SoulSphere

SoulSphere

Share

Heal | Inspire | Transform This community has been developed to relay the message of peace, through Islamic teachings, working together to raise the love of our beloved PROPHET MUHAMMAD ﷺ

Travelling around the world for spirituality and possesses extremely beneficial tools for preventing hardships and difficulties. All claims made on this page are testable and should not be taken on faith, انشاءا

31/03/2026

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

*مسبعات عشر برائے حفاظت و خیروبرکت*

10 اذکار جو 7، 7 بار پڑھے جاتے ہیں۔ حفاظت و خیر وبرکت کےلئے مجرب ہیں، بزرگان دین، خاص طور پر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ کے معمولات میں سے ہیں۔ غنیة الطالبین اور احیاء العلوم میں مکمل واقعہ موجود ہے۔

حکایت۔ سعادت مندوں کا عمل؛

امام غزالی رحمة اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت ابراھیم تیمی رحمة اللہ علیہ کی کعبة اللہ میں ملاقات کا خوبصورت مکمل واقع لکھا ہے، اور حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ
میں تم سے محض رضاء الٰہی کےلئے محبت کرتا ہوں۔ اور میرے پاس ایک تحفہ ہے میں چاہتا ہوں کہ تمہیں دے دوں۔
آپ نے پوچھا تو فرمایا کہ سورج کے طلوع ہونے، اس کے زمین پر پھیلنے اور غروب ہونے سے پہلے
سات، سات بار (یہ دس اذکار پڑھیں)

1; بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (1) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (3) مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (4) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (6) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔ (آمین)

2; بِسْمِ الله الرَّحْمنِ الرَّحِيم

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (1) مَلِكِ النَّاسِ (2) إِلَهِ النَّاسِ (3) مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (4) الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ (5) مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (6)

3; بِسْمِ الله الرَّحْمنِ الرَّحِيم

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (1) مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ (2) وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (3) وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ (4) وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (5)

4; بِسْمِ الله الرَّحْمنِ الرَّحِيم

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ (4)

5; بِسْمِ الله الرَّحْمنِ الرَّحِيم

قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ (1) لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ (2) وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (3) وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَا عَبَدْتُمْ (4) وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (5) لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ (6)

6; اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔

7: سُبْحَان الله وَالَحمدُ لله وَلَا إلهَ إلَّا الله واللهُ أَكَبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بالله الْعلَيِّ الْعَظِيمِ۔

8: الَّلهُمَّ صَلِّ عَلَي سَيِّدنَا مُحمَّدٍ وَعَلي آلٍ سَيِّدنِا مُحمَّدٍ كما صَليْتَ عَلِي سَيَدِنَا إبْرَاهِيَم وَعَلَي آلٍ سَيِّدِنَا َإِبْرَاهيِم وَبَارِكْ عَليَ سَيِّدِنا مُحَمَّدٍ وَعَلَي آل سَيِّدِنَا مُحَمِّدٍ كما بَارَكْتَ عَلَي سَيِّدِنَا إِبْرَاهيِمَ و علي آل سَيِّدِنا إبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِين إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔

9; الَّلهُمَّ اغْفِرْ لِى وَلوِالِدِيَّ وَلْلمُؤْمِنِين وَاْلُمْؤمِنَاتِ وَاْلُمسْلِمينَ وَالْمسْلمِاتِ الْأحْيَاءِ مِنْهُم وَالأْموَاتِ۔بِرَحْمَتِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

10: الَّلهُمَّ افْعَلْ بِى وَبِهِم عَاجِلًا وَ آجِلًا فِي الدِّينِ والدُّنْيَا والآخِرةِ ما أَنْت لَهُ أَهْلٌ وَلَا تَفْعَلْ بِنَا يَا مَوْلَاَنا مَا نَحْنُ لَهُ أهلُ إنَّكَ غَفُوُرٌ حَلِيمٌ جَوَادٌ كَرِيمٌ رَءُوفٌ رَحِيمٌ۔

ایے اللہ ﷻ، اے پروردگار میرے اور ان سب کے ساتھ ابھی اور بعد میں دین، دنیا اور آخرت کے بارے میں وہ معاملہ فرمانا جو تیری شایان شان ہو۔ وہ معاملہ نہ فرمانا جس کے ہم مستحق ہیں۔ بےشک تو بخشنے والا، بردبار، جواد، کرم فرمانے والا، مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔

اس وظیفہ کو صبح (قبل طلوع شمس) و شام (قبل غروب شمس) پڑھنا نہ چھوڑنا۔

اور اس کی فضيلت حضوراکرم ﷺ سے پوچھ لینا۔
پھر حضوراکرم ﷺ نے حضرت ابراھیم تیمی رحمة اللہ علیہ سے بوقت ملاقات پوچھنے پر فرمایا؛

والذي بعثني بالحق نبـياً إنه ليعطى العامل بهذا وإن لم يرني ولم ير الجنة إنه ليغفر له جميع الكبائر التي عملها، ويرفع الله تعالى عنه غضبه ومقته، ويأمر صاحب الشمال أن لا يكتب عليه خطيئة من السيئات إلى سنة، والذي بعثني بالحق نبـياً ما يعمل بهذا إلا من خلقه الله سعيداً ولا يتركه إلا من خلقه الله شقياً۔

اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا؛ جو بھی یہ عمل کرے گا اس کو اسی کے مثل دیا جائے گا۔ اگرچہ اس نے مجھے اور جنت کو نہ دیکھا ہو،
اس کے تمام کبیرہ گناہ بخش دئے جائیں گے جو اس نے کئے ہیں،
اور اللہ ﷻ اس سے اپنا غضب اور عذاب دور فرما دے گا،
اور بائیں جانب والے فرشتے کو حکم فرمائے گا کہ اس کا ایک سال تک کوئی گناہ نہ لکھے،
اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا؛ اس عمل کو وہی کرے گا جس کو اللہ ﷻ سعادت مندی سے سرفراز فرمایا، اور وہی ترک کرے گا (خیر سے) محروم (رہنا) جس کا مقدر ہوگی۔

حضرت سیدنا ابراھیم تیمی نے چار ماہ تک کچھ کھایا نہ پیا، شائد یہ اس کے بعد کا واقعہ ہے۔
یہ قرات کا وظیفہ ہے اگر اس پر کچھ اضافہ کرلے یا اسی قدر پر اکتفا کرے، دونوں طرح بہتر ہے۔ کیوںکہ قرآن کریم تمام ذکر و فکر اور تمام دعاؤں کی فضيلت کا جامع ہے۔ جبکہ غور و فکر کے ساتھ پڑھا جائے۔
(احیاء العلوم، كتاب ترتيب الأوراد وتفصيل إحياء الليل۔الورد الأول ما بـين طلوع الصبح إلى طلوع الشمس)

مسبعات عشر حفاظت و خیر و برکت کےلئے بہت قیمتی تحفہ ہیں۔ اس کے ثمرات دنوں میں بندہ خود محسوس کرتا ہے۔ زندگی میں کم از کم ایک دن ضرور کرلیں اور بہتر ہے روزانہ ورنہ جب وقت ہو ۔۔۔

یہ بھی ذہن نشین کر لیں کہ اللہ ﷻ کو فرائض کے ساتھ ساتھ نفلی اعمال میں سب سے پسندیدہ ترین وہ عمل ہے جو رب کریم کی رضاء کےلئے ہو اور حضوراکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اور ہمیشہ ہو،
جبکہ فرائض کی پابندی، شرعی حدود پر عمل کرنا لازم ہے، شرعی حدود کا خیال رکھنے والا اللہ ﷻ کی پناہ میں ہوتا ہے اس کے معاملات درست کر دئے جاتے ہیں۔ حضوراکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہ) کو نصیحت فرمائی؛

حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں ایک دن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے ساتھ سواری پر پیچھے تھا،
آپ ﷺ نے فرمایا : اے لڑکے ! بیشک میں تمہیں چند اہم باتیں بتلا رہا ہوں (ہمیشہ یاد رکھنا):

احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْکَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَکَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلْ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَی أَنْ يَنْفَعُوکَ بِشَيْئٍ لَمْ يَنْفَعُوکَ إِلَّا بِشَيْئٍ قَدْ کَتَبَهُ اللَّهُ لَکَ وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَی أَنْ يَضُرُّوکَ بِشَيْئٍ لَمْ يَضُرُّوکَ إِلَّا بِشَيْئٍ قَدْ کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْکَ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُف۔

١)… تم اللہ ﷻ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا،
٢)… تو اللہ ﷻ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے،
٣)… جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ ﷻ سے مانگو،
٤)… جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ ﷻ سے مدد طلب کرو،
٥)… اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ ﷻ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے،
٦)… اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہوجائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ ﷻ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے،
قلم اٹھا لیے گئے اور (تقدیر کے) صحیفے خشک ہوگئے ہیں. (حَسَنٌ صَحِيحٌ)
(سنن الترمذی 2516, کتاب: قیامت کا بیان)

اور اللہ ﷻ نے قرب نوافل میں رکھا ہے،
اس لئے ہم فرض نماز کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی اہتمام کرتے ہیں، زکوة کے ساتھ ساتھ صدقہ و خیرات ، والدین ، اہل وعیال کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کرتے ہیں اور اس سے بات بھی بن جاتی ہے۔
اور حقیقت تو یہ ہے کہ اعمال صالح کی توفیق ملنا بھی رب کریم کا فضل و کرم ہے اور یہ رضاء کی علامت ہے۔
حضوراکرم ﷺ کا فرمان ہے؛

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَی اللَّهِ تَعَالَی أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ قَالَ وَکَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا عَمِلَتْ الْعَمَلَ لَزِمَتْهُ

حضرت عائشہ (رضی اللہ عنھا) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ ﷻ کو اعمال میں سب سے پسندیدہ ترین وہ عمل ہے کہ جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہی ہو اور حضرت عائشہ (رضی اللہ عنھا) جب بھی کوئی عمل کرتی تھیں تو پھر اسے اپنے لئے لازم کرلیتی تھیں۔
(صحیح مسلم 1824, کتاب: مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان)

حضوراکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کے ثمرات کو سمجھنا اور بیان کرنا ممکن ہی نہیں بجز عطاء کے۔ رب کریم جس کو چاہتا ہے اپنی حکمت سے بصیرت عطاء فرما دیتا ہے۔ حضرت ابو محمد مرجانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ؛
اے مخاطب ؛ نبی رحمت صلى الله عليه وآلہ و سلم پر درود و سلام بھیجنے کا نفع حقیقت میں تیری ہی طرف لوٹتا ہے، گویا تو اپنے لئے دعاء کر رہا ہے۔
(تفسیر صراط الجنان)

درود و سلام افضل نفلی عبادت ہے اور درود و سلام بھیجنے کی اہمیت پر تفسیر القرطبی میں ہے؛

حضرت سہل بن عبد اللہ رحمة اللہ علیہ نے کہا : حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھنا (نفلی) عبادت میں سے افضل (نفلی) عبادت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں نے اس امر کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے، پھر اس کے بارے میں مومنوں کو حکم دیا۔ تمام عبادات اس طرح نہیں۔

ابو سلیمان دارانی رحمة اللہ علیہ نے کہا : جو اللہ تعالیٰ سے کسی حاجت کے سوال کرنے کا ارادہ کرے تو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں درود پڑھنے سے آغاز کرے پھر اپنی حاجت کا سوال کرے پھر اس کا اختتام بھی درود پر کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ دونوں درود قبول فرماتا ہے۔ وہ اس سے زیادہ کریم ہے کہ درمیان والے (یعنی دعائیں) کو رد کردے۔
(تفسیر القرطبی، مفسر: ابو عبداللہ القرطبی رحمة اللہ علیہ۔سورۃ نمبر 33 الأحزاب)

ایک مسلمان کی سوچ، اس کی آرزؤ رب کریم کی رضاء کا حصول ہونی چاہئے،
اس کو جاننا چاہئے کہ کونسا عمل اور کونسے کلمات رب کریم کی بارگاہ میں پسندیدہ ہیں اور رب کریم کے پسندیدہ بندوں کی علامات کیا ہیں ؟؟؟
تاکہ بندہ وہ کلمات، وہ افعال زندگی کے معمولات کا حصہ بنائے اور اللہ ﷻ کے پسندیدہ بندوں کا قرب حاصل کیا جائے تاکہ ان سے مستفید ہو سکے۔

اللہ ﷻ کے حبیب احمد مصطفی ﷺ پر درود وسلام بھیجنا بھی رب کریم کی بارگاہ میں پسندیدہ عمل ہے ۔
رب کریم خود اپنے حبیب احمد مصطفی ﷺ پر اپنے شان کے مطابق درود (رحمت ) بھیج رہا ہے اور اس کے فرشتے بھی ،
اور اس رب کریم نے اپنے بندوں پر بھی رحم و کرم فرمایا اور درود و سلام کی نعمت عطاء کی ، تاکہ اللہ ﷻ کے پیارے حبیب احمد مصطفی ﷺ کی امت پر اللہ ﷻ کی رحمت و برکت کا نزول بھی ہو اور درود و سلام بھیجنے والے کو رب کریم اپنی شان کریمی سے سلامتی بھی عطاء فرما دے۔
واللہ اعلم

اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ، وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّه*۔۔۔اَمِين يَا رَبَّ الْعَالَمِين

*اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَائِ الْبَارِدِ۔ اَمِين يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن*

*اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى ُمحَمَّدِ ُّوعَلَى اَلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ ابْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدُ مَجِيِد*
*اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمّدِ ٌوعَلَى اَلِ مُحَمّدٍ كَمَابَارَكْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيُد مَّجِيد*

Want your business to be the top-listed Media Company in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Lahore