Shahid Azmi.
جسے بھی دیکھو لگا ڈسنے کے تیاری میں
مگن ہوں میں سانپ رکھنے کو پٹاری میں
اِدھر اُدھر کے طعنوں جی جلتا ہے تو کبھی
دل کرتا ہے آگ لگادوں ساری رشتے داری میں
اُسے چاہا بھی تو اظہار نہ کرنا آیا
کٹ گئی عمر ہمیں پیار نہ کرنا آیا
اُس نےمانگا بھی توجدائی مانگی
اور ہم تھےکہ اِنکار نہ کرنا آیا.
تُو کہیں بھی رہے سر پر تیرے اِلزام تو ہے
تیرے ہاتھوں کی لکِیروں میں میرا نام تو ہے
مُجھ کو تُو اپنا بنا یا نہ بنا تیری خوشی
تُو زمانے میں میرے نام سے بدنام تو ہے
میرے حصے میں کوئی جام نہ آئے نہ سہی
تیری محفل میں میرے نام کوئی شام تو ہے
دیکھ کر لوگ مجھے نام تیرا لیتے ہیں
اس پہ میں خُوش ہوں محبت کا یہ انجام تو ہے
وہ سِتمگر ہی سہی دیکھ کے اس کو صابرؔ
شُکر ، اِس دلِ بیمار کو آرام تو ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Pura Gulami
Azamgarh
276001