SaGar Times

SaGar Times

Share

31/05/2026

"کھیرا
سب کے لئے
فائدہ مند نہیں،
کن لوگوں کو احتیاط کرنی چاہئے؟"
کھیرا عام طور پر ایک صحت بخش اور ہلکی غذا کے طور پر جانا جاتا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو وزن کم کرنا چاہتے ہیں اسے اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بناتے ہیں۔
اس میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے سلاد، رائتہ، جوس اور اسموتھیز میں شوق سے استعمال کیا جاتا ہے۔
ماہرین غذائیت کے مطابق کھیرے میں 95 فیصد سے زائد پانی کے ساتھ وٹامن کے، وٹامن سی، پوٹاشیم، میگنیشیم اور فائبر جیسے اہم اجزا موجود ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف ہاضمے کو بہتر بناتا ہے بلکہ جسم میں سوزش کم کرنے، بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے اور جلد کی صحت بہتر بنانے میں بھی مددگار سمجھا جاتا ہے۔
تاہم جہاں اس کے بے شمار فوائد ہیں، وہیں ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ کچھ مخصوص طبی مسائل میں مبتلا افراد کے لیے کھیرا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، اس لیے اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے۔

سانس اور بلغم کے مسائل میں احتیاط:
ماہر غذائیت کے مطابق کھیرے کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے، جو بعض افراد میں بلغم بڑھا سکتی ہے۔ نزلہ، کھانسی، دمہ، سائنوس یا دیگر سانس کے امراض میں مبتلا افراد کے لئے اس کا استعمال مسائل کو بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر سرد موسم میں۔

نظامِ ہاضمہ کمزور ہو تو مسئلہ بن سکتا ہے:
اگرچہ کھیرے میں موجود فائبر ہاضمے کے لئے مفید ہے، لیکن حساس معدہ رکھنے والے لوگوں کے لئے یہ مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ اس میں موجود کیوکربیٹاسن نامی مرکب بعض لوگوں میں گیس، اپھارہ اور بدہضمی کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً وہ افراد جو آئی بی ایس یا دیگر معدے کے مسائل کا شکار ہوں۔

جوڑوں کے درد میں اضافہ ممکن:
ماہرین کے مطابق گٹھیا یا جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو بھی احتیاط کرنی چاہیے۔ کھیرے کی سرد تاثیر بعض کیسز میں سوزش اور درد کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ٹھنڈے موسم میں۔

پیشاب کی نالی کے مسائل والے افراد کے لئے خطرہ:
کھیرے میں قدرتی طور پر پیشاب آور خصوصیات پائی جاتی ہیں، اس لیے پیشاب کی نالی کے انفیکشن یا دیگر مسائل میں مبتلا افراد کے لئے اس کا زیادہ استعمال نقصاندہ ہوسکتا ہے۔ ایسے افراد کو محدود مقدار میں استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لئے احتیاط ضروری:
اگرچہ کھیرا عام طور پر ذیابیطس کے مریضوں کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے بیج بعض صورتوں میں شوگر لیول کو حد سے زیادہ کم کرسکتے ہیں، خاص طور پر اگر مریض انسولین یا دیگر ادویات استعمال کررہا ہو۔ اس سے کمزوری، چکر اور تھکن جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

رات کے وقت استعمال کیوں نقصاندہ؟
ماہرین غذائیت رات کے وقت کھیرے کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس کی زیادہ پانی والی ساخت رات میں بار بار واش روم جانے کی وجہ بن سکتی ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ٹھنڈی تاثیر بھی رات کے وقت جسم کے لیے موزوں نہیں سمجھی جاتی۔
ماہرین کے مطابق کھیرا بلاشبہ ایک مفید غذا ہے، لیکن ہر شخص کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں۔ اس لیے اپنی صحت اور جسمانی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا استعمال کرنا ہی بہتر حکمت عملی ہے۔ (منقول) ( )

29/05/2026

"حج
کی سعادت
حاصل کرنے کے بعد
حجاج کی مکہ مکرمہ سے واپسی"
ہزاروں مسلمانوں نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد جمعہ کو مکہ مکرمہ سے واپسی کا سفر شروع کردیا ہے۔
امسال دنیا کے عظیم ترین مذہبی اجتماع میں 165 ممالک کے 17 لاکھ سے زیادہ حجاج نے شرکت کی۔
"میں یقین نہیں کرسکتا کہ میں نے حج مکمل کرلیا ہے،" پہلی بار حج کی سعادت حاصل کرنے والے 37 سالہ مصری حاجی احمد ممدوح نے کہا۔
اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: "میں بہت خوش ہوں کہ میں نے مناسکِ حج بحفاظت مکمل کیے۔ حج واقعی تھکا دینے والا ہوتا ہے بالخصوص ایسے گرم موسم میں۔"
الجزائر کے 74 سالہ حاجی الزاوی نے اپنی اہلیہ کے گرد بازو لپیٹ کر کہا: "ہمارا خواب ایک ساتھ حج کرنا تھا، شادی کے 50 سال بعد اب یہ خواب پورا ہوگیا ہے۔"
جمعہ کے روز حج کے تیسرے دن حجاج مکہ کے جنوب مشرق میں وادی منی میں رمی جمرات مکمل کریں گے جس میں وہ شیطان کے علامتی ستونوں پر کنکریاں ماریں گے۔
اس کے بعد وہ بسوں میں سوار ہو کر الوداعی "طواف" کرنے کے لئے مکہ کی مسجدالحرام جائیں گے۔ اس میں اسلام کے مرکزی مقام خانہ کعبہ کے گرد سات بار چکر لگایا جاتا ہے۔
سعودی حکام نے حالیہ برسوں میں گرمی سے حفاظت کے اقدامات متعارف کروائے ہیں جن میں زیادہ سایہ دار علاقے اور صحت کے ہزاروں اضافی کارکنان کی تعیناتی شامل ہے۔
سعودی ہلالِ احمر نے جمعرات کو کہا کہ اس نے حج سیزن شروع ہونے کے بعد سے 83,000 سے زائد افراد کو ہنگامی طبی خدمات فراہم کیں۔ (منقول) ( )

27/05/2026

"عازمین
حج نے جمرہ
عقبہ کو ماری کنکریاں"
"عیدالاضحیٰ کے پہلے دن سے
3 دن تک چلتا ہے رمی جمرات کا یہ عمل"
رمی جمرات 3 دنوں تک جاری رہتا ہے، جس میں حجاج تینوں جمرات (چھوٹے، درمیانے، بڑے) پر 7-7 کنکریاں مارتے ہیں۔ پہلے دن صرف جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماری جاتی ہیں، باقی 2 جمرات پر رمی اگلے دنوں میں کی جائے گی۔موصولہ تفصیلات کے مطابق مختلف ممالک سے مکہ مکرمہ پہنچنے والے 17 لاکھ سے زائد عازمین حج آج منیٰ میں اہم رکن ’رجمی جمرات‘ انجام دیتے نظر آئے۔ مختلف ذرائع اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے سامنے آ رہی خبروں کے مطابق حجاج کرام نے سب سے پہلے جمرہ عقبہ (بڑے شیطان) پر کنکریاں مارنے کا عمل شروع کیا، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی یادگار ہے۔ رمی جمرات کا یہ عمل 3 دنوں تک جاری رہتا ہے، جس میں حجاج تینوں جمرات (چھوٹے، درمیانے اور بڑے) پر 7-7 کنکریاں مارتے ہیں۔ آج کے دن صرف جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماری جاتی ہیں، جبکہ باقی 2 جمرات پر رمی اگلے دنوں میں کی جائے گی۔قابل ذکر ہے کہ بہتر ماحول میں مناسک حج کی ادائیگی اور حجاج کی حفاظت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سعودی حکام نے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ رمی کے مقام پر جدید جمرات کمپلیکس قائم کیا گیا ہے، جس میں متعدد سطحوں پر پل اور ریمپ شامل ہیں تاکہ ہجوم کو مؤثر طریقے سے منظم کیا جا سکے۔ شدید گرمی سے بچاؤ کیلئے سایہ دار مقامات، کولنگ یونٹس اور طبی عملہ تعینات کیا گیا ہے۔بہرحال، حج کے دوران رمی جمرات کا مرحلہ عید الاضحیٰ کے دن یعنی یوم النحر کیساتھ شروع ہوتا ہے، جو مسلمانوں کیلئے قربانی اور ایثار کا تہوار ہے۔ رمی جمرات کے بعد حجاج قربانی کرتے ہیں، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی یادگار ہے۔ اس کے بعد وہ احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جاتے ہیں اور طوافِ وداع کیلئے مکہ مکرمہ روانہ ہوتے ہیں۔ (منقول) ( )

Want your business to be the top-listed Media Company in Delhi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Delhi