ اس فرق کو جان بوجھ کر چھپایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔ این ایف سی کے موجودہ نظام پر یہ تنقید بھی کی جاتی ہے کہ پاکستان کی آبادی کا تقریباً 60 فیصد صوبہ پنجاب ہونے کی وجہ سے این ایف سی کا بڑا حصہ پنجاب کو جاتا ہے، جس کے باعث چھوٹے صوبے اور پسماندہ خطے خود کو محروم محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود، گلگت بلتستان کے لیے حل این ایف سی کے نام پر نعرے لگانا نہیں بلکہ آئینی جدوجہد ہے۔ اگر گلگت بلتستان کو واقعی وسائل میں برابری چاہیے تو سب سے پہلے اسے آئینی صوبہ بنانے کی سنجیدہ اور عملی کوشش کرنا ہوگی۔گلگت بلتستان کی سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو جھوٹے خواب دکھانے کے بجائے واضح مؤقف اختیار کریں۔ پہلے گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنوائیں، پارلیمنٹ میں اس کی مکمل نمائندگی یقینی بنائیں اور اس کے بعد این ایف سی میں شمولیت کی بات کریں۔ بلاوجہ این ایف سی کے نام پر عوام کو گمراہ کرنا نہ صرف سیاسی بددیانتی ہے بلکہ علاقے کے مسائل سے فرار کے مترادف بھی ہے۔ گلگت بلتستان کے باشعور عوام کو اب نعروں اور دعوؤں کے بجائے آئینی سچائی کو سمجھنا ہوگا۔ ووٹ صرف اسے دیا جائے جو آئینی حقوق، مستقل حل اور عملی جدوجہد کی بات کرے، نہ کہ این ایف سی جیسے حساس قومی ادارے کو انتخابی ہتھیار بنا کر عوامی جذبات سے کھیلنے کی کوشش کرے۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Gilgit
15100

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 14:00
Sunday 09:45 - 14:00