Info Time

Info Time

Share

18/02/2026

🤖🇮🇳 کانفرنس میں ’چینی ساختہ‘ روبوٹ کتے پر تنازع

مصنوعی ذہانت کے اس اجلاس میں ایک روبوٹ کتا بھی رکھا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں انڈیا کی گلگوٹیا یونیورسٹی کی نمائندہ انٹرویو لینے والے کو اس کتے سے متعارف کرا رہی تھیں۔ انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا ’آپ کو اورائن سے ملنا چاہیے۔ یہ گلگوٹیا یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلینس نے بنایا ہے۔‘
اور اسی دعوے نے ایسے تنازع کو جنم دیا جس پر ہر کوئی بات کر رہا ہے۔
انڈیا کے وزیر برائے ریلوے، اطلاعات و نشریات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی وشنو نے ایکس پر ایک روبوٹ کتے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’انڈیا کے خود مختار اے آئی ماڈلز عالمی معیار پر اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ یہ ہمارے انجینیئرز اور جدت کاروں کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔

اسی پوسٹ کے نیچے صارفین کے رد عمل کی مدد سے ہی ایکس نے یہ سیاق و سباق مرتب کیا: ’یہ روبوٹ چین سے درآمد کیا گیا ہے، جس کی لاگت 2800 ڈالرز ہے۔‘
چائنہ پلس نامی ایک ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ’دہلی کی اے آئی سمٹ میں انڈیا کی ایک یونیورسٹی نے چینی روبوٹ کو اپنی تخلیق ظاہر کر کے پیش کیا ہے۔‘
اس کے بعد تنقید کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔

انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے ایکس پوسٹ میں لکھا ’مودی حکومت نے عالمی سطح پر انڈیا کو اے آئی کے معاملے میں مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ اے آئی سمٹ میں چینی روبوٹوں کو ہمارا اپنا بتا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ چینی میڈیا نے ہمارا مذاق اُڑایا ہے۔ یہ بھارت کے لیے واقعی شرم ناک ہے۔‘
واضح رہے کہ مذکورہ پوسٹ اب اشونی وشنو کے ایکس اکاؤنٹ پر موجود نہیں ہے۔
تنازع کے بعد گلگوٹیا یونیورسٹی نے بھی ایکس پر وضاحت جاری کی اور لکھا ’یہ روبوٹ کتا گلگوٹیا نے نہیں بنایا اور نہ ہی ہماری جانب سے ایسا دعویٰ کیا گیا۔‘
یونیورسٹی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اس کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جس سے فیکلٹی اور طلبہ ’گہری تکلیف محسوس کر رہے ہیں۔‘

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Manchester?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Manchester