Saifi network
06/05/2026
اللہ کی مشیت کا پردہ اوڑھ کر اپنی ذہنی معذوری چھپانے والے کب تک خود کو دھوکا دیں گے؟
یہ کائنات تماشائیوں کے لیے نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے لیے بنائی گئی ہے، جہاں ہر عمل کا ایک ردعمل اور ہر نادانی کا ایک منطقی انجام ہے۔ ہم نے تقدیر کو ایک ایسی "کالی چادر" بنا لیا ہے جس کے نیچے ہم اپنی بے تدبیری، خانگی محاذ پر اپنی نالائقی اور دشمن کے سامنے اپنی بزدلی کو چھپا کر سکون کی نیند سونا چاہتے ہیں۔ مگر یاد رکھیے! اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو زمین پر اپنی حاکمیت کا امین (خلیفہ) بنایا (سورہ البقرہ، آیت 30)، تو اسے عقلِ سلیم کی وہ تلوار بھی عطا کی جس سے وہ حالات کا رخ موڑ سکے۔ جو شخص اپنے گھر کے سکون کو اپنے ہاتھوں سے آگ لگا دے یا جو گروہ بغیر کسی ڈھال اور اسٹریٹجی کے خود کو بربادی کی کھائی میں دھکیل دے، وہ اللہ کی طرف سے آزمایا نہیں جا رہا، بلکہ وہ اللہ کے دیے ہوئے "عقل کے نظام" کی توہین کر رہا ہے۔
اسلام کا پورا مزاج ہی "بصیرت" اور "منصوبہ بندی" سے عبارت ہے۔ اللہ کے محبوب ﷺ، جن کی ایک ٹھوکر سے پہاڑ سونا بن سکتے تھے، وہ جب مکہ سے مدینہ کا رخ کرتے ہیں تو غیبی معجزوں پر تکیہ کرنے کے بجائے ایک ایک موڑ کی منصوبہ بندی کرتے ہیں؛ دشمن کو الجھانے کے لیے بستر بدلتے ہیں، سراغ رسانی کا نیٹ ورک بناتے ہیں اور ماہرِ فن کی خدمات حاصل کرتے ہیں (سورہ التوبہ، آیت 40)۔ یہ سب ہمیں یہ سمجھانے کے لیے تھا کہ "مومن" وہ نہیں جو حالات کی لہروں پر بہنے والا تنکا ہو، بلکہ وہ ہے جو لہروں کی طاقت کو ناپ کر اپنا راستہ خود بنائے۔ اگر آپ زندگی کے کسی بھی محاذ پر—چاہے وہ سماجی ہو یا عسکری—بغیر کسی 'اسٹریٹجک ڈیپتھ' کے اترتے ہیں، تو آپ سنتِ رسول ﷺ کے سب سے بڑے سبق یعنی "تدبیر" سے انحراف کر رہے ہیں۔
قرآن کا قانون دو ٹوک ہے: "انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی" (سورہ النجم، آیت 39)۔ یہ کوشش محض جسمانی مشقت کا نام نہیں، بلکہ یہ اس ذہنی بیداری کا نام ہے جو انسان کو ایک سوراخ سے دوبارہ ڈسنے نہیں دیتی۔ جو قومیں اور جو افراد اپنی غلطیوں کو "اللہ کا لکھا" کہہ کر محاسبے سے فرار اختیار کرتے ہیں، اللہ ان کی حالت کبھی نہیں بدلتا (سورہ الرعد، آیت 11)۔ نصرتِ الٰہی کبھی "بے ہوش" جذباتیت کا ساتھ نہیں دیتی، وہ ہمیشہ ان کے لیے ہوتی ہے جو پہلے اپنی عقل کو وحی کے تابع کر کے میدانِ عمل میں پوری تیاری کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اپنی ناکامیوں کا بوجھ اللہ کی مشیت پر ڈالنا بند کریں اور اس "سیاسی اور سماجی شعور" کو اپنائیں جو اسلام کا اصل ورثہ ہے۔
اب انتخاب آپ کا ہے!
آج خود سے ایک سوال کیجیے: کیا آپ اللہ کے وہ سپاہی بننا چاہتے ہیں جو کائنات کے قوانین کو مسخر کر کے حق کی حاکمیت قائم کرتے ہیں، یا وہ ماتم کدہ جو اپنی ہی پیدا کردہ بربادیوں پر "صبر" کا لیبل لگا کر خود کو تسلی دیتا رہے؟ اسلام آپ کو بے بسی کے غار سے نکال کر "خدا پرستی" اور "حکمتِ عملی" کے سنگم پر کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ اگر آپ کا ایمان آپ کو بیدار مغز اور بہترین منصوبہ ساز نہیں بنا رہا، تو آپ کو اپنے ایمان کے تصور کی اصلاح کرنی ہوگی۔ اٹھئیے! اس سے پہلے کہ وقت کی لہریں آپ کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیں، اپنی عقل کو وحی کی روشنی میں بیدار کیجیے اور حالات کو شکست دینے کے لیے "محمدی اسٹریٹجی" کا علم بلند کیجیے۔ منزل ان کا انتظار کر رہی ہے جو ہوش مندی کو اپنا شعار بناتے ہیں۔
19/04/2026
تمہاری زندگی کا کوئی دوسرا ذمہ دار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس بات کا پابند ہے کہ وہ تمہاری دیکھ بھال کرے تمہیں بچائے یا وہ تبدیلی لائے جس کا تم انتظار کر رہے ہو جب تک تم خود اپنے معاملات کی باگ ڈور نہیں سنبھالتے کوئی تمہاری مدد کے لیے دوڑا نہیں آئے گا دوسروں کے سہارے کی امید چھوڑ دو تم اب بڑے ہو چکے ہو اور اب تمہارا مظلومیت کے لبادے میں جینا قابل قبول نہیں رہا یہ سچ ہے کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا یا جس ماحول میں تم پروان چڑھے اس کے ذمہ دار تم نہیں ہولیکن حرکت نہ کرنے کے فیصلے کے تم مکمل طور پر ذمہ دار ہو
تمہاری زندگی کی ذمہ داری صرف تم پر ہے کوئی اور آ کر تمہیں نہیں سنبھالے گا جب تک تم خود کھڑے ہونے کا فیصلہ نہ کرو
ماضی تمہاری غلطی نہیں ہو سکتا مگر آگے نہ بڑھنا یقیناً تمہارا اپنا انتخاب ہوتا ہے۔..
19/04/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Muzaffarpur
SAIFI78692