Payam-e-mewat
13/05/2023
ِنی_بلوچستان_ومقبروں_کا_شہرِ_تاؤڑو
تاؤڑو میوات کا اہم سرحدی شہر ہے، یہ نوح سے شمال مغربی جہت میں نوح بلاسپور روڑ پر تقریباً 15 کلومیٹر اور سوہنہ شہر سے غربی سمت میں سوہنہ دھاروہیڑہ شاہراہ پر تقریباً 10 کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک خوبصورت تاریخی شہر ہے، میوات کے پہاڑ اوپر علاقے میں میؤوں کے آباد کردہ اس شہر کو "مقبروں کا شہر" بھی کہا جاتا ہے، اولاً سلطنت دہلی کے ما تحت خانزادہ حکمرانوں کی توجہ کا مرکز بننے کے سبب یہ شہر نہایت ہی اہم اور ایک خوشحال شہر بنا، پھر مغلیہ دورِ حکومت میں تو اس کی اہمیت، افادیت اور خوبصورتی کو چار چاند ہی لگ گئے، سفرِ اجمیر کے دوران شہنشاہِ ہند جلال الدین محمد اکبر کی گزرگاہ بننے کا شرف بھی اس شہر کو حاصل ہے، حکمرانوں کی توجہ کا مرکز و گزرگاہ ہونا، ہادیِ ہریانہ و میوات حضرت شاہ محمد رمضان شہید اور دار العلوم دیوبند کے فکری مؤسس حضرت میاں راجشاہ جیسے صوفیائے کرام کی قدم بوسی اور رنبیروں کی رن بھومی و آماجگاہ بننا یہ سب ایسے اوصاف ہیں جو تاریخی صفحات میں اس شہر کے تاریخی حسن کو ہمیشہ دوبالا کرتے رہیں گے،
1763 عیسوی میں یہاں بلوچ سردار اسد اللہ خاں اور مہاراجہ جواہر سنگھ بھرتپور کے درمیان ایک خونریز جنگ ہوئی، اچانک حملے و افرادی قوت کی قلت کے باوجود بلوچ بھرتپور کی فوج کو شکست سے دوچار کرنے ہی والے تھے کہ اچانک سورج مل جاٹ ایک بھاری توپ خانے کے ساتھ آ دھمکا، لہذا جنگ کا پانسا پلٹ گیا اور بلوچوں کو ہزیمت کا منھ دیکھنا پڑا،
(میوات ایک کھوج ،صفحہ 293، و تاریخ میو چھتری)
اب یہ شہر ضلع نوح میوات کی ایک تحصیل ہے، تاؤڑو کمپلیکس 7 مقبروں کا ساڑھے تین ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ایک وسیع احاطہ ہے، مقبروں میں سے دو کی حالت بہت بہتر ہے، کیونکہ ایک مقبرے کی انٹیک تنظیم جبکہ دوسرے مقبرے کی مرمت انسل یونیورسٹی نے کرائی ہے، خستہ حالی میں بقیہ مقبروں کی حالت بھی میوات کے دوسرے مقبروں سے مختلف نہیں، یہ شہر ہریانہ و دہلی این سی آر میں اس اعتبار سے بھی انوکھا ہے کہ یہاں ایک ہی احاطے میں مختلف ادوار (یعنی تغلق، لودھی اور مغلیہ) کے فنونِ طرز تعمیر ایک دل انگیز جلوہ نمائی کرتے نظر آتے ہیں، 1828 CE ایسٹ انڈیا کمپنی کا امپیریل گزیٹر آف انڈیا (Imperial Gazetteer of India of East India Company)
تاؤڑو اور اس سے متصل فروخ نگر کی جانب کے علاقہ جات کو "چھوٹے بلوچستان" (Lesser Balochistan) کے نام سے موسوم کرتا ہے، لودھی دور حکومت میں بلوچستان سے آنے والے بلوچوں نے اس علاقے پر طویل عرصے تک حکمرانی کی ہے، ان مقبروں میں سب سے بڑا مقبرہ ایک بلوچ سردار کا ہی ہے جو مرمت شدہ ہے، جبکہ بقیہ مقبرے دیگر بلوچ و خانزادے سرداروں کے ہیں، اس شہر میں ایک قدیم قلعہ بھی ہے جس کی تاریخ و تفصیل کسی دوسری پوسٹ میں پیش کی جائے گی، 1857 ء کی جنگ آزادی میں تاؤڑو و قرب و جوار کے میواتی یہاں ایک ساتھ تین طاقتوں یعنی بھرتپور، ایسٹ انڈیا کمپنی و راؤ تلارام کی فوجوں سے بر سر پیکار رہے، اس سہ رخی مقابلے میں میواتیوں کا بھاری جانی و مالی نقصان ہوا،
(Foreign Secret Consultation Nos 21-27, 31 January 1858 AD)
بہر حال ان تاریخی یادگاروں کی اہمیت کے پیش نظر ہمیں ان کے تحفظ و بقا کی طرف توجہ مبذول کرنی ہوگی، اللہ تعالیٰ محنت کو رائیگاں نہیں کرتے، بس ضروری ہے کہ ہم اقدام کریں، إن الله لا يضيع أجر من أحسن عملا،
I specifically request daring leaders of Mewat and Haryana to come forward to resque of Heritage of Mewat and Haryana.
ناصر حسین زکریا میو اُٹاوڑی
ایڈمن
ہیریٹیج آف میوات اینڈ
(فیسبک گروپ)
نوٹ :- معذرت خواہ ہوں، تفصیلی پوسٹ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد شییر کی جائے گی، انشاء اللہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the business
Telephone
Address
Alwar
Opening Hours
| Monday | 9am - 10pm |
| Tuesday | 9am - 10pm |
| Wednesday | 9am - 10pm |
| Saturday | 9am - 10pm |
| Sunday | 9am - 10pm |