Upper chitral

Upper chitral

Share

22/11/2024

اختیارات کا غلط استعمال یا عوامی خدمت؟ اپر چترال میں ثریا بی بی کی قیادت کا سوال

محترمہ ثریا بی بی کس کی خدمت کر رہی ہیں؟ عوام کی یا اپنی ذاتی مفادات کی؟ اپر چترال پی کے 1 سے ایم پی اے منتخب ہونے اور خیبر پختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر بننے کے بعد کیا انہوں نے اپنے وعدے پورے کیے؟ مبینہ طور پر، نہیں کیے۔

ترجیحات کی بات کریں تو تورکھو اور تریچ کے لوگ برسوں سے بونی-بزوند روڈ کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کیا ثریا بی بی نے ان کی سنی؟ بالکل نہیں۔ بلکہ انہیں اپنے حقوق کے لیے بونی تک مارچ کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ریشن کے مظاہرین اور مستوج-یارخون روڈ موومنٹ کا کیا ہوا؟ مکمل طور پر نظرانداز۔ کیا یہ قیادت ہے یا لاپرواہی؟

جب اپر چترال ترقی سے محروم ہے اور عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے، اور ثریا بی بی عوام کی پریشانیوں پر ہنس رہی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ سرکاری وسائل کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ وہ عمران خان کے 24 نومبر کے احتجاج میں اپر چترال کی انتظامیہ کی گاڑیاں لے جا رہی ہیں۔ کیا یہ عوامی خدمت ہے یا ذاتی اور سیاسی فائدے کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال؟

محترم شیر عالم لال، جو ثریا بی بی کے شوہر ہیں، مبینہ طور پر اپر چترال لیویز کی قیمتی اور انتہائی مہنگی گاڑی (A1292 Rivo G) ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ گاڑی، جو سرحدی حفاظت اور ہنگامی حالات کے لیے مختص ہے، اب ان کے ذاتی شو آف اور احتجاجوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ اس گاڑی کو ناجائز طور پر استعمال کر رہے ہیں بلکہ مبینہ طور پر اس کا مفت پٹرول اور مرمت کے اخراجات بھی اپر چترال کی انتظامیہ کے ذریعے عوام کے پیسوں سے کیے جا رہے ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو علاقے کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونی چاہیے تھی۔ اس گاڑی کو پہلے اسلام آباد احتجاج میں لے جایا گیا، جہاں یہ بری طرح نقصان کا شکار ہوئی، اور اب ورکشاپ میں پڑی ہے، غیر فعال اور بے کار۔ کیا ایک سرکاری گاڑی کا یہ غلط استعمال عوامی اعتماد کے ساتھ دھوکہ نہیں؟

اور یہ سب ابھی ختم نہیں ہوا۔ مبینہ طور پر ثریا بی بی کے پاس پہلے ہی خیبر پختونخوا حکومت کی چار گاڑیاں ہیں، جبکہ ان کے دو بیٹے الگ مہنگی گاڑیاں اور گارڈز استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے خاندان کو اتنے وسائل کی ضرورت کیوں ہے جو عوام کی قیمت پر مہیا کیے جا رہے ہیں؟ اگر یہ گاڑیاں احتجاج کے دوران ضبط ہو جائیں؟ اگر انہیں نقصان پہنچے یا خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو جائے تو ذمہ دار کون ہوگا؟

جب جنوری 2023 جیسی ایمرجنسی دوبارہ پیش آئے گی تو اپر چترال لیویز کی گاڑیاں کہاں ہوں گی؟ ورکشاپ میں یا احتجاج کی افراتفری میں کھو جائیں گی؟ کیا اپر چترال ایسی حکمرانی کا مستحق ہے؟

ثرریا بی بی کو عوام کی خدمت کے لیے منتخب کیا گیا تھا، لیکن ان کے مبینہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے مفادات کی خدمت میں مصروف ہیں۔ کیا یہ وقت نہیں آ گیا کہ ہم سوال اٹھائیں: اپر چترال کب تک اس لاپروائی اور اختیارات کے غلط استعمال کو برداشت کرے گا؟
محترمہ ثریا بی بی، شیر عالم لال، اور ڈی سی اپر چترال اپنی اپنی پوزیشن واضح کریں ۔

تحریر: ڈاکٹر شاہ محی الدین

ادارے کا صاحب مضمون کئ رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں
Suriya Bibi Upper chitral Chitraltimes

17/11/2024

تورکہو روڈ کے خلاف پرامن احتجاج پر پولیس کی جانب سے کیے جانے والے لاٹھی چارج کی تورکہو کے عوام بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ہم چترالی عوام نے دو ایسے نمائندوں کو ووٹ دے کر منتخب کیا جو عوام کی خدمت کے بجائے ان کے حقوق پامال کر رہے ہیں۔ آج کے واقعے میں ثریا بی بی نے عوام کو ان کے بنیادی حقِ احتجاج کے بدلے پولیس کا لاٹھی چارج تحفے میں دیا۔ تورکہو کے عوام نے آپ کو ووٹ اس امید پر دیا تھا کہ آپ ان کے حقوق کا تحفظ کریں گی، لیکن آپ نے انہیں مزید مشکلات میں ڈال دیا۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) ایک شدت پسند جماعت ہے۔ آج کے واقعات نے اس بات کو سچ ثابت کر دیا کہ پی ٹی آئی عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان پر ظلم کر رہی ہے۔ ۔ لطیف صاحب اور ثریا بی بی نے علاقے کا پورا بجٹ ایک پل پر لگا دیا، جو عوامی وسائل کے غیر منصفانہ استعمال کی بدترین مثال ہے۔

چترالی عوام کو اب ہوش میں آنا ہوگا۔ یہ سیاستدان ہمارے بنیادی حقوق چھین رہے ہیں۔ جن دیہات میں پی ٹی آئی کے عہدیدار یا نمائندے موجود ہیں، وہ بھی کرپشن میں ملوث ہیں۔ ان کے خلاف آواز اٹھانا ہر شہری کا حق اور فرض ہے۔

Want your organization to be the top-listed Government Service in Chitral?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Upper Chitral
Chitral