SaGar Times
06/07/2026
"صبر
کے متعلق
حضرت عمر فاروق
رضی اللہ عنہ کی تدبیر"
(بحوالہ: کتاب: جواہر حکمت)
(ملفوظات وافادات قاری طیب رحمہ اللّٰہ)
( )
04/07/2026
سن
گلاسز کے ساتھ
نماز پڑھنا/ پڑھانا کیسا ہے
بنوریہ( )
04/07/2026
"جنات
کے مشہور
قبائل کونسے ہیں؟"
یہ وہ راز ہے جو ہر کسی
کو نہیں بتلایا جاتا… اگر اپ
نے جنات کے ان قبائل کے بارے میں جان لیا تو آپ کی سوچ ہمیشہ کے لئے بدل جائے گی… کیونکہ یہ صرف کہانیاں نہیں بلکہ وہ حقائق ہیں جو صدیوں سے عملیات کی کتابوں میں چھپائے گئے ہیں…
انسان ہمیشہ سے جنات کے بارے میں تجسس رکھتا آیا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جنات بھی انسانوں کی طرح قبائل، خاندانوں اور طاقتور نظام میں رہتے ہیں۔ عملیات کی قدیم کتابوں جیسے شمس المعارف، خزائن الاسرار اور دیگر روحانی مخطوطات میں ان قبائل کا ذکر ملتا ہے، جن میں ہر قبیلہ اپنی الگ طاقت، عادت اور دنیا رکھتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جنات کی سب سے مشہور اور طاقتور قوم "مارد" ہے۔ یہ جن انتہائی طاقتور، ضدی اور سرکش ہوتے ہیں۔ عملیات کرنے والے عاملین کے مطابق مارد جنات کو قابو کرنا آسان نہیں ہوتا، لیکن اگر کوئی شخص ان پر قابو پا لے تو وہ بہت بڑی طاقت حاصل کر سکتا ہے۔ یہ جن اکثر سمندروں، ویران جزیروں اور سنسان جگہوں پر رہتے ہیں۔ ان کا قد بہت لمبا اور جسم بہت مضبوط ہوتا ہے، اور یہ عام جنات سے کئی گنا زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔
پھر ایک قبیلہ "عفریت" کا ہے، جس کا ذکر کئی اسلامی روایات میں بھی آیا ہے۔ عفریت جنات نہایت ذہین اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ عملیات کی کتابوں میں لکھا ہے کہ عفریت انسانوں کے قریب آکر ان کے ذہن پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، خاص طور پر اگر کوئی شخص روحانی طور پر کمزور ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر عملیات میں عفریت سے بچاؤ کے لیے خاص حصار اور اذکار کئے جاتے ہیں۔
ایک اور مشہور قبیلہ "شیاطین" کا ہے، جو دراصل نافرمان جنات ہوتے ہیں۔ یہ وہ جن ہیں جو انسانوں کو گمراہ کرنے، وسوسے ڈالنے اور برائی کی طرف لے جانے کا کام کرتے ہیں۔ عملیات کے ماہرین کے مطابق شیاطین اکثر ان لوگوں کے قریب آتے ہیں جو گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں یا اللہ سے دور ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روحانی حفاظت کے لئے ذکر اور عبادت کو سب سے مؤثر ہتھیار مانا جاتا ہے۔
پھر "قرین" کا تصور بھی بہت اہم ہے۔ ہر انسان کے ساتھ ایک جن ہوتا ہے جسے قرین کہا جاتا ہے۔ عملیات کی کتابوں میں لکھا ہے کہ یہ قرین انسان کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی رہتا ہے۔ بعض عاملین کا دعویٰ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے قرین کو قابو کرلے تو وہ پوشیدہ معلومات تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، لیکن یہ راستہ نہایت خطرناک اور گمراہ کن بھی ہوسکتا ہے۔
ایک اور پراسرار قبیلہ "بناتِ ابلیس" کا بتایا جاتا ہے، جو اکثر عورتوں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ جنات انسانوں کو فریب دینے، محبت کے جال میں پھنسانے اور کمزور دل لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ عملیات کی کتابوں میں ان سے بچنے کے لئے خاص دعائیں اور نقش درج ہیں۔
اسی طرح "ہوائی جنات" کا بھی ذکر ملتا ہے، جو فضا میں سفر کرتے ہیں اور بہت تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکتے ہیں۔ یہ جن اکثر اچانک ظاہر ہوکر غائب ہوجاتے ہیں، اور بعض اوقات انسانوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے عجیب و غریب آوازیں نکالتے ہیں۔
"آبی جنات" بھی ایک الگ قبیلہ ہیں، جو پانی میں رہتے ہیں۔ دریا، سمندر اور کنویں ان کی پسندیدہ جگہیں ہیں۔ عملیات کرنے والے کہتے ہیں کہ رات کے وقت اکیلے پانی کے قریب جانا خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ جن انسانوں کو اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں۔
پھر "قبائلِ مسلم جنات'' کا بھی ذکر آتا ہے، جو نیک اور پرہیزگار ہوتے ہیں۔ یہ جن انسانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ بعض اوقات مدد بھی کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جنات مساجد، مقدس مقامات اور ذکر کی جگہوں پر رہتے ہیں۔ بعض روحانی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے ان جنات سے ملاقات بھی کی ہے۔
ایک اور خطرناک قبیلہ "خبیث جنات" کا ہے، جو گندگی، ویرانی اور تاریکی میں رہتے ہیں۔ یہ جنات خاص طور پر ان جگہوں پر پائے جاتے ہیں جہاں صفائی نہ ہو یا جہاں برے کام ہوتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں صفائی اور پاکیزگی پر بہت زور دیا گیا ہے۔
عملیات کی دنیا میں یہ بھی مانا جاتا ہے کہ ہر قبیلے کا ایک سردار ہوتا ہے، جو اپنے قبیلے کو کنٹرول کرتا ہے۔ اگر کوئی عامل اس سردار کو قابو کرلے تو پورا قبیلہ اس کے تابع ہوسکتا ہے، لیکن یہ کام انتہائی خطرناک اور جان لیوا بھی ہوسکتا ہے۔
یہ تمام معلومات ہمیں ایک ایسی دنیا کی جھلک دکھاتی ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے، لیکن ہمارے آس پاس ہی موجود ہے۔ جنات کے یہ قبائل اپنی زندگی، نظام اور طاقت رکھتے ہیں، اور بعض اوقات انسانوں کی دنیا میں مداخلت بھی کرتے ہیں۔
لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے… عملیات کی کتابیں صرف علم دیتی ہیں، لیکن اس علم کا استعمال ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ غلط طریقے سے کیا گیا عمل انسان کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے، اس لئے ہمیشہ احتیاط اور دینی رہنمائی ضروری ہے۔
اگر اپ نے یہ سب پڑھ لیا ہے تو اب تم عام لوگوں جیسے نہیں رہے… کیونکہ اپ جان چکے ہو کہ اس دنیا کے پیچھے ایک اور دنیا بھی ہے… ایک ایسی دنیا جو خاموش ہے… مگر خالی نہیں… (منقول: )
#جنات #روحانیت #عملیات #پراسرار
03/07/2026
دونوں
ہاتھوں سے
معذور فیضان اللہ
نے منہ سے لکھ کر دسویں
کے امتحان میں حاصل کئے 93 فیصد
نمبر۔ یعنی انسان اگر سچے دل سے کچھ پانے کی تمنا کرے اور اس کے ارادے چٹان کی طرح مضبوط ہوں تو جسمانی معذوری اس کے راستے کی دیوار نہیں بن سکتی۔ اس بات کو سچ ثابت کر دکھایا ہے فیضان اللہ نے، جنہوں نے سیریبرل پالسی جیسی سنگین بیماری سے متاثر ہونے کے باوجود دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات میں 93 فیصد نمبر حاصل کرکے سب کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ فیضان کے دونوں ہاتھ کام نہیں کرتے، لیکن انہوں نے اپنی اس کمزوری کو مجبوری نہیں بننے دیا بلکہ اپنی زبان اور منہ کو قلم کا سہارا بنا کر کامیابی کی ایک نئی داستان رقم کردی۔
فیضان اللہ پیدائشی طور پر سیریبرل پالسی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ان کے جسمانی اعضاء کی حرکت محدود ہے اور وہ اپنے ہاتھوں کا استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم، تعلیم حاصل کرنے کا شوق ان کے اندر اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا تھا کہ انہوں نے منہ میں قلم دبا کر لکھنے کی مشق شروع کی۔ ابتدائی طور پر یہ عمل انتہائی تکلیف دہ اور مشکل تھا، لیکن فیضان کی مسلسل محنت اور کچھ کر گزرنے کے جذبے نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ امتحانی ہال میں جب فیضان نے اپنے مخصوص انداز میں پرچہ لکھنا شروع کیا تو وہاں موجود اساتذہ اور عملہ بھی ان کی لگن دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔
اس عظیم کامیابی کے پیچھے جہاں فیضان کی اپنی انتھک جدوجہد شامل ہے، وہی ان کے والدین کی قربانیاں اور اساتذہ کی صحیح رہنمائی کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ فیضان کے والدین نے کبھی انہیں بوجھ نہیں سمجھا بلکہ ہر قدم پر ان کا حوصلہ بڑھایا۔ ان کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ فیضان کلاس کے ذہین ترین طالب علموں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے سوالات ہمیشہ گہری سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ اساتذہ کے مطابق فیضان کی یہ کامیابی محض ایک طالب علم کی جیت نہیں ہے بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک جواب ہے جو معمولی مشکلات پر ہمت ہار دیتے ہیں۔
فیضان اللہ کی اس غیر معمولی کامیابی کی خبر سوشل میڈیا اور تعلیمی حلقوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ وہ اب ان ہزاروں نوجوانوں کے لیے حوصلے کی ایک روشن مثال بن چکے ہیں جو کسی نہ کسی جسمانی یا معاشی مجبوری کا شکار ہیں۔ فیضان کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے معاشرے کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ معذوری صرف جسم میں ہوتی ہے، ذہن اور خوابوں میں نہیں۔
حکومتی اور سماجی سطح پر بھی فیضان اللہ کی اس کامیابی کو سراہا جا رہا ہے۔ ماہرینِ تعلیم کا ماننا ہے کہ فیضان جیسے باصلاحیت بچوں کو اگر مناسب سہولیات اور سرپرستی میسر آئے تو وہ ملک و قوم کا نام روشن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ فیضان اللہ نے یہ پیغام دیا ہے کہ اگر عزم بلند ہو تو منزل خود بخود قریب آ جاتی ہے اور کامیابی صرف ان کے قدم چومتی ہے جو حالات سے لڑنا جانتے ہیں۔ (منقول) ( )
01/07/2026
(ملفوظ:
لوگوں نے نفسانی لذات
کے حصول کو ضرورت کا نام دے دیا ہے)
(ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ)
"لوگوں نے نفسانی لذات کے حصول کو ضرورت کا نام دے دیا ہے"
ارشاد فرمایا کہ بعض لوگ عذر کرتے ہیں کہ ہم ناجائز معاملات رشوت ستانی وغیره ضرورت کی وجہ سے کرتے ہیں مگر حقیقت میں وہ لوگ جس کو ضرورت کہتے ہیں وہ ضرورت بھی نہیں بلکہ محض حظوظِ نفسانیہ ہیں جن کا نام ضرورت رکھ دیا ہے، مثلاً کسی کی نوکری کے پیسے میں اتنی گنجائش ہے کہ معمولی درمیانی قیمت کے کپڑے پہن سکتا ہے مگر بیش قیمت زرق برق کپڑے بنانے کی گنجائش نہیں۔ اس صورت میں عقلمند آدمی کبھی ایسے گراں قدر کپڑوں کی ضرورت تسلیم نہیں کرسکتا کہ جس ضرورت کے واسطے رشوت لینا پڑے اور اگر اس پر بھی کچھ تنگی ہو تو آخر صبر کی تعلیم اسی حالت کے لئے ہے اور جو مرتبہ صبر سے گزر جائے تو ایسے لوگوں کی امداد کے واسطے شریعت نے خاص قواعد مقرر کئے ہیں ان سے منتفع (فائدہ مند) ہونا چاہئے۔ (سیرت الصوفی، دعوات عبدیت جلد اول، صفحہ ۵۷، خطباتِ حکیم الامت، جلد۱۱، صفحہ ۵۰۰) ( )
29/06/2026
خبر
ہے کہ مولانا
سلمان ندوی کا فجر
کے وقت انتقال ہوگیا ہے۔
جمہور اہل علم کے نزدیک جو
شخص صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم
پر طعن و تشنیع کرے، انہیں فاسق قرار دے،
وہ سخت گمراہی بلکہ بعض صورتوں میں کفر کا
مرتکب ہوتا ہے، اس لئے اگر وہ اپنی اس روش پر قائم
رہتے ہوئے مرجائے تو اس کے لئے دعائے مغفرت یا ترحم کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن درحقیقت دین اسلام کے بنیادی مصادر پر حملہ ہے، اس لئے کہ یہی حضرات شریعت کے امین اور وحی کے ناقل ہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنے اس عقیدے سے سچی توبہ کرلے، اپنے سابقہ موقف سے برأت کا اعلان کرے اور رجوع کرلے، تو البتہ اس کے لئے دعائے مغفرت اور ترحم کرنا جائز ہے، کیونکہ توبہ گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب (منقول) ( )
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Delhi