CCD Chitral
18/06/2026
ہینڈ میڈ ڈیکوزی
آنلائن۔ آرڈر واٹسایپ 0342 9154048
07/06/2026
اس بورے میں کسی کا نقصان اور ہماری قوم کا شعور بند ہے!
یہ جو تصویر میں آپ کو پارسلز سے بھرا ہوا ایک بڑا بورا نظر آ رہا ہے، یہ کوئی عام کچرا یا فالتو سامان نہیں ہے۔ یہ پاکستان میں ای کامرس (E-commerce) کا بزنس کرنے والے ہر چھوٹے بڑے آن لائن سیلر کی دن رات کی محنت کا پھل، اس کا خون پسینہ، اس کی پونجی اور سب سے بڑا سردرد ہے۔ اس بورے کے اندر جو کچھ بند ہے، اسے ای کامرس کی زبان میں 'RTO' یعنی ریٹرن پارسلز کہا جاتا ہے۔ یہ وہ 20% سے 30% آرڈرز ہیں جو ہمارے اپنے ہی بھائیوں اور بہنوں نے بڑی خوشی سے آن لائن دیکھے، خود اپنی مرضی سے آرڈر بک کروایا، اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ آرڈر آنے کے بعد جب ہماری ٹیم نے ان کو باقاعدہ فون کال کی یا واٹس ایپ پر میسج بھیجا کہ "محترم! آپ کا آرڈر کنفرم کر دیں؟" تو انہوں نے پورے ہوش و حواس میں جواب دیا: "جی بالکل! بالکل یہی چیز ہے، آپ اسے فوری طور پر بھیج دیں۔" لیکن افسوس! جب یہی پارسل سفر طے کر کے، تمام مراحل سے گزر کر ان کے گھر کے دروازے پر پہنچتا ہے، تو یہ لوگ انتہائی ڈھٹائی اور بے حسی سے کہہ دیتے ہیں: "ہمیں نہیں لینا، واپس لے جاؤ۔"
ہمارے ملک میں کورئیر کمپنیوں کے بھی مسائل ہیں، ان کے رائیڈرز بھی بعض اوقات لاپرواہی کرتے ہیں، لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس تباہی میں 60% سے 70% غلطی خود ہمارے کسٹمرز کی ہوتی ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ لوگ آن لائن شاپنگ کو مذاق سمجھتے ہیں یا کوئی تفریح؟ اگر آپ کا موڈ نہیں ہے، اگر آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں، یا اگر آپ نے صرف وقت گزاری کے لیے کلک کر دیا تھا، تو بھائی! جب کنفرمیشن کے لیے کال یا میسج آتا ہے، آپ اسی وقت منع کیوں نہیں کر دیتے؟ اس وقت تو بڑی شان سے کہا جاتا ہے کہ پارسل بھیج دو، لیکن جب پہنچتا ہے تو بغیر کسی ٹھوس وجہ کے آرڈر کینسل کر دیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو لگتا ہے کہ انہوں نے صرف ایک پارسل ہی تو منع کیا ہے، ان کا کیا گیا؟ نہ ان کی جیب سے کچھ گیا، نہ ان کا کوئی نقصان ہوا۔ لیکن ان کو اس بات کا بالکل اندازہ نہیں ہے کہ وہ سامنے والے کسٹمر یا سیلر کا کتنا بڑا معاشی نقصان کر رہے ہیں، اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے یاد رکھیں کہ اس ظلم اور نقصان کا حساب آخرت میں اللہ کے ہاں دینا پڑے گا۔
ایک آن لائن بزنس چلانے کے پیچھے کتنے اخراجات ہوتے ہیں، اس کا اندازہ اس بے حس عوام کو نہیں ہے۔ جب بھی کوئی آرڈر ویب سائٹ پر آتا ہے، تو اس آرڈر کے آنے سے لے کر اس کے پیک ہونے، کسٹمر کے شہر پہنچنے اور وہاں سے ڈیلیور نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ سیلر کے پاس واپس آنے تک، ایک پارسل پر 700 سے 800 روپے کا خرچہ آتا ہے۔ اس 800 روپے کے اندر پروڈکٹ (سامان) کی اپنی اصل قیمت شامل نہیں ہے، وہ بالکل الگ ہے۔ یہ 800 روپے صرف پیکیجنگ میٹیریل، فلائر، کارٹن، ٹیپ، وہاں کام کرنے والے مزدوروں کی دیہاڑی اور سب سے بڑھ کر کورئیر کمپنی کے آنے جانے کے چارجز ہیں جو ہر حال میں سیلر کی جیب سے کٹتے ہیں۔ پارسل کسٹمر کے ہاتھ میں پہنچے یا نہ پہنچے، سیلر کے یہ 800 روپے ڈوب جاتے ہیں۔ اگر پارسل ڈیلیور ہو جائے تو چلو شکر ہے، لیکن اگر وہ واپس آ جائے تو یہ سیدھا سیدھا نقصان ہے۔ اب ذرا حساب لگائیں، اگر ایک چھوٹے بزنس مین کے روز کے 50 آرڈرز ہوں، اور ان میں سے 15 یا 20 پارسلز روزانہ اسی طرح کنفرمیشن کے باوجود ریٹرن آ جائیں، تو روز کا 12 سے 16 ہزار روپے کا مفت کا نقصان کون سا بزنس برداشت کر سکتا ہے؟ اچھے سے اچھا اور چلوایا کاروبار مہینوں میں تباہ ہو جاتا ہے۔
سب سے زیادہ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد، یہی عوام بیٹھ کر شکوے کرتی ہے کہ "ہمارے ملک کے حالات خراب ہیں"، "ہم پر حکمران ظالم مسلط ہیں"، یا "ہم پر معاشی ظلم ہو رہا ہے"۔ ارے بھائی! تم خود دوسروں پر ظلم کر رہے ہو، تم نے کون سے نیکی کے جھنڈے گاڑے ہیں؟ تم خود ایک غریب یا مڈل کلاس بزنس مین کا روزگار اجاڑ رہے ہو اور امید رکھتے ہو کہ تمہارے ساتھ سب اچھا ہوگا؟ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم اتنے منافق اور بے حس ہو چکے ہیں کہ اپنی زبان اور وعدے کی کوئی قیمت ہی نہیں چھوڑی۔ قرآن پاک میں اللہ رب العزت کا بڑا واضح، دوٹوک اور کائنات کا سب سے بڑا اصول بیان کیا گیا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ
"بیشک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے اوصاف (اور حالت) کو نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔"
(سورۃ الرعد: 11)
اس پاک آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ جب تک تم انفرادی طور پر خود کو نہیں سدھارو گے، جب تک تم اپنی نیتیں صاف نہیں کرو گے، اپنے اندر شعور پیدا نہیں کرو گے اور دوسروں کا نقصان کرنا بند نہیں کرو گے، تب تک اللہ پاک بھی تمہاری حالت اور تمہارے ملک کے حالات کبھی نہیں بدلے گا۔ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے ساتھ اچھا ہو، تو پہلے خود اچھے بنو، اپنے اندر اخلاقیات پیدا کرو۔
میری تمام آن لائن شاپنگ کرنے والے کسٹمرز سے ہاتھ جوڑ کر، عاجزانہ لیکن سخت گزارش ہے: خدارا! اگر چیز نہیں خریدنی، تو آرڈر مت کریں۔ انٹرنیٹ پر ٹائم پاس کرنا بند کریں۔ کسی کی محنت کا تماشا مت بنائیں، کیونکہ آپ کا ایک غیر ذمہ دارانہ کلک کسی کے گھر کا چولہا بند کر سکتا ہے۔ ایک ذمہ دار شہری بنیں، اپنے اندر شعور لائیں اور اس ملک کو معاشی طور پر تباہ کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا بند کریں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Address
Balach Lower Chitral
Chitral
17000