M Nasir uddin

M Nasir uddin

Share

20/05/2026

جنرل باجوہ نے میرے والد شاہ محمود قریشی کو آرمی ہاؤس میں بلایا اور ان کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں انہوں نے کہا شاہ محمود قریشی، اپنی سمت درست کرو، انسان بنو، نہیں تو تمہارے خلاف سائفر کیس بھی آئے گا اور تمہیں عمر قید بھی ہوگی، یہ انہوں نے میرے والد کو دھمکی دی، اور آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اس میں خان صاحب بھی شامل ہیں، شاہ محمود قریشی کی بیٹی گوہر بانو قریشی کا پرانا بیان وائرل

سورس لنک کمنٹ میں۔۔۔

17/04/2026

و بچانے کی حیثیت کھو چکا ہے، یہ اپنی ساکھ ہی بچا لے تو بڑی بات ہے۔

;عفت حسن رضوی کی تحریر

;ہائے یورپ، اب تجھے کوئی پوچھتا بھی نہیں

دنیا کو سفارت کاری سکھانے والا یورپ اس وقت دنیا کو بچانے
کی حیثیت کھو چکا ہے، یہ اپنی ساکھ ہی بچا لے تو بڑی بات ہے۔

جنیوا سوئٹزرلینڈ کا وہ شہر ہے جس کی آبادی تو صرف پانچ لاکھ ہے مگر دنیا کے کروڑوں لوگوں، حکومتوں، سیاست دانوں اور سفارت کاروں کو اس کا نام ازبر ہے۔

یہاں ریڈ کراس کا قیام ہوا، لیگ آف نیشنز یہاں بنی جو بعد میں اقوامِ متحدہ کی شکل اختیار کر گئی، ویت نام کی جنگ کا اختتامی معاہدہ یہاں ہوا، اور کیمیائی ہتھیاروں پر مباحثے اور پابندیاں یہیں سے لگیں۔ مشہورِ زمانہ جنیوا کنونشن نے دنیا کے جنگی کلچر میں انسانیت کے راستے ڈھونڈے۔

شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے جنگوں کے بعد جنیوا سے یورپ کے ابھرتے ہوئے عالمی یکجہتی کے پیغام سے متاثر ہو کر ’مکہ اور جنیوا‘ نظم لکھی۔ ایسے ہی اقبال کا ایک شعر بہت سنایا جاتا ہے:

تہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے

لیکن وہی جنیوا حالیہ کچھ برسوں میں غیر ضروری، غیر اہم اور لاتعلق لگنے لگا ہے۔ یہ خبر بھی بغیر کوئی بریکنگ نیوز بنائے خاموشی سے آئی اور چلی گئی کہ گذشتہ برس فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے سربراہوں سمیت یورپی یونین کے اہم افراد ایرانی حکام سے جنیوا میں ملے۔ بات چیت کا لبِ لباب ایران اور اسرائیل کی ممکنہ جنگ کو ہونے سے پہلے روکنا تھا۔

ابھی اس بات چیت کو 24 گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کیا اور جنگ شروع ہو گئی۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ جو بڑے کروفر سے جنیوا میں سفارت کاری کر رہے تھے، وہ اپنا سا منھ لے کر رہ گئے کیونکہ ان کے اتحادی امریکہ نے انہیں بتایا تک نہیں اور اگلے ہی دن طبلِ جنگ بجا دیا۔ تہران کو یونہی نہیں اسلام آباد کی اہمیت کا اندازہ ہوا، کوئی وجہ ہے۔

ہم نے یورپ سے اٹھتے ٹھنڈے موسم بہت دیکھ لیے، محسوس یوں ہوتا ہے کہ اب مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو دیکھنے کا وقت آ گیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور ایرانی جوابی حملوں کے بعد جو نئی دنیا نظر آتی ہے، اس میں یورپ کسی انتظار گاہ میں بیٹھا نظر آ رہا ہے۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Chitral?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Islamabad
Chitral