Janisar

Janisar

Partager

15/07/2026

شہداء اور غازیوں کی تضحیک ناقابلِ قبول اور ناقابلِ برداشت

تحریر: ڈاکٹر احسان خان کاکڑ

شہداء اور غازی کسی بھی قوم کا وہ قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جن کی قربانیوں کی بدولت ملک کی آزادی، سلامتی اور خودمختاری قائم رہتی ہے۔ پاکستان بھی ان عظیم شہداء اور غازیوں کی لازوال قربانیوں کا مرہونِ منت ہے، جنہوں نے وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے رہے۔ یہی وہ قربانیاں ہیں جن کی بدولت آج پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر قائم ہے۔

مصنف کے مطابق حالیہ بعض سیاسی بیانات، خصوصاً مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے دیے گئے ریمارکس، شہداء اور غازیوں کے احترام کے منافی ہیں۔ ان کے نزدیک کسی بھی ایسے بیان سے گریز کیا جانا چاہیے جس سے وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سپاہیوں کی قربانیوں کی اہمیت کم ہوتی محسوس ہو۔

مصنف سوال اٹھاتے ہیں کہ آج تک کتنے سیاسی یا مذہبی رہنماؤں یا ان کے اہلِ خانہ نے بغیر کسی ذاتی مفاد کے سرحدوں پر ملک کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائی ہے؟ کتنے سیاست دانوں کے بیٹوں نے وطن کے دفاع اور سلامتی کے لیے اپنی جان قربان کی ہے؟ ان کے مطابق یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کہ قومی قربانیوں کا احترام ہر فرد پر لازم ہے۔

کالم میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ٹیکس اور قومی وسائل پر گفتگو کی جاتی ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ تمام عوامی نمائندے اپنی آمدن، اثاثوں اور مالی معاملات میں مکمل شفافیت اختیار کریں۔ مصنف کے مطابق عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ منتخب نمائندے اپنی آمدنی، اخراجات اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کہاں سے حاصل کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ احتساب کا اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

مصنف کا مؤقف ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن افواجِ پاکستان، انٹیلی جنس اداروں، شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو تنقید یا سیاسی بحث کا موضوع نہیں بنانا چاہیے۔ ان کے نزدیک یہ قومی ادارے اور ان کے شہداء پوری قوم کے مشترکہ احترام کے مستحق ہیں۔

کالم میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ٹیکس ادا کرنا ہر پاکستانی شہری کا آئینی اور قانونی فرض ہے، لہٰذا اس موضوع کو سیاسی طعن و تشنیع کا ذریعہ بنانے کے بجائے قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اسی طرح عوامی نمائندوں کو بھی اپنی مالی ذمہ داریوں اور عوام کے سامنے جوابدہی کو یقینی بنانا چاہیے۔

آخر میں مصنف کہتے ہیں کہ پاکستان کے تقریباً پچیس کروڑ عوام اپنے بہادر سپوتوں، پاک فوج کے شہداء اور غازیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے رہیں گے۔ شہداء اور غازی اس قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں، جن کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد
پاک فوج کے شہداء اور غازیوں کو سلام

15/07/2026

جنوبی ایشیا میں امریکی مداخلت — معدنیات تک رسائی یا کچھ اور؟ آنے والے دنوں میں سب کچھ واضح ہو جائے گا

مصنف کے مطابق امریکہ اس وقت شدید مالی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، اور اسی وجہ سے وہ دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے سیاسی، معاشی اور تزویراتی مفادات کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ان کے مطابق کبھی لیبیا کے تیل اور معدنی وسائل، کبھی عراق، کبھی مقبوضہ فلسطین کے غزہ میں جاری کشیدگی، اور کبھی مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں اپنی موجودگی کے ذریعے امریکہ اپنے مفادات کو آگے بڑھاتا رہا ہے۔

مصنف کا مؤقف ہے کہ سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان اور دیگر خلیجی ممالک میں امریکی موجودگی محض سیکیورٹی تعاون تک محدود نہیں بلکہ اس کے پسِ منظر میں معاشی اور تزویراتی مفادات بھی کارفرما ہیں۔ اسی تناظر میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نائن الیون کے بعد امریکہ اور نیٹو افواج نے افغانستان میں تقریباً بیس برس تک اپنی موجودگی برقرار رکھی، تاہم بعد ازاں انہیں خطے سے واپس جانا پڑا۔

مصنف کے مطابق افغانستان سے انخلا کے بعد بھی خطے میں طاقتوں کی کشمکش ختم نہیں ہوئی بلکہ نئی صورتِ حال نے جنم لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض بیرونی قوتیں پاکستان کو سیاسی، معاشی اور دفاعی طور پر کمزور کرنے کے لیے مختلف طریقوں سے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

مصنف کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی، انتشار، نفرت، فرقہ واریت اور بدامنی پھیلانے کی کوششوں کا مقصد ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق جب بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو بعض حلقے اس موقع پر افواجِ پاکستان اور انٹیلی جنس اداروں کے خلاف مہم چلاتے ہیں اور عوام میں بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور افواج نے گزشتہ کئی دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں اور ہر مشکل وقت میں ملکی سلامتی، دفاع اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ مصنف کے مطابق مختلف ادوار میں عسکری قیادت نے حالات کو قابو میں رکھنے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اہم فیصلے کیے، جن کے نتیجے میں کئی بڑے خطرات کو ٹالا گیا۔

مصنف کا دعویٰ ہے کہ بعض سیاسی عناصر بھی اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ایسے بیانیوں کو تقویت دیتے ہیں جن سے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت اور بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ ان کے مطابق بعض احتجاجی سرگرمیوں میں شہداء کے لواحقین کے جذبات کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ ریاستی اداروں کے ساتھ مذاکرات کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

مصنف کے مطابق اگر کسی احتجاج یا دھرنے میں دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے ریاست، افواجِ پاکستان اور انٹیلی جنس اداروں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جائے تو اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ احتجاج کے اصل مقاصد کچھ اور ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہی شدت دہشت گردی، انتہاپسندی اور بیرونی مداخلت کے خلاف بھی دکھائی جائے تو قومی اتحاد مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

آخر میں مصنف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش داخلی اور خارجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد، عوامی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق تمام پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک کے امن، استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد
پاک فورسز پائندہ باد

11/07/2026

11/07/2026

#گرفتاری

بلوچستان میں بدامنی اور آپریشن شعبان کی ضرورت — وقت کا اہم تقاضا

گزشتہ دنوں بلوچستان میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات اچانک رونما نہیں ہوئے بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان واقعات میں بے گناہ شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو اغوا کرکے بے دردی سے شہید کیا گیا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ تمام شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

ہمارے مؤقف کے مطابق حالیہ بدامنی پھیلانے والے عناصر نے بلوچستان میں دو محاذوں پر کارروائی کی۔ ایک جانب فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشت گرد عناصر نے معصوم شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جبکہ دوسری جانب شہداء کے لواحقین کے جائز احتجاج اور دھرنوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ شہداء کے ورثاء نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور متعلقہ اداروں اور وفاقی حکومت تک اپنی آواز پہنچائی، لیکن ہمارے نزدیک بعض عناصر نے اس صورتحال کو بنیاد بنا کر افواجِ پاکستان اور انٹیلی جنس اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا، نامناسب زبان استعمال کی اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کی کوشش کی۔

ان عناصر کا مقصد دونوں محاذوں پر افراتفری پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کے خلاف ماحول بنانا تھا۔ اگرچہ وہ محدود حد تک انتشار پھیلانے میں کامیاب ہوئے، تاہم پوری قوم نے یہ بھی دیکھا کہ شہداء کے اصل لواحقین نے صبر، تحمل اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے پیاروں کی قربانی کو قومی وقار کے ساتھ جوڑا، پاکستان، افواجِ پاکستان یا انٹیلی جنس اداروں کے خلاف کوئی غیر مناسب زبان استعمال نہیں کی، بلکہ اپنے شہداء کو پورے قومی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا۔

بدقسمتی سے بعض سیاسی عناصر نے ان سانحات پر سیاست کرنے اور اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اب انہی شہداء کے لواحقین پر مختلف الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، کیونکہ ان عناصر کی سیاسی دوکانداری کامیاب نہ ہو سکی۔

ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ہماری رائے میں ریاستی ادارے دہشت گردی، اس کے سہولت کاروں اور سرپرست عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھیں گے تاکہ ملک میں امن، استحکام اور عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ہمیں اپنی بہادر افواج، پاک فضائیہ، پاک بحریہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اس قومی جدوجہد میں اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے اور یقین رکھتی ہے کہ پاکستان امن، استحکام اور سلامتی کی اس جنگ میں کامیاب ہوگا، ان شاء اللہ۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد
افواجِ پاکستان پائندہ باد

08/07/2026

زیارت کے پرامن اور خوبصورت ماحول کو خراب کرنے کی ہر سازش ناکام ہوگی۔ پاکستان کے عوام اور سیکیورٹی ادارے ملک کے امن، ترقی اور قومی یکجہتی کے لیے متحد ہیں۔ دشمن کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، جبکہ بلوچستان امن، استحکام اور خوشحالی کی جانب اپنا سفر جاری رکھے گا۔ 🇵🇰

جوانان پاکستان نظریاتی(بلوچستان) صوبائی صدر احسان اللہ خان

#امن #بلوچستان #زیارت

07/07/2026

ہنہ اوڑک اور ضلع زیارت کے واقعات، بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی گہری سازش

ہنہ اوڑک اور ضلع زیارت میں پیش آنے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان، بالخصوص صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے، خوف و ہراس پھیلانے اور ملک کی ترقی، دفاع، سلامتی اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ہمارے مؤقف کے مطابق یہ سازشیں سرحد پار سے تیار کی جا رہی ہیں تاکہ بلوچستان میں بدامنی پیدا کر کے پاکستان کو سیاسی، معاشی اور دفاعی طور پر کمزور کیا جا سکے۔

بیان کے مطابق افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بعض بیانات اور حالیہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ہمارے نزدیک پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کو بیرونی قوتوں کی حمایت حاصل ہے، جبکہ ہندوستان اور اسرائیل جیسے ممالک پاکستان کو ہر محاذ پر کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ہمارا مؤقف ہے کہ چاہے وہ معاشی میدان ہو یا دفاعی محاذ، پاکستان پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ اسی تناظر میں ہندوستان کی جانب سے بار بار مختلف آپریشنز کی باتیں بھی خطے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں، اور ہمارا خیال ہے کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے اپنے ملک میں بھی بعض لوگ ہر دہشت گردی کے واقعے کے بعد بلا تحقیق افواجِ پاکستان، ہمارے بہادر سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں پر الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ان اداروں کی قربانیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف بھی ہے۔ پاکستان کے عوام کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ دہشت گردی صرف کسی ایک صوبے، ایک قوم یا ایک طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔

اگر ہم سب ایک پاکستانی قوم بن کر اس ناسور کے خلاف متحد ہو جائیں، تو ان شاء اللہ دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے اور پاکستان اس جنگ میں ضرور سرخرو ہوگا۔ لیکن اگر ہم اسی طرح تقسیم در تقسیم، لسانی، علاقائی اور سیاسی اختلافات میں الجھے رہے تو ہمارے مکار اور چالاک دشمن اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ نتیجتاً بے گناہ شہری اور ہمارے سیکیورٹی فورسز کے جوان دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہیں گے، جبکہ دشمن اپنے مذموم عزائم میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جب تک بلوچستان سمیت پورے ملک میں سرداری نظام، نوابی نظام اور جاگیردارانہ سوچ کا اثر و رسوخ برقرار رہے گا، تب تک غریب اور بے بس عوام مختلف نعروں کے نام پر استعمال ہوتے رہیں گے۔ کبھی قومیت، کبھی سیاست اور کبھی اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے عام لوگوں کو آگے کیا جاتا رہے گا، جس کا نقصان ہمیشہ پاکستان اور اس کے عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بہادر سپوتوں، سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کا دست و بازو بنے، قومی اتحاد کو فروغ دے اور ہر اس قوت کا مقابلہ کرے جو پاکستان کے امن، ترقی، دفاع اور سالمیت کے خلاف سرگرم ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس جدوجہد میں کامیابی پاکستان کی ہوگی اور دشمن اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہوگا، ان شاء اللہ۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد
افواجِ پاکستان پائندہ باد

05/07/2026

#شہادت

5 جولائی — نشانِ حیدر کیپٹن کرنل شیر خان شہیدؒ کا یومِ شہادت

5 جولائی پاکستان کے عظیم سپوت، نشانِ حیدر کے اعزاز سے سرفراز کیپٹن کرنل شیر خان شہیدؒ کے یومِ شہادت کا دن ہے۔ انہوں نے وطنِ عزیز کی آزادی، خودمختاری اور دفاع کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے بہادری، جرات، شجاعت اور حب الوطنی کی ایسی لازوال مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔

کیپٹن کرنل شیر خان شہیدؒ نے دشمن کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا اور آخری سانس تک مادرِ وطن کے دفاع کا حق ادا کیا۔ انہوں نے اپنی جان قربان کر دی، اپنے اہلِ خانہ کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا، مگر وطن کی عزت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔ ان کی شہادت آنے والی نسلوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ وطن کی حفاظت کے لیے ہر قربانی عظیم ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ان کی غیر معمولی بہادری اور جرات کا اعتراف دشمن نے بھی کیا۔ ان کے جسدِ خاکی کے ساتھ احترام کا برتاؤ کیا گیا، جو ایک سپاہی کی شجاعت کا غیر معمولی اعتراف سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کے عوام اپنے اس عظیم شہید کی قربانیوں پر فخر کرتے ہیں اور ان کی جرات، استقامت اور وطن سے محبت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کیپٹن کرنل شیر خان شہیدؒ کے درجات بلند فرمائے، ان کی شہادت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہمیں بھی اپنے وطن کی خدمت، اتحاد اور سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد
افواجِ پاکستان پائندہ باد

05/07/2026

ریاست سب سے مقدم ہے

ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ اپنے محافظوں کی قربانیوں، عوام کے اعتماد اور آئین کی بالادستی سے مضبوط ہوتی ہیں۔ پاکستان بھی لاکھوں قربانیوں، ہزاروں شہداء کے خون اور بے شمار غازیوں کی استقامت کا حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا دفاع، اس کی سالمیت اور قومی وحدت ہر پاکستانی کی اولین ذمہ داری ہے۔

یہ وہ سرزمین ہے جہاں ہمارے جوانوں نے اپنی جانیں قربان کرکے آنے والی نسلوں کو امن کا تحفہ دیا۔ سرحدوں پر کھڑے سپاہی، دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے افسران، پولیس، رینجرز اور انٹیلیجنس اداروں کے اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اس وطن کی حفاظت کرتے رہے ہیں۔ ان کی قربانیاں کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی میراث ہیں۔

جمہوریت میں اختلافِ رائے ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ حکومت پر تنقید، پالیسیوں پر سوال اور اصلاح کی بات ایک مضبوط جمہوری معاشرے کی علامت ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص یا گروہ ریاستی اداروں کے خلاف تشدد پر اکسانے، ریاست کی سالمیت کو نقصان پہنچانے یا دشمن کے بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کرے تو ایسے معاملات قانون کے دائرے میں آتے ہیں، جہاں فیصلہ جذبات سے نہیں بلکہ آئین اور عدالتوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

ریاست اور عوام کا رشتہ ماں اور اولاد جیسا ہوتا ہے۔ ماں اپنی اولاد کی حفاظت کرتی ہے اور اولاد ماں کی عزت کرتی ہے۔ اسی طرح ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ اپنے وطن، اپنے قومی پرچم اور اپنے آئین کا احترام کرے، جبکہ ریاست پر بھی فرض ہے کہ وہ قانون کے مطابق ہر شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔

آج پاکستان کو صرف سرحدوں پر ہی نہیں بلکہ اطلاعاتی جنگ، جھوٹے پروپیگنڈے، نفرت انگیز مہمات اور بیرونی اثرورسوخ جیسے نئے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ایسے وقت میں قومی اتحاد، ذمہ دارانہ اظہارِ رائے اور قانون کی پاسداری پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کسی ایک جماعت، طبقے یا ادارے کا نہیں بلکہ 25 کروڑ پاکستانیوں کا مشترکہ وطن ہے۔ اس کی سلامتی، ترقی اور استحکام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن پاکستان کی بقا، خودمختاری اور قومی مفاد ہر اختلاف سے بالاتر ہونا چاہیے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں، اپنے قومی اداروں کا احترام کریں، قانون کی حکمرانی پر یقین رکھیں اور ہر اس سوچ کا مقابلہ کریں جو پاکستان کے اتحاد، امن اور استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔

پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے وطنِ عزیز کو امن، استحکام اور ترقی عطا فرمائے، ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے اور افواجِ پاکستان سمیت تمام قومی محافظوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

پاکستان زندہ باد 🇵🇰
افواجِ پاکستان پائندہ باد

04/07/2026

سچ چھپ نہیں سکتا

تاریخ گواہ ہے کہ سچ کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، مگر ہمیشہ کے لیے چھپایا نہیں جا سکتا۔ جب دلیل کمزور پڑ جائے تو الزامات کا سہارا لیا جاتا ہے، اور جب حقائق کا سامنا مشکل ہو جائے تو سچ بولنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہی منظر آج خطے کی سیاست اور اطلاعاتی جنگ میں بھی دکھائی دیتا ہے۔

حالیہ دنوں افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بیان نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر چند پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی آراء کو اتنی اہمیت دی جا رہی ہے کہ ان کا سرکاری سطح پر ذکر کیا جائے، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ سوشل میڈیا پر پیش کیے جانے والے مؤقف کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ اگر کسی مؤقف میں وزن نہ ہوتا تو اس کا جواب دینے کی ضرورت بھی محسوس نہ کی جاتی۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں شہری، فوجی، پولیس اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان اس جنگ میں شہید ہوئے۔ پورے ملک نے دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد کی قیمت اپنے خون سے ادا کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان خود دہشت گردی کا نشانہ بنتا ہے تو پاکستانی عوام ایسے الزامات کو انصاف کے تقاضوں کے خلاف سمجھتے ہیں۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ترقی کا خواہاں ہے۔ ایک مضبوط، پرامن اور معاشی طور پر مستحکم پاکستان یقیناً ان عناصر کے مفاد میں نہیں جو خطے میں بدامنی اور انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی لیے اطلاعاتی جنگ، جھوٹے بیانیے اور پروپیگنڈا بھی جدید دور کے ہتھیار بن چکے ہیں۔

آج کا دور صرف سرحدوں پر لڑنے کا نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ کا بھی ہے۔ سوشل میڈیا اب ایک ایسا میدان بن چکا ہے جہاں جھوٹ اور سچ کا مقابلہ بیک وقت جاری رہتا ہے۔ اس میدان میں ہر ذمہ دار پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ جذبات کے بجائے حقائق، شائستگی اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر اپنی رائے کا اظہار کرے، تاکہ پاکستان کا مؤقف دنیا تک مؤثر انداز میں پہنچ سکے۔

پاکستان کی طاقت صرف اس کی افواج نہیں بلکہ اس کے باخبر، متحد اور ذمہ دار شہری بھی ہیں۔ جب قوم متحد ہو، ادارے مضبوط ہوں اور عوام اپنے وطن سے وفادار ہوں تو کوئی بھی منفی پروپیگنڈا زیادہ دیر تک کامیاب نہیں ہو سکتا۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قومی اتحاد، ذمہ دارانہ اظہارِ رائے اور سچ پر مبنی مؤقف کے ساتھ اپنے وطن کے مفادات کا دفاع کریں۔ کیونکہ تاریخ کا ایک اصول ہے کہ سچ کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، لیکن اسے ہمیشہ کے لیے شکست نہیں دی جا سکتی۔

پاکستان زندہ باد 🇵🇰
افواجِ پاکستان پائندہ باد

04/07/2026

سندھ طاس معاہدہ، قومی سلامتی اور پاکستان کا دوٹوک مؤقف

پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قوموں کی بقا، معیشت، زراعت اور قومی سلامتی کا بنیادی ستون ہے۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے 1960ء میں سندھ طاس معاہدہ وجود میں آیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق منظم کرنا تھا۔ ایسے معاہدوں کی پاسداری صرف دو ممالک کی ذمہ داری نہیں بلکہ عالمی امن، استحکام اور بین الاقوامی قانون کے احترام کا بھی تقاضا ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی یا پانی کو بطور دباؤ استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور ذمہ داریوں سے بھی متصادم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ایسے اقدامات یا بیانات سامنے آتے ہیں تو پاکستان واضح اور دوٹوک انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کراتا ہے اور سفارتی و قانونی ذرائع سے اپنے قومی مفادات کا دفاع کرتا ہے۔

یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے۔ قومی سلامتی، سرحدوں کے تحفظ اور عوام کے دفاع کے لیے ہماری سیاسی و عسکری قیادت ہر وقت صورتحال پر گہری نظر رکھتی ہے۔ افواجِ پاکستان اور دیگر قومی ادارے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مستقل تیاری کے ذریعے ہر ممکن خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

پاکستان نے ماضی میں بھی یہ ثابت کیا ہے کہ وہ امن کو ترجیح دیتا ہے، مگر اپنی خودمختاری، جغرافیائی سالمیت اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ امن ہماری خواہش ضرور ہے، لیکن قومی دفاع ہماری ذمہ داری ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس نے ہمیشہ پاکستان کی دفاعی پالیسی کی بنیاد رکھی ہے۔

بدقسمتی سے جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے ماحول سے سب سے زیادہ نقصان عام عوام کو پہنچتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام تنازعات کو بین الاقوامی قوانین، سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، نہ کہ ایسے اقدامات سے جو خطے میں مزید بے یقینی پیدا کریں۔

پاکستان کی اصل طاقت صرف اس کی عسکری قوت نہیں بلکہ اس کے عوام کا اتحاد، قومی یکجہتی اور اداروں پر اعتماد بھی ہے۔ دشمن اگر کبھی دہشت گردی، کبھی پروپیگنڈے، کبھی لسانیت اور کبھی فرقہ واریت کے ذریعے ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کرے، تو ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم متحد رہیں اور قومی مفادات کو ہر اختلاف سے بالاتر رکھیں۔

آج ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ جھوٹی خبروں اور نفرت انگیز پروپیگنڈے سے ہوشیار رہے، ریاستی اداروں کا احترام کرے، قومی اتحاد کو فروغ دے اور پاکستان کی ترقی، امن اور استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ مضبوط قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اتحاد، شعور، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی سے بنتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو ہمیشہ امن، ترقی اور استحکام عطا فرمائے، ہماری افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام محافظوں کی حفاظت فرمائے، اور ہمیں اپنے وطن کی خدمت، دفاع اور تعمیر میں ہمیشہ متحد رکھے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان زندہ باد 🇵🇰
افواجِ پاکستان پائندہ باد

Vous voulez que votre entreprise soit Service Photographique la plus cotée à Paris ?
Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.

Adresse


France � 58M
Paris
75000