Aashiq E Rasool
04/01/2023
*محب ِمولاعلی کی پہچان :-
حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَاحِد سے مروی ہے کہ ’امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے محبت کرنے والے برُدبار، علم والے ،خشک ہونٹوں والے، ایسے نیکوکار ہوتے ہیں جو عبادت کی وجہ سے گوشہ نشین معلوم ہوتے ہیں
حضرتِ سیِّدُناعلی بن حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ’’ ہم سے محبت کرنے والے خشک ہونٹوں والے ہوتے ہیں اور ہم میں سے امام وہ ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طاعت وعبادت کی طرف بلانے والا ہو ۔ ‘‘
*محبانِ اہل بیت کی علامات :-
حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اَصْفَہان یقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِی فرماتے ہیں : اہل ِبیت ِاطہار کے محبین خشک ہونٹوں والے ہوتے ہیں وہ اپنی پیشانیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں جھکائے رکھتے اور موت کو یاد رکھتے ہیں دنیا دار ظالموں اور مالداروں سے کنارہ کشی اختیارکرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے دنیوی راحتوں اور آسائشوں لذتوں اور شہوتوں انواع واقسام کے کھانوں اور لذیذ شربتوں کو ترک کر دیا اور رسولوں ولیوں اور صدیقوں کی راہ پر گامزن ہوئے ، فناوزوال پذیر ہونے والی دنیا کے تارِک، ہمیشہ باقی رہنے والی آخرت میں راغب رہے بالآخر انعام واکرام، فضل و احسان فرمانے والے ربِّ حنّان ومنّان، رحیم ورحمن عَزَّوَجَلَّ کے حضور جا پہنچے ۔
*[2] فضائل الصحابۃ للامام احمد بن حنبل ، باب ومن فضائل امیرالمؤمنین علی ، الحدیث : ۱۱۴۴ ، ج۲ ، ص۶۷۱۔*
03/01/2023
*آج کی نصیحت تقوی اختیار کرنا عام غلطیاں فضولیات میں وقت بربار کرنا۔۔*
" بندہ کا غیر مفید کاموں میں مشغول ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے اپنی نظرِ عنایت پھیر لی ہے۔ اور جس مقصد کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا ہے ،اگر اس کی زندگی کا ایک لمحہ بھی اس کے علاوہ گزر گیا تو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس پر عرصہ حسرت دراز کر دیا جائے۔ اور جس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو جائے اور اِس کے باوجود اُس کی برائیوں پر اُس کی اچھائیاں غالب نہ ہوں، تو اُسے جہنّم کی آگ میں جانے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
*(الفردوس بمأثور الخطاب : باب المیم ج ۳ ص ۴۹۸ رقم الحدیث ۵۵۴۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت)*
*سمجھدار اور عقلمند کے لیے اتنی ہی نصیحت کافی ہے۔*
01/01/2023
*آج کی نصیحت دل میں شہوت کا بیج بونے والی:-*
حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام سے مروی ہے کہ:
’’اپنی نظر کی حفاظت کرو کیونکہ یہ دل میں شہوت کا بیج بوتی ہے اور نظر ڈالنے والے کے لئے اس کافتنہ کافی ہے۔‘‘
لہٰذا اگرتم نظر نیچی رکھو گے تو سینہ صاف اور دل کثیر وسوسوں سے خالی ہو کر پُرسکون ہو جائے گا، نفس کثیر آفات سے محفوظ ہوگا اور تم نیکیوں میں اضافہ کروگے۔
نیز آیت مبارَکہ کےاس حصے:
اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ ﴿۳۰﴾
یعنی بےشک اللہ کو ان کےکاموں کی خبرہے۔“
میں بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہونے والوں کو ڈرایا گیا ہے۔
*(مختصر منہاج العابدین از حجتہ الاسلام امام محمد بن غزالی رحمۃ اللہ علیہ صفحہ -٦٦_٦٧)*
31/12/2022
*آج کی نصیحت آنکھ کی حفاظت:*
سب سے پہلے تجھ پر آنکھ کی حفاظت ضروری ہے کہ یہ ہر آفت اور فتنے کا سبب ہے۔
*ارشادِ باری تعالیٰ ہے:*
قُلۡ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا اَبْصَارِہِمْ وَ یَحْفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمْ ؕ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ﴿۳۰
*(پ۱۸،النور:۳۰)*
ترجمہ کنزالایمان:
"مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ اُن کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو اُن کے کاموں کی خبر ہے۔"
یہاں نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور بندے پر لازم ہے کہ اپنے مالک کے حکم پر عمل کرے ورنہ وہ بے ادب قرار پائے گا اور اُسے روک کر مالک کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آیت طیبہ میں یہ جو فرمایا گیا:
’’ ذٰلِکَ اَزْکٰی ‘‘یہ ان کے لئے ستھرا ہے یعنی ان کے دلوں کو ستھرا کرنے اور ان کی بھلائی کو بڑھانے والا ہے۔
اس فرمان سےآگاہ فرمایا گیا کہ نگاہوں کو نیچا رکھنے میں دل کی پاکیزگی اور عبادت وبھلائی کی کثرت ہے۔ کیونکہ اگر تم اپنی نگاہ کو نہیں روکو گے اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دو گے تو وہ لایعنی چیزوں کو دیکھے گی اور اگر اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت شامِلِ حال نہ ہوئی تو تم ہلاک ہو جاؤ گے۔اس لئے کہ یا تو تم حرام کو دیکھو گے تو گناہ میں پڑ جاؤ گے یا پھر مباح کی طرف نظر کرو گے تو تمہارا دل اس میں مشغول ہو جائے گا اور تمہیں اس کے سبب وسوسے اور خیالات آئیں گے،بالآخر تمہارا دل بھلائی سے غافل ہو کر انہی میں لگا رہے گا۔
*( مختصر منہاج العابدین از حجتہ الاسلام امام محمد بن غزالی رحمۃ اللہ علیہ صفحہ آن لائن-64_65)*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Jogeshwari West
Mumbai
400102