IUB Library

IUB Library

Share

09/05/2026

‏1. مسجدِ حرام (مکہ مکرمہ)
یہ حج کا نقطہ آغاز اور اختتام ہے۔ تصویر میں کعبہ شریف کو دکھایا گیا ہے جہاں سے حاجی اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں اور طوافِ زیارت کے لیے واپس آتے ہیں۔

2. منیٰ (خیموں کا شہر)
فاصلہ: مسجدِ حرام سے منیٰ کا فاصلہ تقریباً 9 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: حاجی 8 ذوالحجہ کو یہاں قیام کرتے ہیں اور پھر 10 سے 12 ذوالحجہ تک یہاں واپس آکر قیام کرتے ہیں۔ اس کی اپنی لمبائی تقریباً 4 سے 5 کلومیٹر ہے۔

3. عرفات (حج کا رکنِ اعظم)
فاصلہ: منیٰ سے عرفات کا فاصلہ تقریباً 10 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: 9 ذوالحجہ کو تمام حاجی یہاں جمع ہوتے ہیں۔ "وقوفِ عرفات" حج کا سب سے اہم ستون ہے، جس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔

4. مزدلفہ
فاصلہ: عرفات سے واپسی پر مزدلفہ کا فاصلہ 9 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: 9 ذوالحجہ کی رات حاجی یہاں کھلے آسمان تلے قیام کرتے ہیں، نمازیں جمع کرتے ہیں اور رمی (جمرات) کے لیے کنکریاں چنتے ہیں۔

5. جمرات (شیطان کو کنکریاں مارنا)
فاصلہ: مزدلفہ سے جمرات کا فاصلہ تقریباً 6 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: یہاں تین بڑے ستون (جمرہ عقبہ، جمرہ وسطیٰ، اور جمرہ اولیٰ) ہیں جہاں حاجی سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے کنکریاں مارتے ہیں۔

6. واپسی (مسجدِ حرام)
فاصلہ: جمرات سے دوبارہ مسجدِ حرام کا فاصلہ تقریباً 7 کلومیٹر ہے۔
اہمیت: قربانی اور سر منڈوانے کے بعد حاجی طوافِ زیارت کے لیے دوبارہ کعبہ شریف جاتے ہیں۔

خلاصہ:
یہ نقشہ ایک دائرہ نما سفر کو ظاہر کرتا ہے جو مکہ سے شروع ہو کر منیٰ، عرفات، اور مزدلفہ سے ہوتا ہوا واپس مکہ پر ختم ہوتا ہے۔ اس تصویر کا مقصد حاجیوں کو یہ بتانا ہے کہ انہیں کس ترتیب سے سفر کرنا ہے اور ان مقامات کے درمیان کتنا پیدل یا سواری کا سفر درکار ہوگا۔

06/04/2026

جب شاہی خاندانِ بہاولپور کی ایک معزز ہستی کی تدفین شاہی قبرستان، قلعہ ڈیراور میں ہونے جا رہی ہے، تو اس موقع پر نہایت ادب، درد اور خلوص کے ساتھ ایک اہم حقیقت کی جانب توجہ دلانا ضروری ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شاہی قبرستان کی حالت نہایت خستہ اور تشویشناک ہو چکی ہے۔ اس تاریخی اور عظیم ورثے کی نہ تو مناسب دیکھ بھال کی جا رہی ہے اور نہ ہی اس کی حفاظت کا کوئی مؤثر انتظام نظر آتا ہے۔ جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ، صفائی کی ناقص صورتحال، اور لاپرواہی کے واضح آثار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس مقدس مقام کو اس کے شایانِ شان اہمیت نہیں دی جا رہی۔
یہ مقام صرف قبروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ریاستِ بہاولپور کی تاریخ، عظمت اور شناخت کی علامت ہے، جسے اس بے توجہی کے حال پر چھوڑ دینا نہایت افسوسناک اور لمحۂ فکریہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر اس کی حفاظت، مرمت اور باقاعدہ دیکھ بھال کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تاکہ اس قومی ورثے کا وقار بحال رہ سکے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں ریاستِ بہاولپور کے نوابین اور شاہی خاندان کے افراد آسودۂ خاک ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قلعہ ڈیراور کا شاہی قبرستان اس وقت انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے۔
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ:
قبرستان کی حالت انتہائی خراب ہے
صفائی ستھرائی کا مناسب انتظام نہیں
کئی جگہوں پر مٹی بکھری ہوئی ہے
تاریخی آثار اور سامان کی چوری تک ہو چکی ہے
اور مجموعی طور پر یہ مقام لاوارث سا محسوس ہوتا ہے
یہ صرف ایک قبرستان نہیں، بلکہ بہاولپور کی تاریخ، شان، وقار اور شاہی ورثے کی ایک عظیم نشانی ہے۔

🙏 مؤدبانہ اپیل
نواب خاندانِ بہاولپور، اہلِ علاقہ، مقامی انتظامیہ، محکمہ آثارِ قدیمہ اور متعلقہ ذمہ داران سے نہایت ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ:
✅ شاہی قبرستان قلعہ ڈیراور پر فوری توجہ دی جائے
✅ کسی ذمہ دار شخص کی مستقل ڈیوٹی لگائی جائے
✅ سیکیورٹی اور نگرانی کا مناسب انتظام کیا جائے
✅ صفائی، مرمت اور باقاعدہ دیکھ بھال شروع کی جائے
✅ اس تاریخی اور شاہی ورثے کو مزید تباہ ہونے سے بچایا جائے

جو لوگ اس دھرتی کے تاج تھے، جو بہاولپور کی شان، وقار اور تاریخ کا روشن باب ہیں، کم از کم ان کی آخری آرام گاہ کو تو عزت، تحفظ اور دیکھ بھال ملنی چاہیے۔
آج جب ایک اور معزز ہستی کو اسی شاہی قبرستان میں سپردِ خاک کیا جا رہا ہے، تو یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر آواز اٹھائیں کہ:
قلعہ ڈیراور کے شاہی قبرستان کی فوری بحالی، حفاظت اور مستقل نگرانی کی جائے۔
برائے مہربانی اس پیغام کو متعلقہ نواب خاندان، ضلعی انتظامیہ بہاولپور، محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب اور بااثر شخصیات تک ضرور پہنچائیں۔

اللہ پاک مرحومہ کی مغفرت فرمائے، اور ہمیں اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ٹیگ برائے توجہ:

#بہاولپور

Want your business to be the top-listed Gym/sports Facility in Bahawalpur?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Bahawalpur
63100