Muhammad Ayub
بریکنگ 🚨
ایران میں ہائی الرٹ۔۔فضائی حدود بند اگلے 24 گھنٹے انتہائی اہم۔۔خدا مجتبیٰ خامنہ ائ کی حفاظت فرماء🇮🇷✌️
11/05/2026
مصری فضائیہ کے دستے متحدہ عرب امارات میں
ایران امریکا جنگ کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں حیران کن تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں. ان تبدیلیوں کا محور متحدہ عرب امارات ہے. پرسوں مصری صدر جنرل سیسی متحدہ عرب امارات پہنچے تو یہ انکشاف ہوا کہ مصری فضائیہ کے دستے بھی یہاں تعینات کر دیے گئے ہیں. لطف کی بات کہ مصر نے اپنے فضائی بیڑے میں سے چن کر فرانسیسی ساختہ رافیل بھیجے ہیں.
اب منظر کچھ یوں ہے کہ ابوظہبی پاکستان اور سعودیہ سے روٹھنے کے بعد اسرائیل کی طرف لپکا. اسرائیل نے بھرپور پیار دے کر نہال کر دیا. اپنی سرزمین سے باہر کسی بھی ملک میں پہلی بار آئرن ڈوم کے ساتھ ساتھ آئرن بیم نامی لیزر دفاعی سسٹم اور ان دفاعی نظاموں کے لیے درکار اہلکار بھی جھٹ پٹ تعینات کر دیے. مگر خبر کے افشا ہوتے ہی اریب قریب کے ممالک چونک گئے. قطر میں ترک افواج، سعودیہ میں پاکستانی سپاہ اور اب متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی اہلکار و ہتھیار. اب ایک سطح تو یہ قائم ہوئی کہ امریکا کے بعد تین علاقائی طاقتیں بھی مشرق وسطیٰ کے قلب میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئیں. دوسری سطح یہ تشکیل پائی کہ اسرائیل خطے کے سب سے بڑے حریفوں ترکی اور پاکستان کے دوش و قدم کے برابر آکر بیٹھ گیا. یہ صورت حال ایران کو بھی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی.
مگر شاید متحدہ عرب امارات کو ادراک و احساس ہو چلا ہے کہ اس نے جس تیزی سے پینترا بدلا اور جس سرعت سے ابوظہبی سے تل ابیب تک تعلقات کی منزلیں طے کی ہیں، وہ فائدے کی بجائے نقصان کا باعث ہو سکتی ہیں، اس لیے قاہرہ کے سامنے فضائی عملہ تعینات کرنے کی عرضی رکھی. چونکہ سونے کی چڑیا پھدک کر خود ہی بازو پہ آ بیٹھی تھی ، اس لیے مصر نے عرضی کو آنکھوں سے لگانے کے بعد چوما اور پھر فوراً ہی قبول کر لی. مصر جوکہ نئے منظر نامے میں عالمِ اسلام کی سطح پر ترکی اور پاکستان کے ابھر کر سامنے آنے کی وجہ سے پس منظر میں چلا گیا تھا، کسی قدر نمایاں ہو گیا.
انڈیا کو آواز نہ دی گئی. حالانکہ غل تو یہ پڑا تھا کہ یو اے ای، اسرائیل اور انڈیا کی دفاعی تکون بنے گی. مگر ہیر رانجھے کے قصے میں مصر کیدو بن کر ٹپک پڑا. اس کی ایک وجہ وہی ہو سکتی ہے ، جو گزشتہ پیرا گراف میں عرض کر چکا. دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ انڈیا جانتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تمام اکھاڑ پچھاڑ کا سرِدست اولین مقصد ایران کے سامنے دفاعی دیوار کھڑی کرنا ہے. پاکستان، ترکی اور سعودیہ وغیرہ بعد کے بکھیڑے ہیں. دہلی یوکرائن جنگ میں روس کو ایک گونہ ناراض کرچکا یے، جس کا خمیازہ معرکہء حق میں بھگتنا پڑا تھا. موجودہ جنگ میں روس ایران کی پشت پر کھڑا ہے، اس لیے انڈیا نے کسی بھی نئے جنجال میں پڑنے سے گریزاں رہنے میں ہی عافیت جانی.
متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کو عربوں کے قلب میں لا بٹھانے کا عمل جس قدر مایوس کن تھا، مصر کو اپنی محافظت کی ذمہ داری سونپنے والا اقدام اتنا ہی حوصلہ افزا ہے. اس لیے کہ قاہرہ کسی حد تک سعودی عرب کے زیرِ اثر ہے. سو وہ محتاط کردار ادا کرے گا.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Chitral
17200