Daily Inkishaaf Srinagar

Daily Inkishaaf Srinagar

Share

Photos from Inkishaaf Kashmir's post 17/02/2026
26/10/2025
19/10/2025

افغانستان و پاکستان کے خراب تعلقات — ایک تاریخی و تجزیاتی مطالعہ

1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو برطانوی ہند کے مغربی حصے میں ایک نیا ملک وجود میں آیا، جس کی سرحدیں افغانستان سے جا ملتی تھیں۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔ افغانستان، جو ایک قدیم مسلم مملکت ہونے کے ناطے پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم کرنے کا قدرتی امکان رکھتا تھا، دراصل نئے بننے والے اس ملک کے بارے میں تحفظات رکھتا ہے۔

افغانستان وہ پہلا اور واحد ملک تھا جس نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے رکن بننے کی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ یہ اقدام دراصل اس بات کا اظہار تھا کہ کابل حکومت پاکستان کی سرحدوں کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس اختلاف کی بنیاد ڈیورنڈ لائن تھی جو 1893ء میں برطانوی راج اور افغان امیر عبدالرحمن خان کے درمیان طے پائی تھی۔ برطانیہ نے اس لائن کو برصغیر اور افغانستان کی حدِ فاصل قرار دیا تھا، لیکن افغان حکومت ہمیشہ سے اسے ایک عارضی اور ناپائیدار سمجھتی آئی ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد کابل نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ یہ معاہدہ برطانوی حکومت کے ساتھ ہوا تھا، اس لیے پاکستان اس کا فریق نہیں بن سکتا۔

یہی وہ نکتہ تھا جس نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کی بنیاد رکھی۔ افغانستان نے شروع ہی سے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا (اُس وقت کا صوبہ سرحد) اور بلوچستان کے پشتون علاقے دراصل افغان سرزمین کا حصہ ہیں، اور ان علاقوں کو ’’پشتونستان‘‘ کے نام سے ایک آزاد ریاست کی شکل دی جائے۔ پاکستان نے اس مطالبے کو اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیا اور اسے علیحدگی پسندی کے فروغ کے مترادف سمجھا۔

1949ء میں جب پاکستان نے قبائلی علاقوں میں اپنی فضائی نگرانی بڑھانے کے لیے کارروائیاں کیں، تو افغانستان نے اس پر شدید ردِعمل ظاہر کیا۔ اسی دوران کابل حکومت نے پاکستان کے ساتھ سرحدی جھڑپیں شروع کیں۔ افغان سرحدی دستوں نے کئی مقامات پر پاکستانی حدود میں داخل ہو کر حملے کیے۔ خاص طور پر 1950ء کے اوائل میں بلوچستان کے ضلع چمن اور خیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ کے قریب افغان دستوں نے گولہ باری کی۔ پاکستان نے ان حملوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا، اور نتیجتاً دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید خراب ہو گئے۔

افغان حکومت نے نہ صرف حملے کیے بلکہ پشتونستان تحریک کی مالی اور سیاسی سرپرستی بھی شروع کی۔ کابل ریڈیو اور افغان اخبارات میں پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا مہم چلائی گئی۔ اس کے جواب میں پاکستان نے افغانستان سے سفارتی رابطے محدود کر دیے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی سرد مہری 1950ء کی دہائی کے آخر تک برقرار رہی۔

1955ء میں پاکستان نے ملک کے انتظامی ڈھانچے میں ’’ون یونٹ‘‘ کا نظام متعارف کرایا جس کے تحت تمام مغربی صوبے ایک اکائی میں ضم کر دیے گئے۔ افغانستان نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی اور کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر مشتعل ہجوم نے حملہ کر کے جھنڈا اتار دیا۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات عارضی طور پر منقطع کر دیے گئے۔ ایران اور مصر کی ثالثی سے 1956ء میں تعلقات بحال ہوئے، مگر اعتماد کی فضا قائم نہ ہو سکی۔

1960ء اور 1961ء میں افغانستان نے ایک بار پھر سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیزی کی۔ افغان افواج نے باجوڑ ایجنسی اور گرد و نواح میں پاکستانی حدود پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ پاکستان نے یہ دعویٰ کیا کہ افغان افواج ’’پشتونستان‘‘ کے قیام کے لیے قبائلیوں کو اشتعال دلا رہی ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں 1961ء میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات مکمل طور پر منقطع ہو گئے۔ بعد ازاں ایران کے توسط سے 1963ء میں تعلقات بحال کیے گئے، مگر یہ واضح ہو چکا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بدگمانی بہت گہری ہے۔

سرد جنگ کے دور میں پاکستان امریکہ کے زیرِ اثر آیا جبکہ افغانستان سوویت یونین کے قریب ہوا۔ عالمی سیاست کی یہ تقسیم دونوں ممالک کے درمیان فاصلے مزید بڑھانے کا باعث بنی۔ 1973ء میں افغانستان میں سردار داؤد خان نے بادشاہ ظاہر شاہ کی حکومت کا تختہ الٹ کر جمہوریہ قائم کی۔ داؤد خان ایک پرانا پشتونستان نواز رہنما تھا۔ اس نے اقتدار میں آتے ہی پشتون قوم پرستی کو دوبارہ زندہ کیا اور پاکستان مخالف بیانات کا سلسلہ شروع کیا۔ چنانچہ پاکستان نے افغانستان میں مخالف عناصر کی حمایت شروع کی۔ یہی وہ وقت تھا جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ شروع کیا، جس کے نتائج بعد میں انتہائی سنگین نکلے۔

1979ء میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان نے امریکہ کے ساتھ مل کر افغان مجاہدین کی حمایت کی۔ لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں پناہ گزین ہوئے، اور پاکستان افغان مزاحمت کا مرکز بن گیا۔ اگرچہ اس دور میں پاکستان نے افغان عوام کی بڑی مدد کی، لیکن اس جنگ نے پاکستان کے اندر کئی نئے مسائل کو جنم دیا — جن میں مذہبی انتہاپسندی، اسلحے اور منشیات کی اسمگلنگ، اور قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی شامل تھی۔

سوویت انخلا کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی، جس کے نتیجے میں مختلف مجاہد گروہوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش بڑھ گئی۔ پاکستان نے طالبان کی حمایت کی، جو 1996ء میں کابل پر قابض ہو گئے۔ طالبان حکومت سے پاکستان کو امید تھی کہ ایک دوستانہ حکومت قائم ہوگی جو بھارت کے اثر و رسوخ کو ختم کرے گی، مگر بین الاقوامی تنہائی، داخلی سخت گیر پالیسیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں نے طالبان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیا۔

2001ء میں امریکہ پر نائن الیون کے حملوں کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا اور ایک نئی حکومت امریکی سرپرستی میں قائم ہوئی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی بن کر کردار ادا کیا، مگر افغانستان کی نئی حکومت نے پاکستان پر طالبان کو پناہ دینے کا الزام لگایا۔ کابل اور اسلام آباد کے درمیان اس دوران سخت کشیدگی رہی۔ افغان انٹیلی جنس نے پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا الزام بعض اوقات افغان سرزمین پر موجود گروہوں سے منسلک کیا، جبکہ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) افغانستان میں پناہ لے رہی ہے۔

2021ء میں طالبان دوبارہ کابل پر قابض ہوئے۔ پاکستان کو امید تھی کہ اب دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں گے، مگر ایسا نہ ہوا۔ طالبان حکومت نے ڈیورنڈ لائن کو باضابطہ سرحد ماننے سے انکار کر دیا اور پاکستان کی بارڈر فینسنگ پر اعتراضات اٹھائے۔ سرحدی علاقوں میں کئی مرتبہ فائرنگ اور جھڑپیں ہوئیں۔ پاکستان نے افغان سرزمین سے TTP کے حملوں پر سخت احتجاج کیا، مگر طالبان نے ان عناصر کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کیا۔

حالیہ برسوں میں، پاکستان نے غیر قانونی افغان مہاجرین کی واپسی کی مہم شروع کی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔ کابل حکومت نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ پاکستان نے اسے قومی سلامتی کا معاملہ بتایا۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان، سفارتی تلخی اور تجارتی رکاوٹیں آج بھی موجود ہیں۔

ان تمام تاریخی واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی خرابی کی بنیاد محض جغرافیائی یا سیاسی نہیں، بلکہ تاریخی بداعتمادی اور مفادات کے تضاد میں ہے۔ افغانستان ہمیشہ پاکستان کو ایک مصنوعی ریاست کے طور پر دیکھتا رہا، جبکہ پاکستان افغانستان کو اپنے اسٹریٹیجک مفادات کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ جب تک دونوں ممالک ایک دوسرے کو دشمن یا خطرہ سمجھنے کے بجائے تعاون کے شراکت دار کے طور پر نہیں دیکھیں گے، خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

مستقبل کا راستہ صرف باہمی احترام، سفارتی مکالمے، اور اقتصادی تعاون میں مضمر ہے۔ ڈیورنڈ لائن کو مستقل طور پر تسلیم کر کے، سرحدی تجارت کو فروغ دے کر، اور دہشت گردی کے مسئلے پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کر کے ہی دونوں ممالک ماضی کی تلخیوں کو بھلا سکتے ہیں۔ ورنہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہے گی، اور پاک-افغان تعلقات بداعتمادی کے اسی دائرے میں پھنسے رہیں گے۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Srinagar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Culinary Team

Attire

Address


Press Enclave
Srinagar
190001