Ujala School
ماہنامہ اُجالا تعلیم کے شعبے کا ترجمان ہے جس کا مقصد ٹیچرز، پبلک سکولز، پرائیوٹ سکولز، تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی این جی اوز کے کام سے اآگاہ کرنا، تعلیم کے شعبے میں ہونے والی ریسرچ سے اآگاہ کرنا۔
غربت اورمال کے غلام
(قاسم علی شاہ)
’’اسکول میں ہمیں پیسوں کے بارے میں کیوں نہیں بتایا جاتا؟‘‘بچے کے سوال نے والد کو چونکادیا۔والد بولا:’’کیوں کہ سرکار ایسا نہیں چاہتی۔‘‘ بچہ دوبارہ بولا:’’تو کیا میں اسکول میں پیسہ کمانے کے بارے میں کبھی نہیں جان سکوں گا؟‘‘والد کے لیے بچے کو سنبھالنا مشکل ہورہا تھا۔ وہ بولا:’’ہمیں نوکری کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور اسی نوکری سے ہمیں پیسے مل جاتے ہیں۔‘‘بچہ زِچ ہو کر ایک بار پھربولا:’’تو پھر میں نوکری کرنے کے بجائے سیدھا پیسے کے بارے میں کیوں نہ سیکھوں؟‘‘اس کا والد سوچوں میں ڈوب گیا، جیسے کہہ رہا ہو ’’ہاں بات تو تمھاری ٹھیک ہے۔‘‘یہ بچہ رابرٹ کیوساکی تھا ۔ اُس کی یہ جستجو اس کو اپنے دوست کے والد کے پاس لے آئی۔ وہ ایک انٹرپرینور تھا جس کو رابرٹ نے ’’رِچ ڈیڈ‘‘ کا نام دیا۔ رابرٹ اس کے دفتر میں کام کرنے لگا البتہ وہ اس شرط کے ساتھ رہنمائی دینے پر آمادہ ہوا کہ وہ رابرٹ کو تنخواہ نہیں دے گا۔’’رِچ ڈیڈ‘‘ کاکہنا تھا کہ جب انسان کوتنخواہ ملتی ہے تو ا س کا ذہن پیسوں کے بارے میں سوچنا بند کردیتاہے ۔‘‘’’رِچ ڈیڈ‘‘کے خیالات نے رابرٹ کوعملی میدان میں بے تحاشا فائدہ دیا۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں قدم رکھتے ہوئے وہ یو ایس نیوی میں بھرتی ہوا،پھر ایک اسٹینڈرڈ آئل میں ’’ٹینکرآفیسر‘‘ کے طورپر کام کرنے لگا۔اس نے 1972ء کی امریکہ ویت نام جنگ میں بھی حصہ لیااور پھر کچھ سالوں بعد اس نے ایک سیمینار میں شرکت کی جس نے اس کی زندگی بدل ڈالی۔رابرٹ نے اپنی کمپنی شروع کی جو دیکھتے ہی دیکھتے مقبول ہوگئی،لیکن حیرت انگیز طورپر کچھ ہی عرصے میں اس کا ساراسرمایا ڈوب گیا۔وہ کنگال ہوگیا۔اس کے بعد اس نے ٹی شرٹ اور بیگز کا بزنس شروع کیا لیکن یہ کمپنی بھی کچھ کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔چوں کہ وہ ان عوامل کو اچھی طرح جان چکا تھا جو بزنس میں نقصان دہ ہوتے ہیں اس لیے وہ لوگوں کو کاروبار میں نقصان سے بچنے کی تدابیر بتانے لگا۔اس کی تجاویز کارگرثابت ہوئیں ا ورکئی سارے لوگوں کاکاروبارترقی کرنے لگ گیا۔1992ء میں اس پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ ایک اچھا لکھاری بھی ہے۔چنانچہ اس نے تصنیف کے میدان میں قدم رکھا اور’’Rich Dad Poor Dad‘‘اور’’Why "A" Students Work for "C" Students‘‘جیسی کتابیں لکھیں جنھوں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کردیے۔انہی کی بدولت آج رابرٹ کیوساکی کوکاروباری دنیا میں ایک گرو کی حیثیت حاصل ہے اور لاکھوں لوگ اس کے خیالات سے مستفید ہورہے ہیں۔رابرٹ کہتاہے:’’ایک غریب انسان بچپن سے غریب نہیں ہوتا، اس کارویہ غریب ہوتاہے۔ غریبی انسان کے الفاظ میں ہوتی ہے۔وہ کہتاہے میرے پاس پیسے نہیں ، میںیہ چیز خرید نہیں سکتااور یہ الفاظ اس کی زندگی کو مزید غریب بنادیتے ہیں کیوں کہ ہم وہی بنتے ہیں جو بولتے ہیں۔یہ ایک طرح سے اپنی غریبی سے فرار ہوتاہے اور یہی وہ جال ہے جس میں دنیا کے اکثر لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘
معاشی فراوانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ انسان اپنی زندگی میں چاہے کچھ بھی کرے ، وہ دراصل ’’معاشی آزادی‘‘ کے لیے کررہا ہوتاہے۔نعمتوں کی فراوانی اور سہولیات سے مزین زندگی ہر شخص چاہ رہا ہوتاہے۔آزادی ، انسان کی فطرت ہے ۔وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہ سکتا۔وہ اپنے لیے ایک آزاد زندگی چاہتاہے ۔ایک ایسی زندگی جس کا مالک وہ خود ہو۔جس میں وہ کسی دوسرے کی مرضی پرنہ چلے بلکہ اپنے اصول وقواعدکے مطابق زندگی گزارے ۔وہ زندگی جس میں انتخاب کا اختیار اس کے اپنے ہاتھ میں ہو ، وہ زندگی جس میں فیصلے کا حق اس کے پاس ہو۔
معاشی آزادی کی یہ کوشش انسان کی بچپن سے شروع ہوتی ہے۔خود میرے اور آپ کے بچپن میں کئی سارے ایسے واقعات ہیں جن میں ہم کہتے ہیں کہ جب میں بڑ اہوجائوں گاتو میں فلاں فلاں چیزخریدوں گا۔دراصل یہ اسی معاشی آزادی کی طرف اشارہ ہوتاہے۔تعلیم کا سفر شروع ہوتاہے تو وہاں بھی بار بار بچوں کے ذہن میں یہ بات ڈالی جاتی ہے کہ اچھے نمبر لو ، تاکہ تمھیں اچھی نوکری ملے اور تم کامیاب انسان بن جائو۔ اسکول سے کالج او رپھر یونیورسٹی تک اس سارے سفر میں دو ہی چیزیں ذہن میں ہوتی ہیں:’’ اچھے نمبرلینا اور اچھی نوکری حاصل کرنا۔عملی زندگی میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی ایک بار پھر یہ سوچ دماغ میںبسیراکرلیتی ہے کہ میں نے اتنے پیسے کمانے ہیں کہ جس کے بعد میں معاشی طورپر آزاد انسان بن جائوں ۔میں اپنے لیے ایک اچھا گھر بنائوں ، میرے پاس قیمتی گاڑی ہواور میں ایک ایسی پوزیشن پر پہنچ جائوں جہاں مجھے مالی طورپر پریشان نہ ہونا پڑے ۔میں کہیں بھی جاسکوں ، کسی بھی ریسٹورنٹ میں کھانا کھاسکوں اوردنیا کی ہرنایاب نعمت چکھ سکوں ۔
اس مقام تک پہنچنے کے لیے سخت محنت اور بڑی سے بڑی قربانی دیتاہے۔نوکری کے دوران مشکل حالات ، اصول وضوابط کی پابندی ، ٹائم کی قید ،باس کا سخت رویہ اور موسم کی سختیاں وہ اسی لیے برداشت کرتاہے کہ ایک دن آئے گاجب میں معاشی آزادی حاصل کرلوں گا۔اپنے کاروبار میں دن رات کی محنت ، لمبی فکریں، پریشانیاں ، خطرات اور اپنی نیندتک قربان کرنابھی اسی لیے ہوتاہے کہ میں ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جائوں جہاں مجھے مکمل معاشی آزادی حاصل ہو اور میں زندگی کو بھرپور انداز میں جی سکوں ۔
خوشحالی کامطلب دراصل یہ ہے کہ انسان کی زندگی پٹرول کے ریٹ پر نہ چل رہی ہو، ریٹ بڑھ جائے یا کم ہوجائے، اس سے اُ س کی زندگی پر فرق نہ پڑے۔ اس کے مقابلے میں جس شخص کی زندگی معمولی مہنگائی سے بھی متاثر ہوتی ہو اور اس کو ہر وقت یہ فکرکھائے جارہی ہو کہ بائیک میںپٹرول ڈلوانا ہے ، بجلی کابل دینا ہے ، بچوں کی فیس دینی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خوشحال انسان نہیں ہے۔ایساشخص حالات و واقعات کی قیدمیں پھنساہے اور اس کی زندگی کے فیصلے بھی انھی حالات پر منحصر ہوتے ہیں۔ایسافردکسی مشہور ریسٹورنٹ کے باہر کھڑے ہوکر اپنے بیٹے سے کہتاہے کہ یہاں کاپیزا بہت مشہور ہے ۔بیٹاکھانے کی فرمائش کرتاہے تو وہ کہتاہے ،ابھی نہیں ، پھر کبھی کھائیں گے۔ کیوں کہ اس کی جیب اس کو اجازت نہیں دے رہی ہوتی۔وہ ہر چیزکی خریداری یہ سوچ کر موخرکرتاہے کہ ’’پہلی آنے والی ہے‘‘اس کے بعد لے لیں گے۔یہ غریب انسان کا مشہور ڈائیلاگ ہے اور اسی وجہ سے وہ مہینے کے درمیان ایسی تمام چیزیں نہیں خریدسکتا جس کو وہ خود بھی چاہ رہاہوتاہے اور اس کے بچے بھی۔
’’معاشی آزادی‘‘ انسان کے جینز میں فٹ ہے اور اسی وجہ سے یہ بار بارانسان کو اُکساتی ہے کہ خود کو مجبور حالات کے دائرے سے نکالو اورآزاد ہوجائو۔وہ برسوں حالات کی ان زنجیروں کو توڑنے میں لگادیتاہے۔اگر اس کا عزم صادق اور محنت کرنے کی سمت درست ہو تو ایک وقت کے بعد وہ معاشی طورپر خوشحال انسان بن جاتاہے ۔اب یہاں اس کو اپنی آزادی کوانجوائے کرلیناچاہیے لیکن اکثر اوقات ایسا ہوتاہے کہ وہ اس مقام سے ایک قدم آگے جاناچاہتاہے ۔وہاں پہنچ کر ایک سیڑھی اوراوپر جانے کاخواہش مند ہوتاہے اورپھر اس کو احساس ہی نہیں ہوتاکہ آزادی پالینے کے بعدوہ ایک بار پھر غلام بن چکا ہے۔یہ سب حاصل کرنے کامقصد یہ تھا کہ وہ اپنی مرضی کی زندگی جیے لیکن مادی چیزوں کی ہوس اور زیادہ پیسا جمع کرنے کی لالچ نے اس کو اپنا غلام بنالیاہوتاہے۔اب وہ بظاہر تو بڑامالدار انسان ہے لیکن حقیقت میں دیکھیں تو اس میں اور حالات کے ستم سے مجبورایک غریب انسان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔دونوں غلام ہیں۔
ایک انسان زمانے کا مالدار ترین انسان بن جائے ،اس کے پاس دنیا جہاں کی نعمتیں ہوں لیکن اگر اس سے اس کادوست کہے کہ چھٹیاں آرہی ہیں ، چلو یورپ چلتے ہیں اور وہ کہے کہ میں نہیں جاسکتا تو یہ مالدارترین انسان ہوکر بھی آزاد نہیں ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جواپنی حاصل کردہ نعمتوں سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔ان کی تجوریاں بھری ہوتی ہیں لیکن دسترخوان پر ایک ہی ابلی ہوئی ڈش ہوتی ہے۔یہ لوگ گلی میں کھڑے ہوکر بھنا ہوا’’بھٹا‘‘نہیں کھاسکتے ۔یہ آلو بخارے کا شربت نہیں پی سکتے ۔ یہ کسی ڈھابے پر بیٹھ کردوستوںکے ساتھ گھنٹوں گپ شپ نہیں کرسکتے ، یہ وہاں چائے نہیں پی سکتے ۔یہ سب دراصل سونے کے پنجرے کے قیدی ہوتے ہیں۔یہ ان سلاخوں پرفخر تو کرتے ہیں جو سونے چاندی سے جڑے ہوئے ہیں لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ ان سلاخوں نے ان سے ان کی آزادی چھین لی ہے۔
ایک شخص نے طوطا پکڑااور اس کو ایک خوبصورت نفیس پنجرے میں قید کرلیا۔وہ روز اس کو طرح طرح کی خوراکیں کھلاتا ۔ایک دن اس گھر کی منڈیر پر ایک اور طوطا آکر بیٹھا۔دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔قیدی طوطا بولا:’’ میرا مالک بہت اچھا ہے ۔وہ اپنے ہاتھوں سے مجھے چوری کھلاتاہے۔مجھے طرح طرح کے مربے اور پستے دیتاہے۔تم کیا زندگی گزاررہے ہو، تم جس درخت پر رہتے ہووہاں آندھی ، طوفان بھی آتاہے ، بارش بھی ہوتی ہے اور گرمی سردی سے کوئی حفاظت بھی نہیں۔تم میرے پاس آجائو بہت مزے میں رہو گے۔‘‘آزاد طوطا بولا:’’ تمھیں تمھاری یہ مزے بھری زندگی مبارک ہو دوست! یہ راحت نہیں بلکہ غلامی ہے اور میں اپنی آزادی بیچنے کے لیے ہر گزتیار نہیں ہوں۔‘‘
کامیابی کا اصل مطلب اپنی مرضی کے فیصلے کا اہل ہونا ہے۔آج کے دور میںموبائل ابلاغ کاایک اہم آلہ بن چکا ہے لیکن اگر آپ اپنی زندگی میں چندگھنٹوں کے لیے موبائل آف کرکے اپنی مرضی کی زندگی گزارسکتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ واقعی کامیاب انسان ہیں۔آپ نے سنا ہوگا کہ دنیا کی مشہور اور کامیاب شخصیات اچانک کچھ دنوں کے لیے منظرعام سے غائب ہوجاتی ہیں۔درحقیقت یہ لوگ اصل زندگی جینا چاہتے ہیں اور اسی کی خاطر وہ سب کچھ چھوڑکر پہاڑوں اور جنگلوں کی سیر پر نکل جاتے ہیں تاکہ اپنی فطری آزادی کی تجدید کریں اورزندگی کا حقیقی لطف اٹھائیں۔
باپ اپنے وقت کا کامیاب ترین انسان ہے۔وہ دن بھربڑی شخصیات کے ساتھ ساتھ میٹنگز کرتاہے،پلاننگز بناتاہے اور بڑے بڑے اداروں کاوزٹ کرتاہے۔ رات کوجب گھر آتاہے تووہ تھکن سے چورچورہوتاہے ۔بیٹا اس کے انتظار میں ہوتاہے۔وہ باپ سے ملنا اوربات کرنا چاہتاہے لیکن باپ کہتاہے :’’بیٹا! آئی ایم سوری ۔میرے پاس ٹائم نہیں ہے میں بہت تھکاہواہوں ۔‘‘ملنے کی اُمید پر بیٹا صبح اٹھتاہے تویہ جان کر اس کا دِل ٹوٹ جاتاہے کہ باپ تو اس کی آنکھ کھلنے سے پہلے ہی آفس چلا گیا ہے۔آپ خود اندازہ لگائیں یہ کیسی کامیابی ہے؟
میں نے ایک ٹریننگ سیشن میں جہاں کارپوریٹ دنیاکے بڑے بڑے لوگ بیٹھے تھے، ان سے ایک سوال پوچھا کہ آسمان دیکھے کتنے دن گزرچکے ہیں؟ وہ کہنے لگے: ’’سر!ہم روز دیکھتے ہیں ۔‘‘میں نے کہا: ’’ایسے نہیں ، باقاعدہ وقت نکال کر اور پورے ہوش وحواس کے ساتھ پانچ منٹ تک کس کس نے دیکھا ہے تو جواب میں خاموشی تھی۔ میں نے پھر پوچھا: گیلی گھاس پر ننگے پائوں کتنے لوگ چلے ہیں؟ جواب میں ایک بار پھرخاموشی۔یادرکھیں !ہر وہ کامیابی جو آ پ کو مشروط کردے ،جو آپ کوپابند بنادے ،وہ آزادی نہیں ، غلامی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ حقیقی زندگی سے ابھی دور ہیں۔
اپنی آزادی پر کمپرومائز نہ کریں۔آپ اگر غریب زندگی گزاررہے ہیں تو ساری عمر آپ نے ایسے نہیں رہنا۔آپ جس مخصوص خ*ل میں بند ہیں اس سے نکل سکتے ہیںاور ایک بہترین ذریعہ معاش اختیارکرکے اپنی زندگی کو خوشحال اور آزاد بناسکتے ہیں۔البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے سوچنے کے اندا ز کو بدلیںاور خود کو غریب تسلیم کرنابند کردیں۔آ پ اگر مالدارہیں تومزید مال کمانے کے پیچھے اس قدر مت دوڑیں کہ آپ سے آپ کی آزادی ہی چھن جائے۔یادرکھیں جن لوگوںنے اپنی آزادی پرسمجھوتاکیا اورShow off کے پیچھے پڑگئے وہ دوسروں کو دکھاتے دکھاتے اندر سے کھوکھلے ہوچکے ہیں اوراس کھوکھلے پن نے ان کی زندگی کو سکون سے محروم کردیا ہے۔
انتخاب ارتقاء آرگنائزیشن پاکستان
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the university
Telephone
Address
Dunga Bunga
52110