History Exposed
آپ کے خیال میں ہٹلر ہیرو تھا یا ولن؟
مکمل ویڈیو لنک پہلے کمنٹ میں۔
Part 31
اچھا، پولینڈ کی ریاست بھلے ہی ٹوٹ چکی تھی، مگر اس کی بحریہ کے حوصلے فولادی تھے۔ پولینڈ کی آبدوز 'اورزیل' (Orzel) کی داستان کسی فلمی مہم جوئی سے کم نہیں۔ اس آبدوز کو پکڑ کر اسٹونیا میں نظر بند کر دیا گیا تھا، مگر اس کے ملاحوں نے ہمت نہ ہاری۔
17 ستمبر کی رات، انہوں نے خاموشی سے بندرگاہ کی روشنیاں کاٹ دیں، پہرے داروں کو قابو کیا اور بغیر کسی نقشے کے بپھرے ہوئے سمندر میں فرار ہو گئے۔ یہ ملاح اندھیروں میں بھٹکتے رہے، یہاں تک کہ وہ بحفاظت اسکاٹ لینڈ پہنچ گئے۔
ویسے حقیقت یہ ہے کہ وہ جرمن لشکر کا کچھ خاص نقصان کیے بغیر ہی دورر پہنچ گئے۔
اچھا، جہاں سمندروں میں جنگ کی داستان لکھی جا رہی تھیں، وہیں مقبوضہ پولینڈ میں انسانیت سسک رہی تھی۔ ہٹلر نے اب پولینڈ کو باقاعدہ طور پر نازی انتظامِ حکومت، جسے 'جنرل گورنمنٹ' کہا گیا، اس کے حوالے کر دیا تھا۔
ہنس فرینک اور آرتھر گریسر جیسے کٹر نازیوں کو وہاں کا حکمران بنایا گیا۔ ان کا مقصد واضح تھا: پولینڈ کی قیادت کو جڑ سے اکھاڑنا اور اسے ایک ایسی غریب ریاست بنانا جہاں پولش عوام جرمنوں کے غلام بن کر رہیں۔
(جاری ہے)
#تاریخ
#معلومات
آپ کے خیال میں ہٹلر ہیرو تھا یا ولن؟
ہٹلر اور دوسری جنگِ عظیم پر مکمل ویڈیو لنک پہلے کمنٹ میں۔
#تاریخ
#معلومات
آپ کے خیال میں ہٹلر ہیرو تھا یا ولن؟
خیرزمینی راستی سے، دریاؤں کو عبور کر جرمن لشکر پولیند کے زمیں پر آگ پھیلائے بڑھے جارہا تھا۔
زمین پر جنگ، فضا میں جنگ، سمندر میں جنگ۔۔۔خوف کی جنگ، انسانیت کے خلاف جنگ۔۔۔تین براعظموں کے ممالک یعنی برطانیہ، فرانس، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریہ، اب جرمنی کے خلاف جنگ میں شامل ہو چکے تھے۔
حتی کہ اب کینیڈا نے بھی جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا۔ ان تمام اتحادی ممالک نے مل کر سپریم وار کونسل بنائی۔ اور یوں یہ دوسری عالمی جنگ بن چکی تھی۔
ہٹلر پہلے ہی یہ دعویٰ کر چکا تھا کہ اس کے اصل شکار یہودی ہوں گے۔ گزشتہ سردیوں میں اس نے کہا تھا کہ اگر جنگ ہوئی تو اس کا نتیجہ یورپ میں یہودی نسل کا خاتمہ ہو گا۔
#تاریخ
#معلومات
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Multan
35804