Pakistani Eommunity Europe
10/05/2020
آخر کب تک ہم بہتر مستقبل کی خاطر اپنی جانیں قربان کرتے رہیں گے سوچئے کا ضرور شیخوپورہ۔ فاروق آباد سے تعلق رکھنے والے 2 جوان افضل اور شہباز ڈنکی لگا کر یورپ جانے کی کوشش میں ترکی بارڈر پر ہلاک ۔
10/05/2020
سلویا رومانو اٹلی واپس پہنچ گئی۔
سلویا نے اسلام قبول کرلیا، سلویاکو اٹھارہ ماہ قبل کینیا کے ایک گاؤں میں قید کرلیا گیا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ قبول اسلام کی وجہ نفسیاتی دباؤ اور حالات بھی ہوسکتے ہیں۔
اس دوران اسے مختلف جگہوں پر رکھا گیا۔ لیکن کسی قسم کی بدتمیزی یا زیادتی نہیں گی گئی۔ سلویا نے اس بات سے بھی انکار کیا ہے کہ اسکے قبول اسلام کی وجہ کوئی دباؤ تھا۔ نہ ہی اس نے شادی کی ہے اور نہ ہی کسی قسم کا ریلیشن رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ اسکا قبول اسلام کا فیصلہ جلدی کا نہ تھا بلکہ قطعی طور پر طویل سوچ بچار کے بعد کیا گیا۔ قید کے دوران اسے گاؤں کے مختلف گھروں میں موجود پناہ گاہوں میں رکھا گیا جہاں پر وہ بند تھی اور اس پر نظر بھی رکھی جاتی تھی لیکن اسکی حرکت پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہ تھی۔
اسے قید کرنے والے لوگوں نے اپنے چہرے نقابوں کے پیچھے چھپائے ہوئے تھے اور تمیز داری سے بات کرتے تھے۔
سلویا نے بتایا کہ قید کرنے والوں نے اس سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اسے قتل نہیں کیا جائے گا اور وہ اپنے وعدے پر قائم رہے۔دوران قید میں نے ان سے قرآن مہیا کرنے کا کہا جو انہوں نے مہیا کیا، میں نے قرآن کو سمجھنے کی کوشش کی اور کچھ عربی بھی سیکھی۔
کل سلویا کو صومالیہ کے دارلخلافہ کے قریب رہا کیا گیا، اور آج روما کی چامپنیو ائیر پورٹ پر خصوصی پرواز سے پہنچی تو ائیر پورٹ پر وزیر اعظم جوزیپے کونتے اور دی مایو وزیر خارجہ بھی موجود تھے۔
سلویا نے سبز رنگ کا صومالی اسلامی لباس پہنا ہوا تھا اور اینٹی کرونا وائرس ماسک بھی لگایا ہوا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ "ریاست موجود ہے" ہم اپنے شہریوں کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کرتے رہیں گے۔
وزیر خارجہ کے ان تمام اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سلویا کی رہائی میں اپنا کردار ادا کیا، اور یہ بھی کہا کہ ماں کے یوم کی مناسبت سے سلویا کی ماں اور اٹلی کی ساری ماؤں کےلئے ایک تحفہ ہے اور میری کوشش ہوگئی کہ جو بھی اٹالین کہیں پر قید ہیں انکو جلد آزاد کروایا جاسکے۔
سلویا کا درجہ حرارت ناپا گیا، اسکا کرونا کا ٹیسٹ کیا گیا، اور اسے مذید تفتیش کےلئے حراستی مقام پر منتقل کردیا گیا۔ سلویا رومانو کا یہ کہنا تھا کہ اسکی خواش ہے کہ وہ سکون سے اپنے اہل خانہ کےساتھ رہے ۔
راجہ افتخار خان
Clicca qui per richiedere la tua inserzione sponsorizzata.
Digitare
Sito Web
Indirizzo
Rome