Imam Rashid

Imam Rashid

Share

یہ اسکرپٹ کسنے لکھ دی 😂😂
نقشبندی سلسلے کے "مرشدِ اعلیٰ" برِصغیر میں خواجہ محمد باقی باللہ برلسی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔
اگر سلسلے کے پہلے بزرگ کی طرف نظر ڈالو تو وہ ہیں —خواجہ محمد بہاؤالدین نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ جن کی ولادت 718 ہجری (1318 عیسوی) میں بخارا، اُزبکستان میں ہوئی۔ یہی وہ عظیم شیخ ہیں جن کے روحانی فیض سے آگے چل کر شیخ احمد سرہندی مجددِ الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے دین کی تجدید فرمائی۔ اور اُن کے شیخ و مرشد، خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ ہی تھے۔ اب ذرا دوسری جانب چشتی سلسلے کی طرف آؤ— خواجہ معین الدین چشتی سنجری رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق سَنجر، خراسان سے ہے، جو اُس زمانے میں فارسی سلطنت (Persian Empire) کا حصہ تھا  آج کا علاقہ ایران و افغانستان کی سرحدوں کے قریب مانا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چِشت نامی گاؤں سے اُن کا نسبی تعلق نہیں تھا، بلکہ "چشتی" نسبت اُنہیں سلسلہٴ چشت سے ملی، جس کی بنیاد حضرت ابو اسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ نے رکھی — جو اصل میں شام (سیریا) کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے جب علاقہ چشت (افغانستان) میں سکونت اختیار کی
اور تعلیم و تربیت کا مرکز قائم کیا، تو اُن کے مریدین کہلائے — "چِشتیہ" یعنی چشت سے تعلق رکھنے والے۔ یہ سلسلہ آگے بڑھا — حضرت خواجہ مَعُود چشتی, پھر حضرت عثمان ہارونی, اور پھر اُن کے فیض سے برِصغیر میں پہنچے سلطان الہند، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ۔ یہ ہے اُن روحانی زنجیروں کی حقیقت — جن سے دین کی 
روشنی صدیوں سے دلوں کو منور کرتی آئی ہے۔
حقیقت بس اِتنی سی ہے کہ ان بدعتیوں کو 200  سال پیچھے جانے پر نسبت جوڑنا ہی پڑتاہے 15/10/2025

یہ اسکرپٹ کسنے لکھ دی 😂😂 نقشبندی سلسلے کے "مرشدِ اعلیٰ" برِصغیر میں خواجہ محمد باقی باللہ برلسی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ اگر سلسلے کے پہلے بزرگ کی طرف نظر ڈالو تو وہ ہیں —خواجہ محمد بہاؤالدین نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ جن کی ولادت 718 ہجری (1318 عیسوی) میں بخارا، اُزبکستان میں ہوئی۔ یہی وہ عظیم شیخ ہیں جن کے روحانی فیض سے آگے چل کر شیخ احمد سرہندی مجددِ الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے دین کی تجدید فرمائی۔ اور اُن کے شیخ و مرشد، خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ ہی تھے۔ اب ذرا دوسری جانب چشتی سلسلے کی طرف آؤ— خواجہ معین الدین چشتی سنجری رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق سَنجر، خراسان سے ہے، جو اُس زمانے میں فارسی سلطنت (Persian Empire) کا حصہ تھا آج کا علاقہ ایران و افغانستان کی سرحدوں کے قریب مانا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چِشت نامی گاؤں سے اُن کا نسبی تعلق نہیں تھا، بلکہ "چشتی" نسبت اُنہیں سلسلہٴ چشت سے ملی، جس کی بنیاد حضرت ابو اسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ نے رکھی — جو اصل میں شام (سیریا) کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے جب علاقہ چشت (افغانستان) میں سکونت اختیار کی اور تعلیم و تربیت کا مرکز قائم کیا، تو اُن کے مریدین کہلائے — "چِشتیہ" یعنی چشت سے تعلق رکھنے والے۔ یہ سلسلہ آگے بڑھا — حضرت خواجہ مَعُود چشتی, پھر حضرت عثمان ہارونی, اور پھر اُن کے فیض سے برِصغیر میں پہنچے سلطان الہند، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ۔ یہ ہے اُن روحانی زنجیروں کی حقیقت — جن سے دین کی روشنی صدیوں سے دلوں کو منور کرتی آئی ہے۔ حقیقت بس اِتنی سی ہے کہ ان بدعتیوں کو 200 سال پیچھے جانے پر نسبت جوڑنا ہی پڑتاہے

Want your business to be the top-listed Media Company in South Extn?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


Chattarpur South Dehli
South Extn
110074