Darul Uloom
19/02/2025
04/02/2025
کبھی خوابوں پہ مرتا ہوں، کبھی تعبیر مارے ہے
کبھی تقدیر کا لکھا ، کبھی تدبیر مارے ہے
ہوس ہے میرے اندر کی ، دغا دیتی ہے جو مجھ کو
کبھی پانے کی حسرت تو کبھی تسخیر مارے ہے
ابھی سوچوں بھلا ہے یہ، ابھی سوچوں کہ وہ اچھا
انہی سوچوں میں گم اکثر مجھے تاخیر مارے ہے
عجب فطرت ہے آدم کی وہ چاہے جو نہیں ہوتا
کہیں زندان کی خواہش، کہیں زنجیر مارے ہے
بنوں یکتا یگانہ میں، نہیں کچھ ہاتھ میں لیکن
کہاں لشکر پہ حاوی تھا کہاں اک تیر مارے ہے
کتابوں میں لکھے قصے، بتاتے ہیں مجھے کچھ اور
جو اپنا حال اب دیکھوں تو وہ تحریر مارے ہے
محبت ہے عجب پھندا ، کوئی بچتا نہیں اس سے
وہ جو اپنوں سے بچ جائے اسے رہ گیر مارے ہے
شاعر : اتباف ابرک
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Website
Address
Saharanpur