Mir Chants

Mir Chants

Share

25/02/2026

ایک مرتبہ حضرت خواجہ بایزید بسطامیؒ سے لوگوں نے پوچھا:
آپ نے معرفتِ الٰہی کیسے حاصل کی؟

آپ نے جواب ارشاد فرمایا:
میں نے چالیس برس اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی ۔

جب میرا نفس مطیع ہوگیا تو معرفت کے دروازے کھل گئے ۔

مفہوم:

معرفت عبادت یا صرف زبانی دعوے سے نہیں آتی، بلکہ نفس کی اصلاح اور دل کی صفائی سے نصیب ہوتی ہے۔

جس نے اپنے نفس کو قابو کر لیا،
وہ اللّٰہ کی پہچان کے قریب ہوگیا ۔

25/02/2026

حضرت جی رحمہ اللّٰہ کے دلچسپ واقعات:
قسط نمبر 22

بے ادبی کی دوسری قسم ؟

اعتقادی بے ادبی :

بے ادبی کی دوسری قسم اعتقادی بے ادبی ہے کہ شیخ کے پاس بھی رہتے ہیں لیکن بداعتقادی اور سو ظنی کا مرض ساتھ لگا رہتا ہے۔ وہ شیخ کی فراست اور انقیاد پر بھروسہ نہیں کرتے، بلکہ ان کے قول و فعل کو اپنی عقل کے ترازو میں تولتے رہتے ہیں۔ ظرف اپنام کم ہوتا ہے کہ شیخ کی باتوں کی حکمت کو سمجھ نہیں سکتے لیکن ان کو خامی شیخ میں نظر آرہی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے ایسے شخص کو شیخ سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے ۔

میری ہر نظر تیری منتظر
تیری ہر نظر میرا امتحاں

سالوں گزر جاتے ہیں شیخ سے بیعت ہوئے لیکن روحانی اعتبار سے وہیں کھڑے رہتے ہیں جہاں سے ابتداء کی تھی۔ شیطان کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ ان کو بد عقیدگی کے مرض میں مبتلا رکھے تا کہ کمال اتباع سے ان کو فائدہ نہ ہو جائے اور پھر شکایت بھی ان کو شیخ سے ہوتی ہے کہ ان کی خدمت سے ہمیں فائدہ نہیں ہوا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شیخ سے تعلق رکھنے میں ایک والہانہ انداز ہو کہ جو کچھ شیخ نے کہہ دیا بس وہی حرف آخر ہے حتی کہ کسی معاملے میں صاف پتہ چلے کہ اس میں حضرت شیخ سے غلطی واقع ہوئی ہے تو وہ پھر بھی یہی سمجھے کہ میری نظر اور میری عقل کا دھوکا ہے ورنہ شیخ حق پر ہیں اور ایسے کئی واقعات ( غلط فہمی کی وجہ سے ) ہوتے ہیں کہ فی الواقع شیخ کا خطا پر ہونا معلوم ہوتا ہے اور بعد میں ( غور و فکر کرنے سے ) شیخ کا حق پر ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔ لہذا سالک کو شیخ کے معاملے میں اپنی عقل کو چھوڑ کر ان پر اعتماد کرنا چاہیے اور ان کی خطا کو بھی صواب ہی سمجھنا چاہیے ۔ ( حضرت مرشد عالم ہی آخری عمر میں فرمایا کرتے تھے کہ اب تو اللہ تعالیٰ میری الٹی بھی سیدھی کر دیتے ہیں ) ۔

تکدر شیخ

شیخ کی بے ادبی میں سے سب سے زیادہ خطر ناک وہ بے ادبی ہے جس پر شیخ مطلع ہو جائے اور اس کے دل میں مرید کے لیے تکدر اور ناراضگی پیدا ہو جائے ۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ اس راہ میں معصیت اتنی مضر نہیں ہوتی جتنی بے ادبی مضر ہوتی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ معصیت کا تعلق اللہ تعالی سے ہے اور چونکہ وہ تاثر اور انفعال سے پاک ہیں اس لیے توبہ سے فورا معافی ہو جاتی ہے اور پھر اللہ تعالی سے ویسا ہی تعلق پیدا ہو جاتا ہے بخلاف اس کے کہ بے ادبی کا تعلق شیخ سے ہے اور وہ چونکہ بشر ہے اس لیے طالب کی بے ادبی سے اس کے قلب میں کدورت پیدا ہو جاتی ہے جو فیض کے جاری ہونے میں مانع ہو جاتی ہے ۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے اس کی مثال یوں دی ہے کہ اگر کسی چھت کے پرنالہ کے مخرج میں مٹی ٹھونس دی جائے تو آسمان سے جو پانی برسے گا تو چھت پر تو وہ صاف شفاف ہو گا لیکن جب میزاب سے نکل کر نیچے پہنچے گا تو با لکل گدلا اور میلا ہوگا۔ اسی طرح شیخ کے قلب پر جو ملاء اعلیٰ سے انوارات و فیوضات نازل ہو رہے ہوتے ہیں وہ ایسے طالب پر جس نے شیخ کے قلب کو مکدر کر رکھا ہے ، مکدر صورت میں ہی پہنچیں گے ۔ جس سے اس کے قلب کے مکدر ہونے سے انشراح قلب جاتا رہتا ہے۔ انشراح قلبی کے زوال سے طالب اپنی اصل پٹڑی سے اتر کر شیطان کے راستے پر چل نکلتا ہے۔ اس لیے شیخ کی ناراضگی سے بہت ڈرنا چاہیے اور اگر خدا نخواستہ کبھی دانستہ یا نادانستہ طور پر کوئی ایسی ویسی بات ہو جائے تو اس کا ازالہ کرنے میں دیر نہ لگائیں ( اور فوراً معافی مانگیں ) ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان تمام رکاوٹوں پر قابو پانے کی توفیق نصیب فرما دیں، آمین۔

جاری ہے'''

25/02/2026

اخلاص کا مطلب ہے صرف اللہ کی رضا کے لیے اعمال کرنا، جو قبولیتِ عبادت، دنیا و آخرت کی کامیابی، اور جہنم سے آزادی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ مخلصانہ تھوڑا عمل بھی زیادہ اجر رکھتا ہے اور اللہ کی محبت کا سبب بنتا ہے۔ اخلاص روحِ عمل ہے جو شیطان کے وسوسوں سے بچاتا ہے۔
اخلاص کی چند اہم فضیلتیں:
اعمال کی قبولیت: اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالصتاً اسی کے لیے کیا جائے۔
عظیم ثواب: اخلاص کے ساتھ کیا گیا چھوٹا عمل بھی بڑا اجر رکھتا ہے۔
جہنم سے نجات اور جنت کا حصول: مخلصین کو اللہ جہنم کی آگ سے محفوظ رکھتا ہے اور ان کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔
قبولیتِ دعا: مخلص بندے کی دعا جلد قبول ہوتی ہے۔
شیطان سے حفاظت: مخلص بندوں پر شیطان کا بس نہیں چلتا۔
حسنِ خاتمہ: اخلاص کی برکت سے ایمان پر موت نصیب ہوتی ہے۔
حدیثِ نبوی ﷺ: "اپنے دین کو خالص کر لو، تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا" (مستدرک للحاکم)۔

25/02/2026

محبت کیا ہے ؟،دل کا درد سے معمور ہو جانا
متاعِ جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہو جانا

ہماری بادہ نوشی پر فرشتے رشک کرتے ہیں
کسی کے سنگِ در کو چومنا مخمور ہو جانا

قدم ہیں راہِ اُلفت میں تو منزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چُور ہو جانا

یہاں تو سر سے پہلے دل کا سودا شرط ہے یارو
کوئی آسان ہے کیا سرمد و منصور ہوجانا

بَسا لینا کسی کو دل میں دل ہی کا کلیجا ہے
پہاڑوں کو توبس آتا ہے جل کر طور ہوجانا

نظر سے دور رہ کر بھی تقؔی وہ پاس ہیں میرے
کہ میری عاشقی کو عیب ہے مہجور ہوجانا

Want your business to be the top-listed Media Company in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Zahidiqbalmir88@gmail. Com
Gilgit