Daanigraphyy
31/05/2026
Apricot season 🫶❤️
ٹھڈی کَسّی👌❤️
18/04/2026
💔کچھ لوگ زندگی میں شور نہیں کرتے مگر اپنی خاموشی میں ایک مکمل سوچ ایک معیار اور ایک راستہ چھوڑ جاتے ہیں فہد حمزہ بھی ایسا ہی انسان تھا جس کی زندگی کو اگر ترتیب سے دیکھا جائے تو وہ صرف کامیابیوں کی کہانی نہیں بلکہ علم نظم و ضبط اور سچ کی تلاش کا ایک مسلسل سفر تھی بچپن سے ہی وہ مختلف تھا اسکول میں ٹاپر رہا کالج میں نمایاں رہا اور یونیورسٹی میں گولڈ میڈلسٹ بنا مگر اس کے لیے یہ سب اعزازات مقصد نہیں تھے بلکہ سیکھنے کے مراحل تھے اس کے بعد اس نے سول سروس کا امتحان بھی پاس کیا جو اس کی ذہانت اور محنت کا ایک اور ثبوت تھا مگر آزاد کشمیر میں کوٹہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس راستے پر آگے نہ بڑھ سکا مگر اس نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اپنا راستہ بدلا اور جرمنی چلا گیا جہاں اس نے اپنی علمی جستجو کو جاری رکھا فہد کا اصل تعلق کتابوں سے تھا وہ صرف پڑھتا نہیں تھا بلکہ ہر چیز کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا دنیا بھر کا فلسفہ اس نے پڑھا خاص طور پر نوم چومسکی کو بہت پڑھتا تھا اور ان کی طرح اس کا اپنا ایک ورلڈ ویو تھا مگر اس نے کبھی اندھی تقلید نہیں کی وہ ہر بات کو دلیل منطق اور حوالہ کے ساتھ پرکھتا تھا اور اس کے نزدیک کوئی بھی بات اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی تھی جب تک اس کے پیچھے ٹھوس دلیل نہ ہو وہ اساتذہ سے سوال کرتا تھا اور ایسے سوال کرتا تھا جو صرف نصاب تک محدود نہیں ہوتے تھے بلکہ سوچ کے نئے دروازے کھول دیتے تھے جبکہ دوستوں کے ساتھ اس کی گفتگو بھی عام نہیں ہوتی تھی بلکہ علمی ہوتی تھی جہاں ہر بات میں ریفرنس ہر رائے کے پیچھے دلیل اور ہر نقطہ گہرائی کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا وہ ورلڈ مورالٹی جیسے موضوعات پر بھی گھنٹوں بات کرتا تھا اور انسان معاشرہ اور سچائی کو سمجھنے کی مسلسل کوشش میں رہتا تھا اس کی زندگی میں نظم و ضبط ایک نمایاں پہلو تھا دن کے کئی کئی گھنٹے کتابوں کے ساتھ گزارنا وقت کی پابندی کرنا اور اپنی روٹین پر قائم رہنا اس کی عادت تھی وہ جانتا تھا کہ بغیر ڈسپلن کے نہ علم حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی ایک مضبوط کردار بنتا ہے اس کی سادگی بھی اس کی پہچان تھی وہ دکھاوے سے دور خاموش طبیعت کا مالک اور اپنی دنیا میں مگن رہنے والا انسان تھا اگر کوئی اسے سرسری نظر سے دیکھتا تو شاید اسے ایک عام انسان سمجھتا مگر جو اس کے قریب بیٹھتا وہ جان لیتا کہ یہ انسان اندر سے کتنا مالا مال ہے علم میں سوچ میں اور کردار میں اس کا حلقہ احباب محدود تھا مگر منتخب تھا وہ ہمیشہ ایسے لوگوں کے ساتھ رہتا تھا جو سوچنے والے تھے سیکھنے والے تھے اور سوال کرنے والے تھے اس کے لیے ہر نشست ایک علمی گفتگو ہوتی تھی نہ کہ صرف وقت گزارنے کا ذریعہ ہم سب کو یقین تھا کہ وہ آگے چل کر ایک بڑا نام بنے گا نہ صرف اپنی کامیابیوں کی وجہ سے بلکہ اپنی سوچ اپنے کردار اور اپنے علم کی بنیاد پر اور وہ ہمارے خاندان کے ساتھ ساتھ پورے علاقے کا نام روشن کرے گا مگر برلن میں اس کا اچانک بچھڑ جانا ایک ایسا صدمہ ہے جسے الفاظ میں مکمل بیان نہیں کیا جا سکتا کچھ خلا ایسے ہوتے ہیں جو کبھی پُر نہیں ہوتے اور فہد کا جانا بھی ایسا ہی ایک خلا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگ مر کر بھی ختم نہیں ہوتے بلکہ اپنی باتوں اپنی سوچ اور ان لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں جنہیں وہ بدل کر جاتے ہیں اور فہد حمزہ بھی انہی لوگوں میں سے ہے اللہ اسے اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے اس کی مغفرت فرمائے اس کے درجات بلند کرے اور اس کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے 💔💔کہ وہ اس عظیم غم کو برداشت کر سکیں آمین
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Dubai