Daily Chakwal

Daily Chakwal

Share

ڈیلی چکوال
ضلع چکوال اور گرد و نواح کی تازہ، مستند اور بروقت خبریں!
عوامی مسائل، سماجی و سیاسی اپڈیٹس،
اور کاروباری تشہیر کے لیے ایک مؤثر اور معتبر پلیٹ فارم!
اپنی آواز عوام تک پہنچائیں ڈیلی چکوال کے ساتھ!

04/06/2026

چکوال شہر میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری۔چکوال میں اور کہاں کہاں بارش ہو رہی ہے؟؟؟

04/06/2026

چکوال دے بہادر پنجابیاں دا دِلوں شکریہ!
تُساں پنجابی بولی تے مقامی حقاں دی خاطر میرے گروپ وچ نہ صرف میرا ساتھ دِتا بلکہ شانہ بشانہ کھلوت کے ثابت کر دِتا کہ جدوں حق دی گل کیتی جاوے تے چکوال دے لوک کدی پچھے نئیں ہٹدے۔
ایہہ اتحاد دی اوہ جیندی جاگدی مثال اے جیہڑی سینیاں وچ امید جگاندی اے کہ اسیں رل کے اپنی مِٹی، اپنی بولی تے اپنے حقاں دی سرخروئی ول ٹُر پئے آں۔

ساڈا پنجابی رنگ تے ساڈا مان
چل کے ویکھو تے دل وِچ وساؤ ایہہ گل:

ساڈی مِٹی دی خوشبو، ساڈے لہجے دی شان،
چکوال دے بہادر، ساڈی جان پچھان!

جے بولنا اے تے پنجابی بول، جے کھڑونا اے تے حقاں دے نال کھلو!

یہ قافلہ ہور وڈا کریئے!
جے تہانوں وی اپنی پنجابی پچھان تے مقامی حقوق نال پیار اے تے ایہہ ویلا اے کہ کلھے نئیں، رل کے چلیئے۔
ساڈی طاقت ساڈے اتحاد وِچ اے، ساڈے لہجے وِچ اے، ساڈی بھائی چارگی وِچ اے۔

آؤ، میرے نال جُڑو!
ایس سانجھے جدوجہد دا حصہ بنو تاکہ ساڈی آواز ہور بلند ہووے تے چکوال توں اُٹھی ایہہ جاگدی ہوش سارے علاقے وِچ پھیل جائے۔
زیادہ توں زیادہ لوک ایس پوسٹ نوں شئیر کرو، گروپ وِچ شامل ہوؤ تے اپنے حصے دا دیوا بال کے ایس روشنی نوں ودھاؤ۔

اکٹھے ہو کے چلیے، اکٹھے ہو کے بولیے – ساڈی مٹی، ساڈا حق!

04/06/2026

خالی کرسیاں، ڈوبتی بستیاں اور عوام کا نہ ختم ہونے والا انتظار
تحریر: عدنان انور
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی ممکنہ تاریخوں کی خبریں ایک بار پھر گردش میں ہیں۔ سوشل میڈیا پر تبصرے ہو رہے ہیں، سیاسی محفلوں میں گفتگو جاری ہے اور عوام ایک بار پھر امید اور سوال کے درمیان کھڑی نظر آتی ہے۔ لیکن اگر گلیوں، محلوں اور دیہات کی حقیقت دیکھی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ عوام کا اصل مسئلہ انتخابات کی تاریخ نہیں بلکہ وہ مسائل ہیں جو سالہا سال سے ان کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں اور جن کا حل ابھی تک کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
ایک عام آدمی کی زندگی کو قریب سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے خواب بہت بڑے نہیں ہوتے۔ وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ اس کے بچوں کو بہتر تعلیم مل جائے، گھر میں پانی آ جائے، گلی صاف ہو، سڑک قابلِ سفر ہو، ہسپتال میں علاج مل جائے، بجلی اور گیس کی بنیادی سہولت دستیاب ہو اور روزگار کی عزت برقرار رہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ انہی بنیادی ضرورتوں کے حصول کے لیے اسے اکثر لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
چکوال کے بازاروں، گلیوں اور دیہات میں آج بھی لوگ بڑے سیاسی نعروں سے زیادہ اپنے روزمرہ مسائل کی بات کرتے ہیں۔ کہیں نالیاں بند ہیں، کہیں گندگی کے ڈھیر لگے ہیں، کہیں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، کہیں سرکاری دفاتر کے چکر عوام کی ہمت توڑ دیتے ہیں۔ ہر طرف ایک خاموش سوال موجود ہے کہ آخر عوامی مسائل کی باری کب آئے گی؟
اور پھر گیس کی کہانی بھی عجیب ہے۔ بل وقت پر پہنچ جاتا ہے مگر گیس اکثر کھانے کے وقت غائب ہوتی ہے۔ صبح ناشتے کے وقت چولہا خاموش، دوپہر میں پریشر کم اور شام کو جب روٹی پکانے کا وقت آئے تو گیس گویا کسی خواب کا نام بن جاتی ہے۔ لوگ سلنڈر خریدتے ہیں، لکڑی جلاتے ہیں، متبادل انتظام کرتے ہیں، لیکن مہینے کے آخر میں بل پوری پابندی کے ساتھ گھر پہنچ جاتا ہے۔ عام آدمی کبھی کبھی مسکرا کر کہتا ہے کہ شاید ہمارے ہاں سہولتوں سے زیادہ ان کے بل باقاعدگی سے پہنچتے ہیں۔
بجلی کی صورتحال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مہنگے بل، بڑھتے اخراجات اور محدود آمدنی نے متوسط طبقے کو شدید دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ مہینے کی پہلی تاریخ آتے ہی گھر کے سربراہ کے ذہن میں حساب کتاب شروع ہو جاتا ہے کہ بچوں کی فیس دینی ہے، راشن خریدنا ہے، بجلی کا بل بھرنا ہے یا گیس کا۔
ساڈی عوام بڑی عجیب اے، اوہ تکلیف نوں برداشت کر لیندی اے، دکھ نوں اپنے اندر رکھ لیندی اے، پر جدوں اوہدے بچے دی ضرورت پوری نہ ہوئے تے اوہدے دل وچ پیدا ہون والا سوال بہت وڈا ہو جاندا اے۔
مگر چکوال کے محلہ اسلام پورہ کی کہانی شاید ان تمام سوالوں سے بھی زیادہ گہری ہے۔ گزشتہ سال جب بارشوں اور سیلابی پانی نے اس علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا تو کئی خاندانوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔ لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہوا، سامان تباہ ہوا، خوف اور بے یقینی نے ہر طرف ڈیرے ڈال لیے۔ اس وقت بہت سے لوگ آئے، بہت سے وعدے ہوئے، بہت سی تصویریں بنیں، بہت سی خبریں شائع ہوئیں۔ متاثرین کو یقین دلایا گیا کہ ان کے مسائل حل ہوں گے، ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے گا۔
مگر آج ایک سال گزرنے کے بعد اسلام پورہ کے کئی مکین شاید یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ نمائندے کہاں ہیں جو مشکل وقت میں ان کے درمیان آئے تھے؟ کیا سیلاب کا پانی اتر جانے سے مسائل بھی ختم ہو گئے؟ کیا متاثرہ خاندانوں کی پریشانیاں مکمل طور پر ختم ہو گئیں؟ کیا وہ گلیاں، وہ نکاسی آب کے مسائل اور وہ خدشات بھی ماضی کا حصہ بن گئے جنہوں نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا تھا؟
یہ سوال صرف اسلام پورہ کا نہیں۔ یہ ہر اس بستی کا سوال ہے جو کسی آفت، حادثے یا بحران کے وقت تو خبروں کی زینت بنتی ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔
شاعر نے کیا خوب کہا تھا:
"درد جب حد سے گزر جائے تو آواز بنتا ہے، اور خاموشی بھی اک دن احتجاج بنتی ہے۔"
بلدیاتی نظام کی اہمیت بھی یہی ہے کہ عوام اور اختیار کے درمیان فاصلے کم ہوں۔ ایک ایسا نمائندہ موجود ہو جو عوام کے درمیان رہے، ان کے دکھ سنے، ان کے مسائل کو محسوس کرے اور ان کے لیے آواز بلند کرے۔ کیونکہ فائلوں میں لکھے ہوئے اعداد و شمار اور زمین پر موجود حقیقت میں اکثر بہت فرق ہوتا ہے۔
فیض احمد فیض کا شعر یاد آتا ہے:
"نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں، چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔"
لیکن اس وطن کا عام آدمی آج بھی سر اٹھا کر جینا چاہتا ہے۔ وہ شکایت سے زیادہ امید رکھتا ہے۔ وہ نفرت سے زیادہ بہتری چاہتا ہے۔ وہ تصادم سے زیادہ حل چاہتا ہے۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کے مسائل کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے۔
بلدیاتی انتخابات جب بھی ہوں، جس تاریخ کو بھی ہوں، اصل سوال صرف ووٹ ڈالنے کا نہیں بلکہ اس اعتماد کی بحالی کا ہے جو عوام اور نظام کے درمیان ہونا چاہیے۔ کیونکہ جمہوریت صرف اسمبلیوں کے ایوانوں میں نہیں، بلکہ گلی کے نکڑ، محلے کی نالی، سکول کے دروازے، ہسپتال کے وارڈ اور عام آدمی کے گھر تک پہنچنے والی سہولتوں میں نظر آتی ہے۔
آج بھی کسی چوک میں بیٹھا بزرگ، کسی دکان کے باہر کھڑا نوجوان، کسی سکول جاتی بچی کا باپ، کسی بیمار کے ساتھ ہسپتال میں بیٹھا لواحق اور اسلام پورہ کی کسی گلی میں رہنے والا متاثرہ شہری ایک ہی سوال پوچھ رہا ہے کہ آخر اس کے مسائل کی باری کب آئے گی؟
"لوکاں دے دکھ سنن والا کوئی ہوندا اے، تے شہر دے زخم اینے گہرے نہ ہوندے۔"
شاید یہی سوال ہمارے وقت کا سب سے بڑا عوامی سوال بھی ہے اور سب سے بڑی ذمہ داری بھی۔
تحریر: عدنان انور
4 جون 2026

Want your business to be the top-listed Advertising & Marketing Company in Chakwal?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Chakwal
48800