ALi RaJa
30/05/2026
پاکستان فضائیہ خاموشی سے ایک بڑے مرحلے کی تیاری کرتی دکھائی دے رہی ہے۔دفاعی رپورٹس کے مطابق پاکستان ایئر فورس چینی جے-35 “کلاؤڈ ڈریگن” اسٹیلتھ فائٹر کو مستقبل میں اپنے بیڑے کا حصہ بنانے کے لیے صرف طیارہ خریدنے پر نہیں، بلکہ اس کے پورے نظام پر کام کر رہی ہے۔ یعنی بات صرف جہاز لانے کی نہیں، بلکہ ایئر بیسز، مینٹیننس لائنز، پائلٹ ٹریننگ، ڈیٹا فیوژن، کمانڈ سسٹمز اور نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر کی ہے۔
یہی اصل فرق ہے۔
چوتھی نسل کا طیارہ خریدنا ایک بات ہے، مگر پانچویں نسل کا اسٹیلتھ فائٹر آپریٹ کرنا بالکل دوسری بات ہے۔ جے-35 جیسے طیارے کے لیے صرف رن وے کافی نہیں ہوتا؛ اسے ایسے گراؤنڈ سسٹمز، محفوظ ڈیٹا لنکس، جدید ریڈار نیٹ ورک، الیکٹرانک وارفیئر سپورٹ، مخصوص ہتھیاروں کی انٹیگریشن اور تربیت یافتہ ٹیکنیکل اسٹاف چاہیے ہوتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان فضائیہ اسی تیاری کو مرحلہ وار آگے بڑھا رہی ہے تاکہ جب جے-35 آئے تو وہ صرف شو پیس نہ ہو، بلکہ فوراً ایک مؤثر جنگی پلیٹ فارم کے طور پر کام کر سکے۔
جے-35 کلاؤڈ ڈریگن کو چین کا پانچویں نسل کا ٹوئن انجن ملٹی رول اسٹیلتھ فائٹر کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد فضائی برتری، گہرے حملے، کم ریڈار سگنیچر، اندرونی ہتھیاروں کی کیریج، جدید سینسر فیوژن اور دشمن کے مضبوط ایئر ڈیفنس ماحول میں آپریشنز کرنا ہے۔ آسان الفاظ میں یہ ایسا طیارہ ہے جو دشمن کو پہلے دیکھنے، پہلے نشانہ بنانے اور خود کو کم ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگر پاکستان واقعی جے-35 کو اپنے فضائی بیڑے کا حصہ بناتا ہے تو یہ صرف ایک نیا طیارہ نہیں ہوگا، بلکہ پاکستان کی فضائی حکمتِ عملی میں ایک بڑی چھلانگ ہوگی۔
آج پاکستان کے پاس جے ایف-17 بلاک تھری اور جے-10 سی جیسے جدید پلیٹ فارمز موجود ہیں، مگر جے-35 کا اضافہ پاکستان کو پانچویں نسل کی اسٹیلتھ صلاحیت کے قریب لے جائے گا۔ بھارت کے رافیل، ایس-400، مستقبل کے ایئر ڈیفنس نیٹ ورک اور خطے میں بدلتے فضائی توازن کے مقابلے میں یہ ایک بہت بڑا اسٹریٹجک جواب بن سکتا ہے۔
سب سے دلچسپ بات یہ بھی رپورٹ کی جا رہی ہے کہ جے-35 کے انجن اور ٹیکنالوجی سے مستقبل میں جے ایف-17 کے اگلے ورژنز یا کسی نئے پاکستانی فائٹر پروگرام کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان صرف طیارہ خریدنے والا ملک نہیں رہے گا، بلکہ ٹیکنالوجی جذب کرنے اور اسے اپنے نظام میں شامل کرنے والا ملک بنے گا۔
یہی وہ سوچ ہے جو کسی فضائیہ کو صرف تعداد سے نہیں، معیار سے طاقتور بناتی ہے۔
پاکستان فضائیہ کی اصل طاقت ہمیشہ یہی رہی ہے کہ محدود وسائل کے باوجود اس نے دشمن کے مہنگے سسٹمز کا جواب بہتر تربیت، بہتر حکمتِ عملی اور اسمارٹ انٹیگریشن سے دیا۔ اگر جے-35 واقعی پاکستان کے منصوبے کا حصہ بنتا ہے تو یہ بھارت کے لیے ایک واضح پیغام ہوگا کہ پاکستان صرف آج کی جنگ نہیں، آنے والی جنگ کے لیے بھی تیاری کر رہا ہے۔
البتہ یہاں احتیاط ضروری ہے۔ ابھی تک طیاروں کی تعداد، قیمت، ڈیلیوری ٹائم لائن، ہتھیاروں کی انٹیگریشن اور مکمل آپریشنل اسٹیٹس کے بارے میں حتمی سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے اسے حتمی اعلان نہیں بلکہ ایک سنجیدہ دفاعی امکان اور پاکستان فضائیہ کی مستقبل کی سمت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
مگر سمت بالکل واضح ہے۔
پاکستان فضائیہ اب صرف روایتی لڑاکا طیاروں پر نہیں، بلکہ اسٹیلتھ، ڈیٹا فیوژن، ڈرون انٹیگریشن، الیکٹرانک وارفیئر اور نیٹ ورک سینٹرک جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔
آنے والی فضائی جنگ میں وہی جیتے گا جو دشمن کو پہلے دیکھے گا، پہلے سمجھے گا، پہلے کنفیوز کرے گا اور پھر درست وقت پر وار کرے گا۔
جے-35 کلاؤڈ ڈریگن اگر پاکستان کے آسمان کا حصہ بنا تو یہ صرف ایک طیارے کی آمد نہیں ہوگی، بلکہ پاکستان فضائیہ کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
افواج پاکستان پائندہ باد
شباہت احمد ہاشمی 🇵🇰🇨🇳🐉
21/05/2026
جس فیلڈ مارشل کو سات لاکھ فوج سلیوٹ کرتی ہے اگر وہ فیلڈ مارشل شہید کے باپ کو سلیوٹ کرے تو اندازہ کر لیجیے کہ فوج کی نظر میں اپنے شہید کا مقام کیا ہے اور وہ 9 مئی کو اپنے شہیدوں کی تضحیک کرنے والوں کو کیوں معاف نہیں کرتے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Dubai